تحریکِ تحفظ ختم نبوت آزاد کشمیر کا وفد اپنے سرپرست اعلیٰ شیخ الحدیث مولانا محمد سلیم اعجاز حفظہ اللہ کی قیادت میں کراچی کے دورہ پر آیا تو اس خاکسار کی بھی خادم قرآن مولانا عبد الوحید کشمیری کے مہمان خانے میں وفد سے تفصیلی ملاقات ہوئی، وفد کے روح رواں بھائی حافظ مقصود کشمیری اور سرپرست اعلیٰ شیخ الحدیث مولانا سلیم اعجاز کشمیری سے پرانی یاداللہ ہے، ہر وہ شخص میرے دل کے بہت قریب ہے کہ جو ختم نبوت اور شمع ناموس رسالت ﷺکا مستانہ اور پروانہ ہے،آزاد جموں و کشمیر میں عقیدہ ختم نبوتؐ کے خلاف ہونے والی سازشوں کے سامنے قانونی بندھ باندھنے والے ختم نبوت کے یہ دیوانے اور پروانے اسی لئے اس خاکسار کے دل میں بستے ہیں کہ اللہ پاک کی توفیق سے دفاع ختم نبوت ﷺ کا کام یہ خوب انداز میں کر رہے ہیں، اس موقع پر کراچی میں مقیم کشمیری علمائے کرام، طلبہ اور دینی شخصیات کے اجتماع سے شیخ الحدیث مولانا محمد سلیم اعجاز نے عقیدہ ختمِ نبوت کی اہمیت پر نہایت مدلل خطاب فرمایا۔انہوں نے کہا کہ عقیدہ ختمِ نبوت ایمان کی اساس اور امتِ مسلمہ کا مرکزِ اتحاد ہے۔ جس قوم کے دل میں عشقِ رسول ﷺ زندہ ہو، اسے کوئی فتنہ زیر نہیں کر سکتا۔ کشمیر سے اٹھنے والی یہ تحریک صرف ایک علاقائی تحریک نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے ایمان کی تجدید ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں فتنہ قادیانیت طویل عرصے سے مختلف شکلوں میں سرگرمِ عمل ہے۔
ضلع کوٹلی میں ان کے کم از کم 18منظم مراکز قائم ہیں، جہاں دعوتِ باطل کے ذریعے نئی نسل کو فکری گمراہی کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔ غیر ملکی سرپرستی میں یہ عناصر ریاست کی اسلامی شناخت اور نظریاتی بنیاد کو کمزور کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ایسے حالات میں 2003ء میں تحریکِ تحفظ ختم نبوت آزاد کشمیر کا قیام ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوا۔ دعوتی میدان میں تحریک کو غیر معمولی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ الحمدللہ سینکڑوں قادیانی افراد تحریک کی کاوشوں سے تائب ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ یہ ایمان افروز کامیابی کسی بھی قانونی اقدام سے بڑھ کر اللہ کی تائید و نصرت کا مظہر ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ 29 اپریل 1973 ء کو آزاد کشمیر اسمبلی دنیا کی پہلی قانون ساز اسمبلی تھی جس نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد منظور کی۔ یہ قرارداد میجر (ر)محمد ایوب نے پیش کی تھی، جس نے بعد میں پاکستان کی 7 ستمبر 1974 ء کی قومی قرارداد کے لئے بنیاد فراہم کی۔ یوں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ میں آزاد کشمیر کو قائدانہ مقام حاصل ہوا۔ تاہم آزاد کشمیر کی قرارداد پر عملدرآمد نہیں ہو سکا ۔تحریک کے کارکنان نے اس قرارداد کے عملی نفاذ کے لئے مسلسل جدوجہد جاری رکھی۔ بالآخر 44 سال کے بعداس وقت کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کے دور حکومت میں 6 فروری 2018 ء کو آزاد کشمیر اسمبلی نے متفقہ طور پر ختمِ نبوت بل منظور کیا۔ اس تاریخی قانون سازی کے تحت نکاح فارم میں حلف نامہ ختمِ نبوت شامل کیا گیا اور ریاستی آئین میں عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ کو مزید واضح اور مضبوط بنایا گیا۔
تحریک کے کارکنان نے صرف پارلیمان ہی نہیں، بلکہ عدالتوں میں بھی فتنہ قادیانیت کے خلاف بھرپور جدوجہد کی۔ آزاد کشمیر ہائی کورٹ میں تحریک کی جانب سے ایک اہم رٹ پٹیشن عبدالوحید قاسمی بنام آزاد حکومت دائر کی گئی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ 1973 ء کی قرارداد پر مکمل عملدرآمد کیا جائے اور قادیانیوں کو آئین کا پابند بنایا جائے۔ عدالت نے تحریک کے چارٹر آف ڈیمانڈ کو اصولی طور پر تسلیم کیا، جو تحریک کی آئینی و قانونی جدوجہد کا ایک سنہری باب بن گیا۔تاہم، ایک بڑا تشویش ناک پہلو آج بھی باقی ہے۔ تاحال ریاست میں ووٹر لسٹوں میں قادیانیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ ظاہر نہیں کیا گیا۔ اس اہم آئینی مسئلے پر 2مئی 2024ء کو اسمبلی کے ایک معزز رکن نے تحریک کے ذمہ داران کی مشاورت سے آزاد کشمیر اسمبلی میں ایک اہم قرارداد پیش کی، جس میں الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا گیا کہ قادیانی ووٹروں کو مسلمانوں سے الگ درج کیا جائے تاکہ آئین ریاست کی روح اور 6فروری 2018 ء کے قانون کی تکمیل ہو سکے۔ یہ قرارداد دراصل تحریکِ تحفظ ختم نبوتؐ آزاد کشمیر کے دیرینہ مطالبے کی پارلیمانی تائید تھی جسے عوامی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔انہوں نے کہا کہ قادیانی لابی آج بین الاقوامی سطح پر کشمیر کو امن اور رواداری کے تجربہ گاہ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان منصوبوں کا اصل مقصد ریاست کے اسلامی تشخص کو مٹانا ہے۔ ایسے میں تحریکِ تحفظ ختم نبوتؐ آزاد کشمیر ایمان، علم اور عزم کے ساتھ اس فکری یلغار کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن چکی ہے۔ان حالات میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ منبر و محراب سے عقیدہ ختمِ نبوتؐ کی تعلیم عام کریں،نوجوان نسل کو فکری گمراہی سے محفوظ رکھیں، اور آئینی و قانونی اصلاحات کے تسلسل کو برقرار رکھیں۔ عقیدہ ختمِ نبوت کی روشنی ایمان، اتحاد اور عشقِ مصطفی ﷺ کی بنیاد ہے اور کشمیر کے کوچہ و بازار اور برف پوش پہاڑ ختم نبوت ﷺکی روشنی سے قیامت تک منور رہیں گے ، انہوں نے کہا کہ عقیدے کی پاسبانی اور امت کو بیدار کرنا علماء کی اولین ذمہ داری ہے۔ختم نبوتﷺ ایمان کی بنیاد ہے اور ایمان ریاست کی روح‘ جو قوم اپنے نبی ﷺ سے وفادار ہو، دنیا کی کوئی طاقت اسے مغلوب نہیں کر سکتی۔