Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

زوال پذیر نظام انصاف

ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کی 2025 ء کی رول آف لا انڈیکس رپورٹ نے دنیا کے ضمیر کو ایک بار پھر جھنجھوڑ دیا ہے۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ دنیا کے 68 فیصد ممالک میں قانون کی حکمرانی میں کمی آئی ہے۔ کہیں آمریت کے سائے گہرے ہو رہے ہیں کہیں طاقتور طبقات قانون کو غلام بنا رہے ہیں۔ مگر اس زوال کی فہرست میں پاکستان کی حالت سب سے زیادہ افسوسناک ہے۔
ڈنمارک ایک بار پھر پہلے نمبر پر ہے۔ وہاں قانون کی بالادستی کی شرح 0.90 ہے۔ اس کے بعد ناروے، فن لینڈ، سویڈن اور نیوزی لینڈ۔ یہ وہ قومیں ہیں جہاں عدالتیں عوام کی خدمت کرتی ہیں پولیس عوام کی محافظ ہے اور قانون سب کے لیے برابر۔ وہاں انصاف کے دروازے پر غریب بھی سر اٹھا کر جاتا ہے اور امیر بھی خوف کے ساتھ۔
اور ادھر پاکستان؟ بدستور 130ویں نمبر پر۔ اس کا سکور صرف 0.37 ہے۔ یعنی 2024 ء کے مقابلے میں 2.3 فیصد مزید زوال۔ پچھلے سال 129واں نمبر تھااور اس سال 130واں۔ بظاہر ایک درجے کی کمی مگر حقیقت میں پورا نظام نیچے جا گرا۔یہ رپورٹ دنیا کے لاکھوں افراد اور ماہرین سے حاصل اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ قانون کی حکمرانی کے آٹھ ستون ہیں حکومتی حدود، کرپشن کا کنٹرول، بنیادی حقوق، انصاف تک رسائی، شفاف عمل، شہری انصاف، فوجداری انصاف اور قانون کا نفاذ۔ہر ستون پر ہمارا نظام لرزتا دکھائی دیتا ہے۔ گویا یہ عمارت اپنی بنیادوں سے ہل چکی ہے۔
پاکستان میں قانون کی حکمرانی کی یہ زبوں حالی کوئی نئی بات نہیں۔ برسوں سے ہم انہی فہرستوں کے نچلے درجوں میں بھٹک رہے ہیں۔ کبھی 126ویں، کبھی 129ویں، اب 130ویں۔
ہم نے اپنے آپ سے یہ سوال کبھی نہیں کیا کہ ہم دنیا کے پیچھے کیوں رہ گئے؟اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے قانون کو طاقتور کا غلام بنا دیا ہے۔ عدالتوں میں انصاف کی کرسی پر سیاست بیٹھ گئی ہے، پولیس کے دفاتر میں رشوت کا سایہ ہے اور جیلوں میں غریب انسانیت کے کفن اوڑھے بیٹھی ہے۔
پاکستان کا عدالتی نظام آج بھی انگریز کے دور کی وراثت پر چل رہا ہے۔ وہی پرانے قوانین، وہی پرانے طریقے، وہی سست روی۔ لاکھوں مقدمات عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ 2024 ء میں ان کی تعداد بائیس لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں اتنے مقدمات پڑے ہیں کہ ایک عام شہری کا کیس فیصلے تک پہنچتے پہنچتے نسلوں کا سفر طے کر لیتا ہے۔ انصاف جو بیس سال بعد ملے وہ انصاف نہیں رہتا محض انتقام بن جاتا ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں شہری انصاف کا سکور 0.35 اور فوجداری انصاف 0.32 ہے۔ملک میں دو ہزار سے کچھ زائد جج ہیں جبکہ ضرورت کم از کم پانچ ہزار کی ہے۔ عدالتوں کا ڈھانچہ کمزور، انفراسٹرکچر ناکافی اور قوانین فرسودہ۔ 1898 ء کا کریمنل پروسیجر کوڈ اب بھی نافذ ہے۔ ایک ایسا قانون جو اس زمانے کا ہے جب سائبر کرائم کا نام و نشان نہ تھا۔ دنیا بدل چکی ہے مگر ہمارے قوانین اب بھی وقت کے بوجھ تلے دبے ہیں۔پولیس کا حال اور بھی الم ناک ہے۔ 2024ء میں پاکستان آرڈر اینڈ سیکیورٹی میں 140ویں نمبر پر تھا اور 2025 ء میں سکور مزید گر کر 0.30 رہ گیا ہے۔تھانوں میں ظلم اور کرپشن کی داستانیں عام ہیں۔ عام شہری کے لیے مقدمہ درج کرانا بھی ایک امتحان ہے۔ تفتیشی افسر رشوت لیے بغیر قلم نہیں اٹھاتا۔ نتیجہ یہ کہ 70 فیصد مقدمات ناقص تفتیش کے باعث عدالتوں میں کمزور پڑ جاتے ہیں۔پولیس میں اصلاحات کے وعدے ہر حکومت کرتی ہے مگر کوئی عمل نہیں کرتا۔ سیاسی مداخلت نے اداروں کو مفلوج کر دیا ہے۔ پولیس سے خدمت چھن گئی اور وہ صرف حکم کی تعمیل کرتی ہے انصاف کی نہیں۔عدلیہ میں کرپشن ایک ناسور کی طرح پھیل چکی ہے۔ انصاف بیچا نہیں جاتا، نیلام ہوتا ہے۔
نیب کے 80 فیصد ریفرنسز سیاسی انتقام کا شکار ہو جاتے ہیں۔ طاقتور کے لیے قانون ریشمی دستانہ بن جاتا ہے، کمزور کے لیے فولادی ہتھکڑی۔بڑے بڑے نام، بڑے بڑے عہدے مگر انصاف کا تماشہ سب کے سامنے ہے۔سب سے بڑی خرابی طبقاتی تفریق ہے۔ پاکستان میں دو نظام انصاف چل رہے ہیں ۔ ایک امیروں کے لیے دوسرا غریبوں کے لیے۔طاقتور اشرافیہ کے لیے عدالتوں کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں اور غریب کے لیے بند۔ایک عام مزدور تھانے میں داخل ہو تو اس کی جیب کی پہلے تلاشی جاتی ہے مقدمہ بعد میں لکھا جاتا ہے۔ملک کی جیلوں میں 70 فیصد قیدی ایسے ہیں جن پر مقدمات ابھی زیرِ سماعت ہیں۔اکثر غریب، غیر تعلیم یافتہ یا بے سہارا۔ وہ برسوں جیلوں میں پڑے رہتے ہیں صرف اس لیے کہ ان کے پاس وکیل کی فیس دینے کو پیسے نہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کہتی ہے کہ 2024 ء میں ہزاروں غریب افراد جھوٹے مقدمات میں پھنسا دیے گئے جبکہ بڑے بڑے کرپٹ لوگ ضمانتوں پر آزاد گھومتے رہے۔دیہی علاقوں میں خواتین اور اقلیتوں کے کیسز میں انصاف کی شرح 10 فیصد سے بھی کم ہے۔یہ وہ تلخ سچائی ہے جسے ہم چھپاتے ہیں مگر دنیا دیکھ رہی ہے۔
ڈنمارک جیسے ممالک میں یہ سب کیوں نہیں ہوتا؟ وہاں قانون 0.90 اسکور پر کیوں کھڑا ہے؟کیونکہ وہاں قانون سب پر برابر لاگو ہوتا ہے۔ مقدمات چند ماہ میں نمٹ جاتے ہیں، پولیس عوام کی مددگار ہے اور ریاست انصاف کو عبادت سمجھتی ہے۔ڈنمارک میں غریب شہری کو مفت قانونی امداد ملتی ہے۔ جیلوں میں تعلیم و تربیت دی جاتی ہے تاکہ مجرم سدھر سکے۔وہاں حکومت کی طاقت قانون کے تابع ہے اور ہمارے ہاں قانون حکومت کے تابع۔ یہی فرق ہے ترقی اور تباہی کے درمیان۔پاکستان کا زوال محض ایک درجہ نہیں، یہ نظام کی موت ہے۔
2024 ء سے 2025 ء تک کی یہ کمی سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران اور اداروں میں مداخلت کا نتیجہ ہے۔الیکشن کے تنازعات، عدالتی اختلافات اور طاقت کی رسہ کشی نے انصاف کے توازن کو برباد کر دیا۔جن قوموں نے طاقت کو قانون پر ترجیح دی وہ ہمیشہ بکھر گئیں۔طاقت وقتی آسودگی دیتی ہے، قانون دائمی سکون۔اب وقت ہے کہ ہم اصلاح کی طرف پلٹیں۔سب سے پہلے عدالتی نظام کو جدید بنائیں۔ عدالتوں میں ڈیجیٹلائزیشن، مقدمات کی مدت کم کرنے کے لیے تیز رفتار ٹرائل، ججوں کی تعداد میں اضافہ۔پولیس کو سیاسی اثر سے آزاد کیا جائے۔ نیب جیسے اداروں کو پارلیمانی نگرانی میں لایا جائے تاکہ وہ کسی حکومت کا ہتھیار نہ بنیں۔ غریب شہری کے لیے مفت قانونی امداد کا موثر نظام بنایا جائے تاکہ عدالت کے دروازے سب کے لیے برابر کھلیں۔آخر میں سب سے اہم بات ۔ شعور۔ قوم کو یہ سمجھانا ہوگا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ قانون کمزور کا محافظ ہے، طاقتور کا سہارا نہیں۔جب عوام انصاف کے لیے آواز اٹھائیں گے تب ہی حکومتیں جھکیں گی۔ڈنمارک بننا خواب نہیں مگر خواب دیکھنے والے چاہئیں۔ارادہ اور ایمان ہو تو نظام بدل جاتا ہے۔
اگر ہم نے اب بھی اصلاح نہ کی تو اگلے برس شاید ہم 130 نہیں 135 پر ہوں گے۔اور اگر کبھی ڈنمارک جیسا بننا ہے تو ہمیں انصاف کو طاقت سے اوپر رکھنا ہوگا۔قانون وہ آئینہ ہے جس میں قوم کا ضمیر جھلکتا ہے۔اگر وہ آئینہ دھندلا جائے تو چہرہ بھی مسخ ہو جاتا ہے۔پاکستان کے لیے وقت آگیا ہے کہ وہ اس آئینے کو صاف کرے۔تاکہ غریب بھی مسکرا سکے، امیر بھی ڈرے اور قاانون بھی سر اٹھا کر کہہ سکے ۔میں سب کے لیے برابر ہوں۔منیر نیازی نے کیا ہی خوب کہا تھا ۔
کوئی مانے یا نہ مانے، یہ جہاں ظالم ہے
عدل کو نام دیا جاتا ہے مصلحت کا یہاں

یہ بھی پڑھیں