اس میں کوئی شک نہیں کہ وقت کے نشیب و فراز اور مادی مفادات کی کشش کے زیرِ اثر، انسان کی یادداشت اکثر سہولت کے تابع ہو جاتی ہے۔ وہ شعوری یا لاشعوری طور پر اپنے ماضی کے اقوال و افعال کو مٹا دینا چاہتا ہے جب وہ اس کے موجودہ مفادات سے ہم آہنگ نہ رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی رہنما اور بڑی بڑی قومیں بھی اکثر اپنی تاریخ کو نئے سرے سے لکھنے کی کوشش کرتی ہیں، یہ توقع کرتے ہوئے کہ دنیا ان کے تضادات کو بھول کر ان کے تازہ ترین‘‘سچ’’کو قبول کر لے۔ مگر تاریخ، جو اپنے قلم کی وفادار ہے، کبھی بھولتی نہیں۔
جب بھارت نے مئی 2025 ء کے اوائل میں پاکستان کے خلاف بلا اشتعال جارحیت کی، تو دنیا نے وہ نادر لمحہ دیکھا جب منافقت اور مفاد پرستی برہنہ ہو کر سچ کے سامنے کھڑی ہوگئیں۔ کشیدگی کے عروج پر، اُس وقت کے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جو صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کے زیرِ سایہ خدمات انجام دے رہے تھے، نے بیان دیا کہ‘‘امریکہ کا پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات سے کوئی تعلق نہیں۔’’یہ بیان بظاہر غیرجانبداری کا تاثر دینے کے لیے تھا، مگر اس نے نئی دہلی کو مشتعل کر دیا، جو اپنی مہم جوئی میں مغربی حمایت کی توقع رکھتا تھا۔
لیکن جب پاکستان کی مسلح افواج نے 8 اور 9 مئی کو فیصلہ کن اور جارحانہ ردِعمل دیا، دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا اور بھارتی افواج کو پسپا ہونے پر مجبور کیا، تو حالات یکسر بدل گئے۔ بھارت کا غصہ گھبراہٹ میں تبدیل ہوگیا، اور وہی امریکہ جو غیر دلچسپی کا دعویدار تھا، اچانک خود کو ایک خودساختہ ”گاؤں کا چودھری” بن کر اس لڑائی کو رکوانے کے لیے کود پڑا— وہی لڑائی جسے وہ اس وقت کے مبینہ حالات و واقعات کے درپردہ بھڑکانے میں شریک تھا۔ خدانخواسطہ اگر بھارت فاتح ہوتا، تو کوئی چودھری امن کی تلقین کے لیے سامنے نہ آتا۔
مگر تقدیر کے حکم اور پاکستان کی قیادت کی دوراندیشی کے نتیجے میں واقعات نے ایک ایسا رخ اختیار کیا جس نے دنیا کو حیران کر دیا۔ پاکستان کا تیز، منظم اور حکیمانہ ردِعمل نہ صرف قومی وقار کا محافظ ثابت ہوا بلکہ ایک ایسی اسٹریٹجک پختگی کا مظاہرہ کیا جس کی کسی کو توقع نہ تھی۔ تاہم، جیسے ہی دھواں چھٹنے لگا، واشنگٹن نے فوری طور پر بیانیہ بدلنے کی کوشش کی۔ اپنی عالمی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے امریکہ نے دعویٰ کیا کہ‘‘ہم نے جنگ رکوا دی۔’’یوں پاکستان کی فتح کی داستان کو امریکی ثالثی کے سراب میں دفن کر دیا گیا۔
مگر اس ظاہری پردے کے پیچھے مفادات کی ایک گہری جنگ جاری تھی۔ اگر اس تصادم کے دوران بھارت کے امریکی ساختہ طیارے گرائے جاتے، بجائے فرانسیسی‘‘رافیلز’’کے، تو واشنگٹن کا ردِعمل بالکل مختلف ہوتا۔ پاکستان کی دفاعی کامیابی پر جو خاموشی چھا گئی، وہ غیرجانبداری کی نہیں بلکہ حساب کتاب کی تھی۔ امریکی دفاعی کمپنیوں کے بھارت میں بڑے معاشی مفادات تھے، اور ان معاہدوں کو محفوظ رکھنا ان کے لیے اصل ترجیح بن گیا۔
جھڑپوں کے بعد کئی دنوں تک مغربی میڈیا متضاد خبریں دیتا رہا‘ پہلے نقصانات سے انکار کیا، پھر کم رپورٹ کیا، اور آخرکار سکون کا کریڈٹ امریکی‘‘سفارتی کوششوں’’کو دیا۔ حقیقت میں، جیسے ہی دھول بیٹھی، واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان خاموش مذاکرات شروع ہوئے جو ایک دس سالہ دفاعی تعاون کے فریم ورک پر منتج ہوئے‘ ایک ایسا معاہدہ جس نے اگلی دہائی کے لیے بھارت کو امریکہ کا سب سے بڑا اسلحہ خریدار بنا دیا۔ یہی اصل کھیل تھا‘ جنگ کے پردے میں منافع، شراکت داری کے لباس میں مفاد۔
لیکن پاکستان فریب میں نہیں آیا۔ پاکستان کی قیادت اور دفاعی و حکمتِ عملی کے ادارے طویل عرصے سے جنوبی ایشیا میں مغربی منافقت کے اس پیٹرن کو سمجھ چکے ہیں‘ یعنی اعتدال کی تعریف کرنا مگر جارحیت کو انعام دینا، امن کی تبلیغ کرنا مگر اسلحہ بیچنا۔ مئی 2025ء کا سبق بالکل واضح ہے؛ ہمیں اپنی سلامتی کا دارومدار دوسروں کی بدلتی ہوئی وفاداریوں پر نہیں رکھنا چاہیے۔ قومی دفاع صرف خود انحصاری، علاقائی تعاون، اور اندرونی اتحاد و استحکام پر قائم رہ کر ہی محفوظ ہو سکتا ہے۔
امریکی بحری بیڑا‘‘انٹرپرائز ’’، جو کبھی پاکستان کی حمایت کا وعدہ کرتا تھا، آج تک اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لئے نہیں پہنچ سکا۔ یہ بھی ایک سبق ہے کہ سہولت پر مبنی اتحاد آزمائش کی گھڑی میں قائم نہیں رہتے۔ دنیا ان کی عزت کرتی ہے جو اصول پر ڈٹے رہیں، نہ کہ ان کی جو منظوری کے منتظر رہیں۔ اس دور کی لین دین پر مبنی سفارت کاری میں پاکستان کو اپنے ہی قطب نما کے مطابق سفر کرنا ہوگا‘ طاقت کے ذریعے امن، اور عزت کے ساتھ دوستی۔
جب دنیا کے طاقتور ممالک تجارتی مفادات کی خاطر اپنے بیانیے بدلتے ہیں، پاکستان کی استقامت نظم و وقار کی علامت بن کر ابھرتی ہے۔ مئی 2025ء کے واقعات محض ایک فوجی مہم نہیں تھے؛ یہ ایک انکشاف تھا‘ جس نے عالمی سیاست کے دوہرے معیار کو بے نقاب کیا، جہاں اخلاقیات منڈیوں کے آگے جھک جاتی ہیں اور سچ تجارت کے شور میں دب جاتا ہے۔ مگر اس سب ہنگامے میں، پاکستان کا عزم اور استقلال ہر بیان سے زیادہ بلند آواز میں گونجتا رہا۔
تاریخ یاد رکھے گی کہ جب دوسروں نے ہچکچاہٹ دکھائی، پاکستان نے عمل کیا۔ جب دنیا کے ’’چودھریوں‘‘ نے کہانی بدلنے کی کوشش کی، حقیقت زمین پر ویسی ہی قائم رہی۔ مئی 2025 ء کا تصادم محض دو ہمسایہ ممالک کے درمیان جھڑپ نہ تھا، بلکہ ایک قومی عزم کا امتحان تھا— اور پاکستان نے یہ امتحان عزت و وقار کے ساتھ پاس کیا۔
آنے والے سالوں میں نئے چیلنجز اور نئی آزمائشیں آئیں گی‘ اتحادوں کے دباؤ، امداد کے لالچ، اور مفادات کے جال۔ مگر اگر اس باب سے ایک مستقل سبق حاصل کیا جا سکتا ہے، تو وہ یہی ہے؛ ہمارا مقدر دوسروں کے ہاتھوں میں نہیں بلکہ ہمارے اپنے فیصلوں کی طاقت میں ہے۔
جب طاقت کی سیاست سچائی پر پردہ ڈالنے لگے اور دنیا کے خودساختہ طاقتور تاریخ کو اپنے مفاد کے مطابق بدلنے کی کوشش کریں، تو پاکستان کی آواز صاف اور اٹل رہنی چاہیے۔ کیونکہ جب دنیا ڈانواں ڈول تھی، پاکستان ثابت قدم کھڑا تھا اور یہی وہ گونج ہے جو آج بھی مئی کے بعد کی فضاؤں میں سنائی دیتی ہے۔