Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

بشیر کی دکان کا کھاتہ رجسٹر

محلے کی نکڑ پر ایک چھوٹی سی پرچون کی دکان ہے۔ اس کا لکڑی کا پرانا تھڑا برسوں کی دھوپ اور بارش سے رنگین ہو چکا ہے۔ اوپر ٹین کی چھت ہر بارش میں ٹپ ٹپ کی آواز نکالتی ہے۔ دیوار سے لٹکے چند خالی پیکٹ مہنگائی کی یاد دلاتے ہیں۔ درمیان میں وہی دھندلا شیشے والا کائونٹر ہے جس پر دھول اور وقت کی پرتیں جمی ہوئی ہیں۔ یہ دکان کوئی عظیم کاروباری مرکز نہیں بلکہ ایک چھوٹے سے محلے کی زندگی کی نبض ہے۔ یہاں لوگ نہ صرف سامان خریدنے آتے ہیں بلکہ اپنے دکھ درد بھی بانٹتے ہیں۔ دکاندار بشیر ایک سادہ آدمی ہے جو پچھلے بیس سال سے یہی کاروبار چلا رہا ہے۔اپنی آمدنی کو بڑھانے کے لئے سبزی سمیت دودھ دہی بھی بیچتا ہے اور ایک چھوٹا سا ہوٹل بھی ساتھ میں چلاتا ہے۔ دال اور سبزی دو سالن بناتا ہے اور علاقے کے مکینوں کے حساب سے انتہائی مناسب داموں فروخت کرتا ہے۔ یہ بہت اچھی چائے بھی بناتا ہے۔ میں اکثر یہاں الائچی والی چائے کا ایک کپ پینے بیٹھ جاتا ہوں۔ بشیر کے ہاتھوں میں محنت کی لکیریں اور دل میں ایک خاموش امید جو اب تھکاوٹ کی زد میں آ رہی ہے۔
کل شام جب میں وہاں پہنچا تو سردی کے باعث ہوا کچھ سنسان تھی۔ دکان کے باہر سڑک پر چند بچے کھیل رہے تھے ۔ بشیر کی آنکھوں تلے سیاہ گڑھے پڑے ہوئے تھے جیسے نیند اور فکر نے مل کر انہیں کھوکھلا کر دیا ہو۔ اس کے چہرے پر تھکن جھلک رہی تھی ۔ میں نے پوچھا بشیر بھائی کیا بات ہے، طبیعت ٹھیک؟ کیا رات بھر جاگتے رہے ہو؟ وہ ہلکا سا مسکرایا پھر گہری سانس لی اور بولا، صاحب طبیعت تو ٹھیک ہے مگر کاروبار مر گیا۔ ہر دوسرے کے ہاتھ میں لسٹ ہوتی ہے جو چیزوں کی فہرست ہے مگر خریدنے کی طاقت کسی کے پاس نہیں رہ گئی۔ پان جو پانچ روپے کا ہوتا تھا اب پچاس کا ہو گیا ہے۔ دودھ جو چالیس روپے لیٹر تھا اب دو سو چالس روپے لٹر ہو چکا ہے۔ آٹا، چینی، تیل سب کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔ لوگ آتے ہیں سامان دیکھتے ہیں مگر خرید نہیں سکتے۔ پھر کہتے ہیں بھائی ادھار دے دو، کل ادا کر دوں گا۔ مگر جو کل دینے والے تھے وہ آج غائب ہیں۔ اب تو ادھار کی فہرست ہی میری بیلنس شیٹ بن گئی ہے۔
یہ جملہ میرے دل میں تیر کی طرح چبھ گیا۔ بشیر تنہا نہیں اس کی کہانی پاکستان کی ہر دکان، ہر چھوٹے کاروبار، ہر دفتر اور ہر گھر کی کہانی ہے۔ مہنگائی کی لہر نے نہ صرف اشیا کی قیمتیں بڑھا دیں بلکہ لوگوں کی امیدوں کو بھی کچل دیا ۔ جب ایک عام آدمی اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہو جائے تو وہ نئے خواب کیسے دیکھ سکتا ہے؟ یہ صورتحال صرف ایک دکان تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک کی معیشت کی عکاسی کرتی ہے۔ جہاں ترقی کی باتیں ہوتی ہیں مگر حقیقت میں غربت کی زنجیریں روز بروز کستی جارہی ہیں۔
اسی لمحے دکان میں ایک چھوٹا بچہ داخل ہوا۔ اس کی عمر گیارہ بارہ سال سے زیادہ نہ ہوگی مگر اس کی آنکھوں میں بچپن کی چمک کی جگہ ایک بالغ کی اداسی تھی۔ وہ دھیرے سے بولا، چچا امی نے کہا ہے تین روٹی دے دو۔ گھر میں آج کھانا نہیں بنا، بس اتنا ہی کافی ہے۔ اس کی آواز میں شرم تھی، بھوک کی تڑپ تھی اور ایک خاموش اپیل۔ بشیر نے اسے دیکھا پھر مجھے جیسے خاموشی سے کہہ رہا ہو۔ یہ وہ ملک ہے جو ایٹم بم رکھتا ہے، جو خلائی پروگرام چلاتا ہے، جو دنیا کو سبق دینے کا دعوی کرتا ہے مگر اس کے بچے صرف ادھار روٹی مانگ رہے ہیں۔ اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ ہماری ترقی کی کہانیاں کتنے خالی الفاظ ہیں۔ یہ ایک بچہ لاکھوں بچوں کی نمائندگی کر رہا ہے جو روزانہ بھوک سے لڑ رہے ہیں۔
اچانک مجھے حافظ نعیم کا وہ بیان یاد آ گیا جو کچھ گھنٹے پہلے سوشل میڈیا پر دیکھا تھا۔ وہ سٹیج پر کھڑے ہو کر چیخ رہے تھے۔ ان کی آواز میں غصہ اور درد کی آمیزش تھی۔ حکمران اسٹاک ایکسچینج کی کہانیاں سناتے ہیں کہ معیشت ٹھیک ہے، جی ڈی پی بڑھ رہی ہے۔ مگر محلے کی دکان پر جا کر دیکھیں تو عام آدمی مہنگائی سے کچلا جا رہا ہے۔ بے روزگاری بڑھ رہی ہے، غربت پھیل رہی ہے۔ مگر ایوانوں میں بیٹھے لوگ صرف اپنی مراعات بڑھا رہے ہیں۔ تنخواہوں میں اضافہ، گاڑیوں کے کوٹے اور سیکورٹی کے مطالبے۔ عوام کا کیا ہو رہا ہے یہ کون پوچھتا ہے؟ یہ بات بجلی بن کر میرے دل میں گری۔ سچ یہی ہے ترقی اعشاریوں میں ہوتی ہے حقیقت میں نہیں۔ اسٹاک مارکیٹ کے اعداد خوش ہوتے ہیں، جی ڈی پی کی رپورٹس چمکتی ہیں مگر عوام روتے ہیں۔ بشیر کی دکان کے کھاتہ رجسٹر پر جو لسٹیں بن رہی ہیں وہ صرف سامان کی نہیں بلکہ غربت کی فہرست ہیں۔
اور یہ غربت کوئی نئی چیز نہیں ۔ ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2025 ء میں پاکستان کی غربت کی شرح 44.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ملٹی ڈائمینشنل غربت جو تعلیم، صحت اور رہائش کو بھی مدنظر رکھتی ہے 38.3 فیصد ہے۔ یہ پاکستان کو دنیا کے ٹاپ فائیو ممالک میں شامل کرتی ہے جہاں سب سے زیادہ لوگ غربت کا شکار ہیں۔ یہ اعداد صرف نمبرز نہیں بلکہ لاکھوں بشیروں لاکھوں بچوں کی کہانیاں ہیں۔یہ اعداد و شمار ہمیں بتاتے ہیں کہ غربت صرف پیٹ کی بھوک نہیں بلکہ ایک سلسلہ ہے۔ یہ صحت، تعلیم اور مواقع کو بھی کھا جاتی ہے۔ دیہی علاقوں میں غربت کی شرح شہری علاقوں سے دوگنی ہے۔
ہم ہر حکومت سے شکایت کرتے ہیں۔ کوئی وزیر نااہل ہے تو کوئی وزیراعظم بے بس ۔ کوئی جرنیل حد سے آگے بڑھ گیا، کسی غیر منتخب طاقتور نے اختیارات کھینچ لیے۔ ٹی وی اسکرین پر یہ ڈرامہ چلتا رہتا ہے جہاں الزام تراشیں ہوتی ہیں مگر حل کی کوئی بات نہیں۔ مگر اصل کہانی ٹی وی اسکرین کی نہیں بشیر کی دکان کی ہے۔
یہ لڑائی فرد کی نہیں نظریے کی ہے۔ انصاف ،جوابدہی اور شفافیت کا نظریہ۔ جب تک یہ نظریات نظام کا حصہ نہ بن جائیں غربت ختم نہیں ہوگی۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیش اور چین نے غربت کم کی کیونکہ انہوں نے نظام کو تبدیل کیا۔ پاکستان میں بھی ایسی مثالوں کی ضرورت ہے جہاں غربت کے اعداد کوئی بوجھ نہیں بلکہ تبدیلی کی بنیاد ہوں۔ غربت کی یہ لہر صرف معاشی نہیں سماجی بھی ہے۔ دیہی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کی شرح 20 فیصد سے بھی کم ہے۔ کیونکہ غربت والدین کو مجبور کرتی ہے کہ بچوں کو کام پر لگا دیں۔ آپ پارلیمنٹ کے اندر جھانک کر دیکھیں۔ وہاں ہنسی اور قہقہے ہیں۔ مراعات کی درخواستیں ہیں، سیکورٹی کے مطالبے ہیں۔ گاڑیوں کے کوٹے ہیں، کروروں کے ایندھن کے بل ہیں ۔ اراکین کی تنخواہیں بڑھتی ہیں ان کے خاندانوں کو مراعات ملتی ہیں۔ مگر باہر دکاندار کا جلتا دل جو ادھار کی فہرست دیکھ کر روتا ہے۔ یہ دو الگ پاکستان ہیں۔ ایک حقیقی پاکستان جو بھوک، بے روزگاری اور مایوسی کے ساتھ زندہ ہے۔ جہاں 108 ملین لوگ روزانہ 1200 روپے سے کم پر گزارہ کرتے ہیں۔ دوسرا دفتری پاکستان جسے صرف اعداد و شمار کا ہوش ہے۔ جہاں جی ڈی پی کی 2.6 فیصد گروتھ کو کامیابی کہا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ غربت کم کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ یہ تقسیم صرف معاشی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی ہے۔ ایک طرف امید کی بجائے مایوسی، دوسری طرف تقریروں کی چمک۔
بھوک مصروف ہے سرِ خیمہ
طفلِ مزدور کو رلانے میں
جب میں دکان سے نکلنے لگا تو بشیر نے روک لیا۔ اس کی آواز میں تھکن تھی مگر ایک چھوٹی سی امید بھی۔ صاحب کبھی کبھی لگتا ہے ہم سب کو اسی طرح چلناہے جیسے گاڑی بغیر پیٹرول کے دھکا لگا کر چلتی ہے۔ بس دھکا لگاتے جا شاید ایک دن چل پڑے۔ میں اس کی بات سن کر رکا اور آہستہ سے بولا، نہیں بشیر بھائی گاڑی خود نہیں چلے گی۔ گاڑی چلانی پڑتی ہے اور وہ بھی سڑک درست ہو، انجن ٹھیک ہو، ڈرائیور ہوشیار ہو اور نظام منصفانہ ہو۔ دھکا لگانے سے تھک جا گے مگر منزل نہ ملے گی۔ پاکستان کی گاڑی بھی ایسے ہی چلے گی۔ دعا بھی چاہیے امید بھی چاہیے مگر سب سے بڑھ کر نظام کا بدلنا ضروری ہے۔ کیونکہ جب نظام ٹوٹا ہوا ہو تو قوم چاہے کتنی ہی محنت کر لے منزل نہیں ملتی۔ غربت کے اعداد و شمار ہمیں جگانے کے لیے کافی ہیں۔ اور ہم سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ مایوسی کفر ہے مگر جدوجہد ایمان کی علامت ہے۔ چلیں اس جدوجہد کا حصہ بنتے ہیں تاکہ کل بشیر کی دکان پر اداسی نہیں بلکہ ہنسی گونجے ۔

یہ بھی پڑھیں