1947ء کا سال برصغیر کی تاریخ میں ایک ایسا موڑ بن کر آیا جس نے صدیوں پر محیط انسانی اقدار، تہذیب اور باہمی احترام کے تمام اصولوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ تقسیم ہند کے نام پر جو طوفان اٹھاوہ انسانی ضمیر پر ایک دائمی داغ بن گئے۔ اکتوبر اور نومبر 1947 ء میں ڈوگرہ فوج، ہندو انتہا پسند تنظیموں خصوصاً راشٹریہ سیوک سنگھ (RSS) اور دیگر کو ریاستی سرپرستی میں اس منصوبے پر مامور کیا گیا کہ جموں کے مسلمانوں کو یا تو ختم کر دیا جائے یا ان کی آبادی اس حد تک کم کر دی جائے کہ وہ کبھی سیاسی فیصلوں پر اثرانداز نہ ہو سکیں۔ چند ہی ہفتوں میں دو لاکھ پچاس ہزار سے زائد مسلمان بے دردی سے قتل کر دیے گئے،گھروں کو آگ لگا دی گئی۔ یہ قتلِ عام کسی جذباتی ہجوم کا نتیجہ نہیں ، ریاستی منصوبہ بندی کے تحت کی گئی ایک منظم نسل کشی تھی۔جموں کا قتلِ عام صرف ایک جغرافیائی سانحہ نہیں تھا بلکہ ایک نظریاتی جنگ کا آغاز تھا۔ بھارت نے وہی منصوبہ 1947 ء میں شروع کیا تھا جسے وہ آج کشمیر میں نئے آئینی اقدامات کے ذریعے جاری رکھے ہوئے ہے۔ آرٹیکل 370 اور 35A کے خاتمے کے بعد وہی آبادیاتی تبدیلی کا کھیل پھر دہرایا جا رہا ہے، مگر تاریخ کی گواہی یہی ہے کہ ظلم کبھی دائمی نہیں رہتا۔ جموں کے شہداء نے جو خون دیا وہ رائیگاں نہیں گیا۔ ان کے لہو نے کشمیر کی آزادی کی تحریک کو وہ ایندھن دیا جو آج بھی دہک رہا ہے۔ ہر کشمیری کے سینے میں جموں کے شہداء کی یاد ایک چراغ کی مانند جلتی ہے۔ ان کی قربانیوں نے پوری وادی کو مزاحمت کی علامت بنا دیا ہے۔ جب سری نگر کے نوجوان بھارتی افواج کے سامنے پتھر اٹھاتے ہیںتو ان کی آنکھوں میں وہی چمک دکھائی دیتی ہے جو جموں کے مظلوموں کی آنکھوں میں تھی۔ یہ ظلم کی تاریخ نہیں، یہ قربانیوں کی داستان ہے۔جموں کے مسلمانوں نے اپنی زمینوں سے بے دخلی قبول کی مگر غلامی نہیں۔ وہ ہجرت کر کے پاکستان پہنچے مگر ان کے دل جموں میں رہ گئے۔ ان کی نسلیں آج بھی اس خواب کے ساتھ زندہ ہیں کہ ایک دن وہ واپس اپنی مٹی پر لوٹیں گے۔ ان کا لہو آج بھی کشمیر کی وادیوں میں بہنے والے دریاؤں کے ساتھ ہمکلام ہے۔ ظلم کے خلاف ان کی قربانیاں اس بات کا اعلان ہیں کہ قومیں اگر اپنے شہداء کو بھول جائیں تو ان کی شناخت مٹ جاتی ہے مگر جموں کے شہداء کی یاد نے کشمیر کے دل کو زندہ رکھا ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو کشمیر کو آج بھی مزاحمت کی علامت بنائے ہوئے ہے ۔دنیا نے 9/11 کے بعد دہشت گردی کے نام پر جنگوں کو یاد رکھا مگر 6/11 یعنی 6 نومبر 1947 ء کو جموں میں ہونے والا انسانیت کا قتل بھلا دیا۔ کسی عالمی عدالت نے ان مظلوموں کے لیے انصاف کا اعلان نہیں کیا، کسی کمیشن نے ان کے آنسو نہیں پونچھے۔ مگر تاریخ کی عدالت خاموش نہیں۔ جموں کے مظلوموں کی روحیں آج بھی وقت کے ایوانوں میں گونج رہی ہیں۔ وہ سوال کر رہی ہیں کہ انصاف کب آئے گا؟ انسانیت کب بیدار ہو گی؟ بھارت کب اپنے جرائم کا اعتراف کرے گا؟ یہ سوال وقت کے سینے پر لکھے جا چکے ہیں۔ دنیا انہیں نظر انداز کر سکتی ہے مگر مٹا نہیں سکتی۔کشمیر کی آزادی کی تحریک دراصل جموں کے شہداء کے خون کا تسلسل ہے۔ یہ قربانیوں کی وہ زنجیر ہے جس کا ہر حلقہ ایمان اور مزاحمت سے جڑا ہے۔ بھارت چاہے جتنے قوانین بدل لے وہ تاریخ نہیں بدل سکتا۔ جموں کے شہداء نے اپنی جانیں دے کر کشمیر کو وہ سبق دیا جو دنیا کی کسی یونیورسٹی میں نہیں پڑھایا جا سکتا کہ آزادی خون مانگتی ہے اور جو قوم خون دیتی ہے وہ غلام نہیں رہتی۔ ان کا خون آج بھی دنیا کی عدالتوں سے انصاف مانگ رہا ہے۔ جب تک جموں کے شہداء کو تسلیم نہیں کیا جاتا، کشمیر کا مقدمہ ادھورا رہے گا۔دنیا اگر واقعی انسانی حقوق کی علمبردار ہے تو اسے جموں کے ان معصوموں کی چیخیں سننی ہوں گی جنہیں صرف اس لیے مٹا دیا گیا کہ وہ مسلمان تھے۔ یہ وہ ظلم ہے جو وقت کے دامن پر داغ بن کر ہمیشہ چمکتا رہے گا۔ جموں کے قتلِ عام کو کوئی تاریخ، کوئی طاقت، کوئی جھوٹ چھپا نہیں سکتا۔ آج جب ہم 6 نومبر کی یاد مناتے ہیں تو یہ صرف ایک دن نہیں بلکہ ضمیر کا امتحان ہے۔ اس دن کی یاد ہمیں بتاتی ہے کہ قوموں کی زندگی میں کچھ زخم وقت سے نہیں بلکہ انصاف سے بھرے جاتے ہیں۔ جموں کا زخم بھی ایسا ہی ہے۔ اس کے بھرنے کے لیے محض یاد نہیں، انصاف درکار ہے۔ وہ انصاف جو ابھی تک مؤخر ہے۔ کشمیر کے نوجوان جب نعرے لگا کر کہتے ہیں کہ ’’ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے‘‘، تو ان کے لہجے میں جموں کے شہداء کی گونج سنائی دیتی ہے۔ یہ گونج صدیوں تک مٹنے والی نہیںاور یہ قربانیاں آنے والی نسلوں کے ضمیر کو جگاتی رہیں گی۔جموں کے شہداء نے وہ چراغ جلایا تھا جو آج بھی وادی کشمیر کے دلوں میں جل رہا ہے، اور ایک دن یہ روشنی ظلم کی تاریکی کو چیر کر انصاف کا سورج بن کر طلوع ہوگی۔
