پاک افغان مذاکرات کے المناک ناکامی سے امن کی امیدوں کا قتل اور ایک نئے سیکورٹی چیلنج کا آغاز سامنا دونوں ممالک کے ساتھ ساتھ یہاں کی عوام کو بھی کرنا پڑ رہا ہے جس کے بدثمرات بہت تیزی کے ساتھ منظر عام پر آرہے ہیں اور ساتھ ہی تجارتی سرگرمیاں بھی تقریباً ختم ہوتی نظر آرہی ہیں اور تجارتی نقصانات بھی بے حد اور بے حساب ہورہا ہے دونوں ممالک کے تجارت کرنے والوں کا۔
پاکستان اور افغان طالبان کی عبوری حکومت کے درمیان قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کا کسی ٹھوس پیش رفت کے بغیر ختم ہو جانا، خطے میں ایک نئے دور کے آغاز کا نہیں بلکہ پرانے خطرات کی تجدید کا اعلان ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد سرحدوں پر سلامتی و حفاظت، باہمی بد اعتمادی کے بحران اور ان سب سے بڑھ کر افغان سر زمین سے پاکستان میں جاری دہشت گردی کی مہلک لہر کو روکنا تھا مگر بدقسمتی سے کابل سے آنے والی غیر لچک دار اور ہٹ دھرمی پر مبنی پالیسی نے نہ صرف سفارتی کوششوں کا گلا گھونٹ دیا بلکہ اسلام آباد کو اپنی قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ایک نئے اور سخت سلامتی و حفاظتی موقف بھی اختیار پرنے پر بھی مجبور کر دیا ہے۔
نظریاتی یکجہتی کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے تو دوسری طرف ٹی ٹی پی کے سائے میں مذاکرات کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا وہ کردار ہے جس پر افغان طالبان حکومت کوئی ٹھوس کارروائی کرنے پر تیار نظر نہیں آرہی ہے۔ پاکستان کا واحد اور غیر مشروط مطالبہ یہ تھا کہ افغان سر زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے، جس کا مطلب ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں، کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچوں اور مالیاتی ذرائع کا خاتمہ تھا۔ ٹی ٹی پی محض ایک عسکری گروہ نہیں بلکہ افغان طالبان کے ساتھ گہری نظریاتی اور تاریخی یکجہتی رکھتا ہے۔ یہ دونوں تنظیمیں ایک ہی مکتبِ فکر سے وابستہ ہیں اور ان کی قیادت میں کئی دہائیوں سے سرحد پار گہرا بھائی چارہ اور عسکری تعاون رہا ہے۔ طالبان نے ٹی ٹی پی کو اپنا ’’قومی اثاثہ‘‘ سمجھا اور اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ اس گروہ کو پاکستان کے خلاف بطور پراکسی استعمال کرنے یا کم از کم اسے پناہ دینے کی پالیسی سے دستبردار نہ ہوسکے۔
افغان طالبان کا یہ مؤقف ہے کہ ’’ٹی ٹی پی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے‘‘ اور یہ ایک کھوکھلا عذر ہے کیونکہ انہوں نے ہی ان عسکریت پسندوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں اور انہوں نے پاکستان پر متعدد بار حملوں کو ممکن بنایا۔ اس رویے نے دوحہ معاہدے کے تحت دی گئی عالمی ضمانتوں اور برادرانہ تعلقات کے تمام تقاضوں کو پامال کرکے رکھ دیا گیا۔ پاکستان کے لیے یہ صرف سلامتی و حفاظت کا نہیں بلکہ افغان قیادت کی جانب سے تاریخی دھوکہ دہی اور وعدہ خلافی کا سوال بن نہ صرف دونوں ممالک بلکہ عالمی برادری کی سامنے بھی لا کھڑا کیا ہے۔
پاکستانی قیادت نے مذاکرات کی ناکامی کے بعد کھل کر یہ الزام عائد کیا ہے کہ کابل میں بھارتی اثر و رسوخ کا فتنہ اور پاک افغان امن دشمن عناصر بیرونی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور اس بیرونی قوت کا مرکزی کردار بھارت کھل کر سامنے آیا ہے۔ یہ الزام خطے کی جیو پولیٹیکل تاریخ میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔ پاکستان کا دیرینہ مؤقف ہے کہ بھارت ہمیشہ سے افغان سر زمین کو استعمال کرکے پاکستان میں عدم استحکام اور دہشت گردی کو فروغ دیتا آرہا ہے۔ یہ سلسلہ حامد کرزئی اور اشرف غنی کی حکومتوں کے دور میں بھی جاری رہا تھا۔ اب جب افغان طالبان نے ان مذاکرات میں کسی بھی ٹھوس یقین دہانی سے انکار کیا اور الٹا پاکستان پر ہی داعش خراسان (کے۔ آئی ایس آئی ایس) کی حمایت کا الزام عائد کرنے کی کوشش کی تو پاکستانی حکام نے اسے بھارتی منصوبہ بندی کا تسلسل قرار دیا۔ وزیر دفاع کا واضح بیان تھا کہ کابل میں ’’دہلی سے کٹھ پتلی تماشا‘‘ چلایا جا رہا ہے، محض ایک جملہ نہیں بلکہ اس بات کا اظہار ہے کہ مذاکراتی میز پر پاکستان کو جن غیر لچک دار اور غیر منطقی رویوں کا سامنا کرنا پڑا ان کے پیچھے کوئی مفادات کا ٹکراؤ اور تخریب کاری کرنے والا عنصر موجود تھا۔ بھارت کا مقصد صاف اور واضح ہے کہ پاکستان کو اپنے مغربی اور مشرقی دونوں سرحدوں پر مصروف رکھ کر اس کی اقتصادی بحالی کو سبوتاژ کرنا اور بین الاقوامی سطح پر اس کے کردار کو مشکوک بنانا ہے۔ مذاکرات کی ناکامی اور اس سے پیدا ہونے والے سلامتی اور حفاظتی بحران نے افغان پناہ گزینوں کے حساس اور انسانی مسئلے کو بھی براہ راست سلامتی اور حفاظتی کے مسئلے سے جوڑ کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان نے کئی دہائیوں تک لاکھوں افغان بھائیوں کی بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ میزبانی کا بھرپور انداز میں بوجھ اٹھائے رکھا تھا۔ تاہم اس انسانی ہمدردی کی قیمت اب قومی سلامتی کی قیمت پر چکائی جا رہی ہے۔
جب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ افغان طالبان حکومت دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کرے گی تو پاکستان کے لیے فوجی کارروائی کرنا مجبوری بن گئی ہے کہ وہ دہشت گردوں کی آسان نقل و حرکت کو توڑے جو اکثر پناہ گزینوں کے کیمپس اور غیر دستاویزی بستیوں کی آڑ میں کام کرتی ہے۔ حکومت کی جانب سے غیر دستاویزی پناہ گزینوں کی واپسی کی پالیسی اس سلامتی و حفاظتی ضرورت کا براہ راست نتیجہ تھی۔ یہ اقدام اگرچہ انسانی ہمدردی کے تناظر میں زیر بحث آیا تھا مگر ریاست کے لیے یہ اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کی آخری حفاظتی ڈھال بن گیا ہے اور ساتھ ہی سلامتی و حفاظت کے لیے سیاسی عزائم بھی۔
سلامتی اور حفاظت کی یہ عدم یقینی پاکستان کی اقتصادی بحالی اور علاقائی روابط کی کوششوں کو براہِ راست خطرے میں ڈال رہی ہے۔ چین، پاکستان اقتصادی راہ داری (سی پیک) کے مغربی راستے کی حفاظت، ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی اور توانائی کے منصوبے اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارتی رابطے، یہ سب کچھ افغانستان میں امن اور استحکام سے مشروط ہیں۔ تنازعات کا تسلسل ان تمام اقتصادی منصوبوں پر منفی اثرات مرتب کرے گا اور اقتصادی استحکام اور آگے بڑھنے کے راستے مسدود ہونے کے خدشات پیدا ہوتے نظر آرہے ہیں جو کہ بہت گمبھیر صورت حال پیدا کرسکتے ہیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان ایک نئی اور غیر جذباتی حکمتِ عملی پر عمل درآمد کرنے کے لیے تیاری کرے، ساتھ ہی دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز میں شدت لائی جائے تاکہ ان کا اندرونی نیٹ ورک کا صفایا اور سرحد پار سے ہونے والے خطرات کا مؤثر، فوجی اور فوری جواب دیا جائے۔ ’’خود مختاری کی حفاظت غیر گفت و شنید ہے‘‘ علاقائی جیو پولیٹیکل دباؤ جس میں چین، ایران اور وسطی ایشیا کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ علاقی ڈھانچہ یا خاکہ تشکیل دیا جائے تاکہ افغانستان کو بین الاقوامی دہشت گردی کا گڑھ بننے سے روکا جا سکے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ عالمی سطح پر سچائی کا ہر رخ اور عالمی طاقتوں کو ٹھوس شواہد کے ساتھ افغان طالبان کی دوغلی پالیسی سے آگاہ کرے تاکہ ان پر دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے مؤثر بین الاقوامی دباؤ ڈالا جاسکے۔
مذاکرات کی ناکامی نے ایک تلخ حقیقت واضح کر دی ہے کہ پاکستان کو اب اپنے قومی مفادات کا تحفظ اپنی شرائط پر کرنا ہوگا۔ یہ ایک مشکل اور کٹھن مرحلہ ہے جہاں ریاست کو اپنے تمام داخلی اور خارجی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، عزم اور دانش مندی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا تاکہ اندرونی و بیرونی سازشوں کی روک تھام کرتے ہوئے اس کا قلع قمع باآسانی کیا جاسکے اور ملکی سلامتی و حفاظت کو مضبوط ترین کردیا جائے اور اس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو حکومت اور فوج کی حمایت کرتے ہوئے ان کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ اقوام عالم کو یہ پیغام پہنچایا جاسکے کہ پاکستان عوام اور تمام سیاسی جماعتیں اس مشکل وقت میں حکومت اور فوج کے ساتھ یکجا ہوکر شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت وطن عزیز کے ہر ذرے کی حفاظت فرمائیں اور ملک کی حفاظت کرنے والوںکی بھی حفاظت فرمائیں اور بیرونی و اندرونی ہر سازش کو ناکام بنا دیں الٰہی آمین۔
