Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

امن کی کرن اور تاریخ کے زخم

(گزشتہ سے پیوستہ)
پاکستانی قیادت نے تشویش ظاہرکی کہ افغان حکومت انڈین حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف کارروائی کی بجائے انہیں سہارافراہم کر رہی ہے۔ اورپاکستان نے واضح شواہداور ناقابل تردیدثبوت مذاکرات کی میزسجانے والے ثالثوں کے سامنے بھی پیش کئے کہ طالبان حکومت بھارت کے حمایت یافتہ گروہوں کی پشت پناہی کررہی ہے۔ یہ الزام خطے کی تزویراتی کشمکش کو ظاہر کرتا ہے۔جس پر مہمان ملکوں نے نہ صرف ان کوتسلیم کیا بلکہ طالبان کی طرف سے ٹال مٹول کوبھی شدت سے محسوس کرتے ہوئے یہ رویہ تبدیل کرنے کامشورہ دیا۔پاکستان کیلئے یہ تشویش کا مقام ہے کہ وہی طالبان،جنہیں کبھی دوستانہ حکومت سمجھاگیا،اب اعتمادکے امتحان میں ہیں۔یہ وقت اس تعلق کوازسرِنوپرکھنے کاہے آیایہ دوستی سفارت کارشتہ ہے یامفادکابندھن۔یہ الزام نہیں، بلکہ اعتمادکے زوال کا شکوہ ہے وہی اعتمادجوامن کی بنیادہوتاہے۔
آرمی چیف نے قبائلی عمائدین کو دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کااظہارکرتے ہوئے یقین دلایاکہ خیبرپختونخواہ کودہشت گردوں اوران کے سہولت کاروں سے پاک کیا جائے گا ۔ یہ عہددراصل داخلی استحکام کاستون ہے۔ یہ اعلان ریاستی عزم اورعوامی یکجہتی کی علامت ہے، جوامن کے خواب کوحقیقت کاروپ دینے کیلئے لازم ہے۔دہشت گردی کاخاتمہ صرف بندوق سے نہیں،بلکہ تعلیم،روزگار، اورانصاف سے ممکن ہے۔یہ وہ مرحلہ ہے جہاں ریاست اور عوام کومتحدمحاذ کی صورت میں کھڑاہوناہوگا۔
اب ایک مرتبہ پھر6نومبرکواستنبول میں مذاکرات کے ایک نئے باب کاآغازہوگادونوں فریق دوبارہ ملاقات کریں گے اورباقی مسائل پرغورہوگا۔ذبیح اللہ مجاہدنے بھی دوبارہ ملاقات کی تصدیق کی ہے جہاں باقی مسائل پرغورہوگا۔یہ الفاظ ظاہرکرتے ہیں کہ امن کایہ عمل ایک طویل اورنازک سفر ہے جس میں ہرقدم احتیاط کا متقاضی ہے۔یہ مکالمے کی تسلسل کااعلان ہے۔ امن ایک دن میں نہیں آتا، یہ اعتمادکی اینٹوں سے بنتاہے۔استنبول مذاکرات دراصل اسی تعمیرکاپہلا ستون ہیں۔
امارتِ اسلامی افغانستان نے کہاکہ وہ پاکستان سمیت تمام ہمسایوں کے ساتھ مثبت تعلقات چاہتی ہے،جوعدم مداخلت اورباہمی احترام کے اصولوں پرمبنی ہوں۔اگریہ اصول حقیقی عمل میں ڈھل جائیں توشایدخطے کی سیاست ایک نئے باب میں داخل ہو،جہاں تلواریں نیام میں ہوں اورزبانیں صلح کے چراغ روشن کریں۔یہ مؤقف سفارت کاری کی زبان میں تسلیم اورتحفظ دونوں کوساتھ لیکرچلتاہے۔ اگرطالبان حکومت اپنے قول وفعل میں ہم آہنگی پیداکرلے تویہ پورے خطے میں استحکام کی بنیادبن سکتاہے۔یہ تعلقات اگرعدم مداخلت کے اصول پرقائم رہیں توشایدتاریخ ایک نیاموڑمڑجائے۔تاریخ کے دروازے پرامن کاوعدہ ایک بارپھردستک دے رہاہے اورفریقین کے تمام قول وفعل تاریخ کاچہرہ بن کر ہماری آئندہ نسلوں کیلئے محفوظ ہورہے ہیں۔یہ وقت اس بات کامتقاضی ہے کہ دونوں ممالک شک کی بجائے اعتماد،دھمکی کی بجائے تدبیر،اوردشمنی کی بجائے مفاہمت کو اپنائیں۔قرآن کہتاہے:وراللہ سلامتی کے گھرکی طرف بلاتاہے۔ (یونس:25)
اب یہ دونوں قوموں پرہے کہ وہ اس دستک کوسنیں یاپھرماضی کے شورمیں گم ہوجائیں۔اگریہ امن قائم ہواتویہ صرف معاہدے کی کامیابی نہیں بلکہ تاریخ کے زخموں کامرہم ہوگا۔ِن بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتاجب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے(الرعد:11)۔اگریہ دعوت دلوں تک پہنچ جائے،توشایدجنگ کی سرحدوں پرامن کے پھول کھل سکیں
تاریخ کے اس موڑپر،جہاں ماضی کی قربانیاں اورحال کے زخم آمنے سامنے کھڑے ہیں،پاکستان اب بھی امن کاداعی ہے مگروہ امن جوعزتِ نفس اور وقارِملت کے سائے میں پروان چڑھے۔ پاکستان کی سرزمین پر40برس کی مہمان نوازی محض انسانی خدمت نہیں تھی،بلکہ اسلامی اخوت کاعملی مظہرتھی۔یہ وہ قربانی تھی جوخون،مال،اورنسلوں کی قیمت پر دی گئی لیکن اب،جب افغان حکومت بھارتی دوستی کے خمارمیں اپنے برادرہمسائے پرالزام تراشی کرتی ہے،تویہ محض سیاسی اختلاف نہیں،بلکہ تاریخ کے قرض سے انکارہے۔
کیایہ وہی افغانستان نہیں جس کے بچے پاکستان کے اسکولوں میں پلے؟جس کے زخمی ہمارے اسپتالوں میں صحت یاب ہوئے؟جس کے تاجروں نے ہمارے بازاروں میں رزق کمایا؟اورآج وہی سرزمین دہشت کے بیج بوکراسی زمین کولہوسے ترکررہی ہے؟
ہم اب بھی دعاگوہیں کہ افغان قیادت دشمن کے مکروفریب کوپہچانے اور یاد رکھے کہ:اوران لوگوں کی طرح نہ بنوجنہوں نے اللہ کوبھلادیاتو اللہ نے انہیں خوداپنی حقیقت سے غافل کردیا۔(الحشر:19)
پاکستان آج بھی امن کاچراغ تھامے کھڑاہے، مگراس چراغ کے شعلے میں شکوے کی آنچ اورامیدکی روشنی دونوں یکجاہیں۔وہ اب بھی انتہائی اخلاص کے ساتھ یادکرواتاہے کہ اے برادرافغانستان!ہم نے تمہیں دل دیا،تم نے ہمیں زخم دیے،مگردل اب بھی دھڑک رہا ہے ،اس امیدمیں کہ تم ایک دن بھارت کی چالوں سے آزادہوکرپھرسے اسلامی اخوت کی آغوش میں لوٹوگے۔اخوتِ ایمانی کے زخم اور تاریخ کے قرضداردن آج بھی امن کے خواب آنکھوں میں سجائے تاریخ کے ادھورے وعدوں کی تکمیل کیلئے منتظرہیں۔
گزشتہ چالیس برس سے وہ قلم جو تمہارے اور مدارس کے دفاع میں دنیا بھرکے فکری میدان میں دفاع کرتا چلا آرہاہے،اب بھی تمہارا منتظرہے کہ کب تم اپنے ہی رہبرملاعمر کے اقوال پر پہرہ دو گے جس نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ’’ ـہم پاکستان کے احسانات کا قیامت تک بدلہ نہ چکا سکیں گے، جہاں ان کا پسینہ گرے گا، وہاں ہم اپنا خون گرائیں گیـ‘‘۔تمہارے ہاتھوں ہمارے ہزاروں شہداء جب روزِ ٓخرت لہومیں ڈوبے اپنے لاشے لیکرتمہارے خلاف گواہی کیلئے حاضرہوں گے،توتم جواب کیلئے کہاں کھڑے ہوگے؟ملاعمر نے تومظلوم و مجبورکشمیریوں کو بھی بھارتی درندوں سے نجات دلانے کا وعدہ کیاتھا، آج ملامتقی کے دورہ ہند میں مقبوضہ کشمیر کو متعصب ہندومودی کی جھولی میں ڈالنے کا اعلان کرتے ہوئے ان تمام کشمیریوں کے دلوں پر کیا گزری ہوگی،کیا اس کا جواب دے پاؤگے؟
پاکستان کے ازلی دشمن مودی کے مکارانہ چالوں میں آ کراب قدرتی طور پرپاکستان کی طرف بہنے والے دریائے کابل کا پانی کا رخ موڑنے کیلئے ایک ارب ڈالرکاسودہ کرکے آئے ہو، قدرت کے اس عمل کوروکنے کے گناہ میں شریک کار بننے پرکیا جواب دوگے؟ پاکستان کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے والا مودی جو اب تک اپنے زخموں کی بے پناہ شدتِ درداورندامت کا بدلہ لینے کیلئے تمہارے کندھے اور سرزمین استعمال کرنے کیلئے ڈرون اور دیگر اسلحہ جات کا ڈھیرلگانے جا رہاہے،وہ جو اپنی حفاظت کرنے سے قاصرہے،اب تمہیں اپنی شیلڈبناکر بطورپراکسی استعمال کرنے جا رہا ہے،اور وہ تمہیں کسی اندھے غارمیں دھکیلنے اور گہری کھائی میں دھکہ دینے کی پالیسی پر عملدرآمدہوکر دونوں مسلمان ملکوں کو خطیر نقصان پہنچانے کی سازشوں میں اپنا مکروہ کردارکررہاہے۔اب بھی سنبھلنے کا وقت ہے، لوٹ آؤ کہ دونوں اطراف کے امن پسندمسلمان اب بھی اپنے رب کے حضورسلامتی کیلئے دعاگو ہیں۔

یہ بھی پڑھیں