Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

کرپشن کا کڑوا سچ اور خاموش ریاست

بازار میں ایک چپ سی طاری ہے لیکن یہ خاموشی شور مچاتی ہے۔ اس چیخ کی مانند جو اندر سے گونجتی ہے مگر باہر سنائی نہیں دیتی۔ عالمی منڈی میں پام آئل اور سویابین آئل کی قیمتیں زمین بوس ہوئیں لیکن پاکستان کے بازاروں میں گھی اور تیل کی قیمتیں جیسے کسی ضد پر اڑی رہیں۔ ایک سال تک نہ نرخ کم ہوئے نہ کسی ادارے نے حرکت کی اور نہ ہی کسی سرکاری دربان کو غیرت آئی۔ یہ ریاست کی اس مجرمانہ خاموشی کی وہ تصویر ہے جسے جتنا بھی مسخ کیا جائے بدنما ہی رہتی ہے۔
کیا یہ ایک مالیاتی واردات نہیں؟ کیا یہ غریب عوام کی جیبوں پر دن دہاڑے ڈالا گیا ڈاکہ نہیں؟ جب عالمی سطح پر خوردنی تیل 30 سے 40 فیصد سستا ہو گیا تو پاکستان میں عوام کو اس کا ریلیف کیوں نہ ملا؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہو تو وزارتِ صنعت و پیداوار کے دفاتر کی گرد آلود فائلیں کھولیں،ای سی سی کی کارروائیاں دیکھیں، مسابقتی کمیشن کے مفلوج اراکین کو بلائیں اور ان صنعتی مافیاز کے گوشوارے کھنگالیں جنہوں نے سستے خام مال پر مہنگا مال بیچ کر اربوں نہیں کھربوں کا نفع کمایا۔
2024 ء کے اواخر میں پام آئل کی قیمت 1,500 ڈالر فی ٹن سے گر کر 800 ڈالر تک آگئی۔ سویابین آئل بھی اسی رفتار سے نیچے آیا۔ پاکستان نے اسی عرصے میں تقریبا 3.5 ملین میٹرک ٹن تیل درآمد کیا۔ اگر فی ٹن 600 سے 700 ڈالر کی بچت ہوئی تو اندازہ لگائیں کہ مجموعی فائدہ اربوں ڈالر میں تھا۔ مگر کیا یہ فائدہ عوام تک پہنچا؟ ہرگز نہیں! بلکہ 550 روپے فی کلو والا گھی 480 پر بھی نہ آ سکا۔ کوئی حکومتی ادارہ اس بارے میں جواب دہ نہیں۔ یہ وہی گھی ہے جو مہنگائی کے اس دور میں متوسط طبقے کے کچن کا آخری ستون سمجھا جاتا تھا۔ اب وہ بھی لرز گیا ہے۔
اب ذرا میڈیا کا کردار بھی دیکھ لیجیے۔ گھی بنانے والی بڑی کمپنیاں لاکھوں کروڑوں روپے کے اشتہارات میڈیا کو دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے چینلز اور اخبارات میں کسی نے بھی اس سوال کو اہمیت نہیں دی کہ قیمتیں کم کیوں نہیں ہو رہیں؟ عوام کا درد نہ حکومت نے سنا، نہ صحافت نے محسوس کیا۔ جیسے سب کے سب کسی غیر تحریری معاہدے کے تحت، خاموشی اختیار کیے بیٹھے ہیں۔
حکومت کی بے حسی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ نہ وزیر اعظم نے ایک ٹویٹ کیا، نہ وزیر خزانہ نے کوئی وضاحت دی اور نہ ہی وزیر صنعت و پیداوار نے کسی اجلاس میں مسئلہ اٹھایا۔ یہ وہی وزارت ہے جس کے دائرہ اختیار میں خوردنی تیل کی قیمتوں کی نگرانی آتی ہے جسے TCP، PIC اور دیگر اداروں کے ذریعے مارکیٹ کی نگرانی کرنا تھی۔ مگر سب نے نظریں چرا لیں۔
جب ادارے مافیا کے سامنے جھک جائیں تو قومیں صرف مہنگائی میں نہیں اخلاقی طور پر بھی دیوالیہ ہو جاتی ہیں۔ گھی اور تیل کے اس سودے میں ریاست نے عوام کا ساتھ نہیں دیا بلکہ سرمایہ دار کا سہولت کار بن کر ابھری۔ وہ عمر جو کہتے تھے کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو اس کا جواب دہ میں ہوں، آج کا حاکم یہ ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں کہ کروڑوں انسانوں کی جیبیں کیوں خالی کی گئیں۔
سوال صرف یہ نہیں کہ قیمتیں کم کیوں نہ ہوئیں سوال یہ بھی ہے کہ کون ہے وہ ادارہ جو حساب لے گا؟ کیا نیب نے، ایف آئی اے نے، یا عدلیہ نے کوئی ازخود نوٹس لیا؟ کیا اپوزیشن نے کوئی قرارداد پیش کی؟ کیا سوشل میڈیا پر کوئی بااثر آواز اس کرپشن کو بے نقاب کر سکی؟ جواب نفی میں ہے۔ ایک پورا نظام مل کر خاموشی کی دیوار بن گیا تاکہ اس قومی چوری کو تحفظ دیا جاسکے۔
ایک سال میں جو پیسہ عوام سے زبردستی وصول کیا گیا وہ اسکولوں، اسپتالوں، سستی ادویات اور سبسڈی کے بجٹ سے کہیں زیادہ تھا۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ کوئی اس چوری کا اعتراف بھی نہیں کرتا۔ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں ظلم بولتا نہیں، لیکن ہر چہرے پر چھپے نقوش اس کی گواہی دیتے ہیں۔یہ بات قابلِ غور ہے کہ صرف خوردنی تیل ہی نہیں، آٹا، چینی، پٹرول، بجلی، گیس اور ادویات سب ایسی ہی کسی نہ کسی واردات کا شکار ہیں۔ اور ہر واردات میں ایک مشترکہ عنصر ہے ریاست کی مجرمانہ خاموشی۔ آج اگر پام آئل سستا ہوا ہے اور اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچا تو کل کو گیس اور بجلی کے نرخوں میں کمی ہو جائے تو یقین رکھیے وہ بھی صارف تک نہیں آئے گی۔اگر ہم نے ابھی بھی خاموشی اختیار کی، اگر ہم نے اس ظلم کے خلاف آواز بلند نہ کی تو یہ کرپشن صرف خوردنی تیل تک محدود نہیں رہے گی۔ یہ ہر شعبے میں سرایت کرے گی اور پھر کوئی دکان، کوئی گھر، کوئی چولہا محفوظ نہیں رہے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے جو گزشتہ ایک سال کے خوردنی تیل کی درآمد، اس کی قیمتوں، منافع کی شرح اور وزارتوں کی کارکردگی کا کھلا احتساب کرے۔ قومی احتساب بیورو نیب اور ایف آئی اے کو اس معاملے کی فوری تحقیقات کرنی چاہیے۔ اگر یہ نہ ہوا تو ہم سمجھ لیں کہ ریاست اب سرمایہ دار کے مفادات کی محافظ ہے عوام کی نہیں۔
ہم ایک ایسے ملک میں سانس لے رہے ہیں جہاں مہنگائی صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ منظم بددیانتی، ادارہ جاتی نااہلی اور اشرافیہ کی ملی بھگت کا دردناک عکس ہے۔ حالیہ برسوں میں خوردنی تیل اور گھی کی قیمتوں نے جو بلندی چھوئی وہ نہ صرف عام شہری کے صبر کا امتحان ہے بلکہ ریاستی اداروں کی مجرمانہ خاموشی کا کھلا ثبوت بھی ہے۔خوردنی تیل جو ہر پاکستانی کے باورچی خانے کی بنیادی ضرورت ہے عالمی منڈی میں سستا ہوتا رہا مگر پاکستان میں اس کی قیمتیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ ایک برس تک پام آئل اور سویابین آئل عالمی سطح پر 30 سے 40 فیصد سستے ہو چکے تھے لیکن یہاں گھی 500 سے 550 روپے فی کلو پر جمایا رکھا گیا۔
آخر میں یہ عرض ہے کہ اگر ریاست عوام کو ریلیف دینے میں ناکا ہے، اگر ادارے کرپٹ مافیاز کے سامنے بکے بیٹھے ہیں اور اگر میڈیا بھی اشتہارات کے عوض سچ بولنے سے قاصر ہے تو پھر اس قوم کو اپنی قسمت بدلنے کے لیے خود اٹھنا ہو گا۔ یہ کالم ایک صدائے احتجاج ہے، ایک للکار ہے اور شاید ایک شمع جو اندھیرے میں جلائی گئی ہے تاکہ کوئی راستہ دکھائی دے۔

یہ بھی پڑھیں