عالمی سیاست اور مذہبی تحریکوں کے میدان میں ایسے واقعات کم ہی پیش آتے ہیں جب ایک عالم دین کی ایک تقریر سے ایک پورے ملک کا میڈیا چیخ اٹھے۔ لیکن آج کل جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ پاکستان کی معروف مذہبی اور سیاسی شخصیت جمعیت اہل حدیث اور قرآن و سنہ موومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر ابتسام الٰہی ظہیر کا حالیہ دعوتی اور تبلیغی دورہ بنگلہ دیش نے نہ صرف جنوبی ایشیاء کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ ہندوستان کو اس قدر بے چین کر دیا ہے کہ اس کا میڈیا مسلسل چیخ و پکار کر رہا ہے۔ ایک مولوی ہی بھاری پڑ گیا ہے ان پر!اس دورے کو مزید دلچسپ بنانے والا پہلو یہ ہے کہ اسی دوران پاکستان کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل ساحر شمشاد مرزا کا بھی بنگلہ دیش کا دورہ ہوا جسے بھارتی میڈیا نے ایک سازش کا روپ دے کر پروپیگنڈہ کا ہتھیار بنا لیا ہے۔ وہ الزام لگا رہے ہیں کہ پاکستانی فوج اور علامہ ابتسام الٰہی ظہیر مل کر مجاہدین کو ہندوستان میں لانچ کرنے کے مشن پر بنگلہ دیش آئے ہیں۔ یہ محض ایک جھوٹا پروپیگنڈہ ہے، جس کی حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔پہلے تو علامہ ابتسام الٰہی ظہیر کی شخصیت اور ان کے کام کا مختصر تعارف ضروری ہے تاکہ قارئین کو یہ سمجھ آ سکے کہ وہ کون ہیں اور کیوں ان کی آواز دنیا بھر میں گونج رہی ہے۔
علامہ ابتسام الٰہی ظہیر پاکستان کی ایک ممتاز مذہبی اور سیاسی شخصیت ہیں۔ وہ جمعیت اہل حدیث کے مرکزی امیر ہیں جو ایک سلفی تحریک ہے جو قرآن اور سنت پر مبنی تعلیمات کو فروغ دیتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ قرآن و سنہ موومنٹ کے بانی اور سربراہ بھی ہیں جو پاکستان میں دینی جدوجہد، سیاسی بیداری اور سماجی اصلاح کے لئے کام کر رہی ہے۔ انجینئرنگ سمیت پانچ علوم میں ماسٹرز کی ڈگری کے حامل علامہ ابتسام الٰہی ظہیر کی جدوجہد محض مذہبی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے۔ وہ پاکستان کی عملی سیاست میں متحدہ مجلس عمل، دفاع پاکستان کونسل جیسی تحاریک کا حصہ رہنے کے ساتھ قومی اسمبلی کے الیکشن میں بھی حصہ لے چکے ۔کشمیر سمیت علاقائی مسائل پر ان کی آواز ہمیشہ بلند رہی ہے۔ ان کی تقاریر گرجدار آواز میں ہوتی ہیں جو لوگوں کے دلوں کو چھو جاتی ہیں۔ ان کی وائرل ویڈیوز میں وہ سرینگر میں پاکستانی پرچم لہرانے کی بات کرتے ہیں جو کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی علامت ہے۔ یہ تقاریر نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں وائرل ہوتی ہیں اور لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتی ہیں۔ اب آتے ہیں ان کے حالیہ دورہ بنگلہ دیش کی طرف۔ یہ دورہ دعوتی اور تبلیغی نوعیت کا ہے جس کا مقصد بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات میں مزید مضبوطی اور مسلمانوں میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو پھیلانا اور اسلامی اتحاد کو فروغ دینا ہے۔ بنگلہ دیش میں علامہ صاحب کا استقبال تاریخی تھا۔ لاکھوں لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔ جلسوں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے اور ان کی تقاریر کو خوب پذیرائی ملی۔ ڈھاکہ سے لے کر چٹاگانگ تک بنگلہ دیش کے مختلف شہروں میں ان کے جلسے منعقد ہوئے جہاں انہوں نے اسلام کی تعلیمات، اتحاد امت اور علاقائی مسائل پر گفتگو کی۔ خاص طور پر انہوں نے ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایسا للکارا کہ بنگلہ دیش کا بچہ بچہ ان کا دیوانہ ہو گیا ہے۔ ان کی تقریر میں مودی کی پالیسیوں پر تنقید تھی، خاص کر کشمیر اور بابری مسجد جیسے مسائل پر۔ انہوں نے کہا کہ مودی کی حکومت مسلمانوں پر ظلم کر رہی ہے اور کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو کچلا جا رہا ہے۔ یہ للکار نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ پوری جنوبی ایشیاء میں گونج اٹھی۔ نتیجتاً بنگلہ دیش کے نوجوانوں میں ایک نئی روح پھونک دی گئی اور وہ علامہ صاحب کی باتوں سے متاثر ہو کر اسلامی اتحاد کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔لیکن یہ سب بھارت کو کیسے برداشت ہو سکتا ہے؟ بھارتی میڈیا جو ہمیشہ پاکستان مخالف پروپیگنڈے میں مصروف رہتا ہے نے اس دورے کو ایک سازش کا روپ دے دیا۔ وہ مسلسل یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ علامہ ابتسام الٰہی ظہیر حافظ سعید کے قریبی ساتھی ہیں یا ان کے نمائندہ ہیں۔ یہ ایک مکمل جھوٹ ہے اور حقیقت سے اس کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔
حافظ سعید جو لشکر طیبہ اور جماعت الدعوہ کے سابق امیر رہے ہیں ایک الگ شخصیت ہیں جن کی تنظیمیں جہادی نوعیت کی تھیں اور وہ کشمیر میں مسلح جدوجہد سے وابستہ تھیں۔ اس کے برعکس علامہ ابتسام الٰہی ظہیر کی جدوجہد سیاسی اور دینی ہے۔ وہ پاکستان میں انتخابی سیاست میں حصہ لیتے ہیں اور ان کی تحریک قرآن و سنت کی بنیاد پر پرامن جدوجہد کرتی ہے۔ بھارتی میڈیا کی یہ کوشش محض علامہ صاحب کو بدنام کرنے کی ہے تاکہ ان کی آواز کو دبایا جا سکے۔ یہ ایک پرانی حکمت عملی ہے جو بھارت پاکستان کے مذہبی رہنمائوں کے خلاف استعمال کرتا ہے۔اس پروپیگنڈے کو مزید ہوا دینے کے لئے بھارتی میڈیا نے جنرل ساحر شمشاد مرزا کے دورے کو بھی جوڑ دیا۔ جنرل ساحر جو پاکستان کی فوج کے اعلیٰ ترین افسران میں سے ایک ہیں اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین ہیں کا دورہ بنگلہ دیش دفاعی تعاون اور دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے لئے تھا۔ یہ ایک سفارتی دورہ تھا جس میں فوجی تعاون، انسداد دہشت گردی اور علاقائی استحکام پر بات چیت ہوئی۔ بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان تاریخی روابط ہیں جو 1971ء کی جنگ کے باوجود اب بہتر ہو رہے ہیں۔ جنرل ساحر کا دورہ اسی تسلسل کا حصہ ہے۔ لیکن بھارتی میڈیا نے اسے ایک سازش بنا کر پیش کیا۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستانی فوج اور علامہ ابتسام الٰہی ظہیر مل کر بنگلہ دیش کو استعمال کرتے ہوئے ہندوستان میں مجاہدین کو لانچ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ یہ الزام اتنا مضحکہ خیز ہے کہ اس پر ہنسی آتی ہے۔ کیا ایک تبلیغی دورہ اور ایک دفاعی دورہ کو ملا کر اس طرح کی سازش گھڑی جا سکتی ہے؟ یہ محض بھارت کی پریشانی کا اظہار ہے کہ پاکستان کی سفارتی اور مذہبی رسائی بنگلہ دیش تک پہنچ رہی ہے جو بھارت کے لئے ایک ہمسایہ ملک ہے اور جہاں بھارت اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔یہ چیخیں کیوں؟ اس کی وجوہات گہری ہیں۔ پہلی وجہ تو کشمیر ہے۔ علامہ صاحب کی تقاریر میں کشمیر کا تذکرہ ہمیشہ ہوتا ہے اور وہ سرینگر میں پاکستانی پرچم لہرانے کی بات کرتے ہیں جو بھارت کے لیے ایک زخم ہے۔ 2019ء میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے کشمیر میں حالات خراب ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بھارت کی مذمت ہو رہی ہے۔ علامہ صاحب کی آواز اسے مزید بلند کرتی ہے۔ دوسری وجہ بنگلہ دیش کی سیاست ہے۔ بنگلہ دیش میں دو جماعتی سیاسی نظام ہے لیکن وہاں مذہبی جماعتوں کا اثر بھی ہے۔ علامہ صاحب کا دورہ وہاں کے مسلمانوں میں ایک نئی لہر پیدا کر سکتا ہے جو بھارت کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ تیسری وجہ علاقائی سیاست ہے۔ پاکستان، بنگلہ دیش اور چین کے درمیان تعلقات بہتر ہو رہے ہیں جو بھارت کی ’’ایکٹ ایسٹ‘‘پالیسی کے لیے خطرہ ہے۔ جنرل ساحر کا دورہ اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔تاریخی پس منظر کو دیکھیں تو بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی ہیاور اب دونوں ممالک تجارت اور دفاع میں تعاون بڑھا رہے ہیں۔ علامہ صاحب کا دورہ اسے مذہبی جہت دیتا ہے۔ بھارت کو ڈر ہے کہ یہ اتحاد اس کی تنہائی کا باعث بن سکتا ہے۔ آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ علامہ ابتسام الٰہی ظہیر کا دورہ بنگلہ دیش پاکستان کی سفارتی اور مذہبی کامیابی کی علامت ہے۔ ایک طرف فوج کی اعلیٰ قیادت دفاعی تعاون بڑھا رہی ہے دوسری طرف مذہبی رہنما اسلامی اتحاد کو فروغ دے رہے ہیں۔ بھارت کی چیخیں اس کی کمزوری کا اظہار ہیں۔ اگر بھارت واقعی امن چاہتا ہے تو اسے کشمیر کا مسئلہ حل کرنا چاہیے نہ کہ پروپیگنڈے کرنا۔ علامہ صاحب کی آواز گونجتی رہے گی اور بنگلہ دیش کا بچہ بچہ ان کا دیوانہ بنتا رہے گا۔ یہ وقت بتاتا ہے کہ ایک مولوی کی آواز کتنی طاقتور ہو سکتی ہے!