آج کا زمانہ وہ ہے جب امتِ مسلمہ کی وحدت شیرازے کی طرح بکھر چکی ہے۔ طاقت کے مراکز مغرب کے ہاتھ میں،ذرائع ابلاغ اور معیشت کے اعصاب عالمی سرمایہ داروں کے قبضے میں اور سیاسی فیصلے سامراجی ایجنڈوں کے تابع ہیں۔پاکستان، جو اسلام کی پہلی ایٹمی قوت ہے، اس کے خلاف ایک منظم بین الاقوامی منصوبہ بندی جاری ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو بارہا اپنے بیانات میں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو ختم کرنے کی خواہش ظاہر کر چکا ہے۔
لیکن یہاں اقبالؒ کا پیغامِ خودی ہمیں راستہ دکھاتا ہے۔ لیکن اقبالؒ کی نگاہ میں قوموں کی قوت نہ توپ و تفنگ سے آتی ہے،نہ معاہدوں سے، بلکہ ایمان کی حرارت اور خودی کی بلندی سے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر مسلمان اپنی خودی پہچان لے، تو دنیا کی کوئی طاقت اسے محکوم نہیں بنا سکتی۔اقبالؒ کا یہ فلسفہ دراصل خوف کے مقابلے میں ایمان کی جرات ہے۔ آج جب عالمی طاقتیں پاکستان کو اس کی قوتِ دفاع سے محروم کرنے کے منصوبے بناتی ہیں، تو ہمیں اقبالؒ کے اس پیغام کو عملی صورت دینا ہوگی کہ خودی ایمان کا ہتھیار ہے اور ایمان کسی ایٹمی طاقت سے زیادہ موثر قوت ہے۔اقبالؒ نے فرمایا تھا:
ہو صداقت کیلئے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے
یہی وہ ولولہ ہے جو پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنا سکتا ہے۔حالیہ ایام میں برصغیر کی تاریخ نے ایک اور بھڑکتی ہوئی داستان رقم کی۔ مئی 2025ء کی پاک بھارت جنگ، جس میں بھارت کو اسرائیلی پشت پناہی حاصل تھی،اس کی خاکستر میں کئی حقیقتیں چھپی ہیں۔ بھارت کو نہ صرف فوجی سطح پر ہزیمت ہوئی بلکہ اس کے عسکری غرور نے اس کی سیاست کو بھی کمزور کر دیا۔تاہم، امن کے نام پر امریکا کی ثالثی سے جنگ بندی ہوئی، اور اب مودی حکومت ایک بار پھر سرکریک کے محاذ پرجنگی مشقوں کے ذریعے نفسیاتی دبا قائم کرنا چاہتی ہے۔ اس تناظر میں بلوچستان، جو پاکستان کی جغرافیائی ریڑھ کی ہڈی ہے، خاص طور پر استقامت و بیداری کا متقاضی ہے۔
مئی 2025ء کی پاک-بھارت جنگ کے بعد بلوچستان کے نوجوانوں سے اقبالؒ کا یہ اہم پیغام ضرورپہنچانا چاہتا ہوں کہ
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
بلوچ قوم میں غیرت، حمیت، اور قربانی کا وصف ازل سے موجود ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اقبالؒ کے فلسفہ خودی کوبلوچ نسلوں کے ذہن و کردار میں پیوست کیا جائے ۔ اقبالؒ کا مردِ مومن وہ ہے جوطاقت کو امانت اور قوم کو ذمہ داری سمجھتا ہے۔ وہ دشمن کے حملے سے نہیں ڈرتا،بلکہ اپنے ایمان کی قوت سے مقابلہ کرتا ہے۔
ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
آج پاکستان کے خلاف بھارتی عزائم کے مقابلے میں ہمیں سیاسی شعور، فکری اتحاد، اور قومی خود اعتمادی کی ضرورت ہے۔ وہی تین عناصر جو اقبالؒ کے فلسفہ حیات کی بنیاد ہیں۔ بلوچستان کے لیے اقبالؒ کا پیغام یہی ہے کہ یہ خطہ محض معدنی خزائن کا گہوارہ نہیں، بلکہ اسلامی غیرت، دفاعی شعور، اور فکری استقلال کی علامت ہے۔ اقبالؒ کے نزدیک قومیں تبھی زندہ رہتی ہیں جب ان کے دلوں میں دین کی حرارت زندہ ہو۔
نائن الیون کے بعد کی دنیا میں پاکستان کے سامنے ایک نئی آزمائش کھڑی کی گئی۔ پرویز مشرف کے دور میں امریکا نے دھمکی دی،ہمارا ساتھ دومورنہ تمہیں پتھرکے دورمیں پہنچادیں گے۔ پاکستان نے مجبوری میں اس جنگ میں شمولیت اختیار کی،لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان خود میدانِ جنگ بن گیا،امریکا نے انڈیاکو سول ایٹمی معاہدہ دے کر نوازا، اور افغانستان میں اسے دہشت گردی کی راہداری فراہم کی۔ جو طالبان کل سوویت یونین کے خلاف مزاحمت کے ہیرو تھے، انہی کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا گیا۔یہ وہ وقت تھا جب اقبالؒ کی فکرِ نشاِۃ ثانیہ ہمیں ایک نئی سمت دکھا سکتی تھی،وہی فکرجوکہتی ہے کہ اسلام کی بقا اخوت، خودداری، اور اتحادِ ملت میں ہے، نہ کہ مغرب کی خوشنودی میں۔
ایک نظم میں اقبالؒ افغان عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اپنے آپ کو جاننے کے لیے اپنی سرزمین اور سرزمین میں تلاش کریں:
تجھے اپنی ہی لکڑی کی قیمت معلوم نہیں تھی، تو نے دوسرے کا دیودار اٹھایا۔ اپنے سرکنڈوں کی طرح تم نے بھی اپنا دل دوسروں کی موسیقی پر خالی کر دیا ہے۔ تم ایک معمولی بھکاری ہو، مختلف قسم کی دکان سے کھانا مانگتے ہو۔
یہی اقبالؒ کا نوحہ ہے اور یہی ان کی پکار کہ مسلمان اگر اپنی روحانی خودی کو فراموش کر دے تو سیاسی خودمختاری بھی مٹ جاتی ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اقبالؒ کے تصورِ امت کواپنی خارجہ پالیسی، تعلیمی نظام، اور سماجی اصلاحات میں سمودیں۔ اقبالؒ کا نشاِۃ ثانیہ دراصل اسلامی شعور کی ازسرِنو بیداری ہے،جہاں انسان صرف ریاست کا شہری نہیں، بلکہ امت کا سپاہی ہوتا ہے۔بلوچستان، جو افغانستان کے دروازے پر ہے، اسی فکری جدوجہد کا محوری خطہ بن سکتا ہے۔ اگر یہاں کے نوجوان اقبالؒ کے اس پیغام کو سمجھ لیں کہ اسلام صرف عبادت نہیں، بلکہ عمل، عدل، اور قیادت کا نام ہے۔علامہ اقبالؒ کا خواب صرف ماضی کی داستان نہیں، بلکہ مستقبل کی راہ ہے۔انہوں نے جس نشاِۃ ثانیہ کا خواب دیکھا، وہ اب بھی ہم سے مخاطب ہے۔
اقبالؒ کے نزدیک امتِ مسلمہ کی نجات قرآن کی طرف رجوع، خودی کی بیداری، اور اتحادِ ملت میں ہے۔اگر ہم خودی کی حفاظت کرناسیکھ لیں تو عالمِ عالمِ رنگ و بو میں ہماری داستان کسی اور رنگ سے سنائی جائے گی۔آج جب عالمی طاقتیں پاکستان کے گرد حصار بن رہی ہیں، بلوچستان میں فتنہ و انتشار کے بیج بو رہی ہیں،اور امتِ مسلمہ کو قومی، لسانی، اور فکری بنیادوں پر تقسیم کر رہی ہیں،توہمیں اقبالؒ کی آوازپرلبیک کہناہوگاکہ مومن اپنی تقدیر کا خود خالق ہے،اور اسلام کی نشاۃِ ثانیہ اسی دن شروع ہوگی جب امت اپنی خودی کو پہچان لے گی۔
مجھے بطور ایک کشمیری نژاد پاکستانی کواپنے قائد کے وہ الفاظ یاد آرہے ہیں جہاں انہوں نے جس کشمیر کوپاکستان کی شہہ رگ قراردیاتھا، اور مجھے افغانستان کے ملا عمر کے بھی وہ الفاظ یاد آرہے ہیں جو انہوں نے پاکستانی وفد کے استقبال میں کہے تھے:کہ ہم افغان قیمات تک پاکستان کے احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتے، آپ کا جہاں پسینہ گرے گا وہاں ہمار اخون بہے گا۔ اس کے علاوہ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے مجبور ومقہوربھائیوں کو بھی یہ پیغام دیا تھا کہ ہم جلد آپ کو ہندو کے ظلم وستم سے آزادی دلوانے کے لئے آئیں گے کہ یہ ہمارا دینی فریضہ ہے۔ اس وقت ملا ہیبت 20 سال کا نوجوان اور ان کا بیٹا ملا یعقوب،افغانستان کا وزیر دفاع 5سال کی عمر میں اپنے والد کے اس خطاب کی گونج کو کیسے بھلا سکیں گے؟
(جاری ہے)