Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

جب ریاست جاگیر بن جائے

قومیں یکدم برباد نہیں ہوتیں۔ زوال آہستہ آہستہ قدم بہ قدم اترتا ہے۔ پہلے انصاف کمزور پڑتا ہے پھر ادارے لڑکھڑانے لگتے ہیں پھر معیشت دم توڑنے لگتی ہے اور آخر میں عوام امید چھوڑ دیتے ہیں۔ پاکستان آج اسی موڑ پر کھڑا ہے جہاں معیشت کے راستے میں رکاوٹ کوئی بیرونی دشمن نہیں بلکہ وہ اشرافیہ ہے جو اس ملک کو اپنی جاگیر سمجھ کر چلانا چاہتی ہے۔
پاکستان کا اصل المیہ یہ ہے کہ یہاں ریاست کا جسم عوام سے بنتا ہے مگر اس کا ذہن چند خاندانوں کے ہاتھ میں ہے۔ یہ ملک پچیس کروڑ انسانوں کا ہے مگر اس کے فیصلے ہمیشہ ایک مخصوص طبقے کے ڈرائنگ رومز میں ہوتے ہیں جہاں قالین نرم ہوتے ہیں اور ضمیر سخت ہوتے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو صدیوں کی حکمرانی کو اپنی نسلوں کا حق سمجھ بیٹھے ہیں۔ ان کا تصور یہ ہے کہ پاکستان ان کی جاگیر ہے اور عوام اس جاگیر کے مزارعے۔
میں جب شہر کی شاموں میں عام آدمی کو ٹھیلے پر سبزی تولتے یا موٹر سائیکل پر بچوں سمیت دفتر جاتے دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ یہ لوگ آخر کس جرم کی سزا بھگت رہے ہیں۔ ان کے حصے میں ہمیشہ قربانی آتی ہے اور اشرافیہ کے حصے میں ہمیشہ مراعات۔ ریاست کے معاشی فیصلے ان کے مفاد کے تابع ہوتے ہیں۔ ٹیکس وہ نہیں دیتے جو سب سے زیادہ دولت رکھتے ہیں۔ بجلی وہ نہیں بھرتے جن کے گھروں پر روشنی کے مینار کھڑے ہیں۔ ایندھن کی قیمت وہ نہیں چکاتے جو لینڈ کروزر میں سفر کرتے ہیں۔ قیمتیں بڑھتی ہیں تو سب سے پہلے مزدور روٹی کم کھاتا ہے۔ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو رکشہ ڈرائیور اپنا چولہا سرد رکھتا ہے۔ ڈالر اوپر جاتا ہے تو غریب کے بچوں کے دودھ میں پانی مل جاتا ہے۔ لیکن طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ وہی رہتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
یہ اشرافیہ کون ہے۔؟ یہ وہ خاندان ہیں جو سیاست میں بھی ہیں اور تجارت میں بھی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سیاست کو کاروبار بنا رکھا ہے اور کاروبار کو سیاست۔ ان کا ہر فیصلہ منافع پر ہوتا ہے احتساب پر نہیں۔ یہ ٹیکس پالیسی سے لے کر بجٹ سازی تک ہر چیز میں اپنی پسند کا رنگ بھر دیتے ہیں۔ ملک قرضوں پر کھڑا ہے مگر ان کے محلات کی چمک کم نہیں ہوتی۔ عوام بجلی کے بلوں سے پریشان ہیں مگر ان کے گھروں میں جنریٹر اور شمسی توانائی کے نظام رات دن چلتے ہیں۔ ان کی زندگیاں سہولتوں سے بھری ہوتی ہیں جبکہ عوام کو تکلیف میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ کبھی سوال نہ پوچھ سکیں۔
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ پاکستان کی زمین کتنی رحمدل ہے۔ یہ روز چوٹ کھاتی ہے مگر پھر بھی پھول اگاتی ہے۔ یہاں کے لوگ ہر دن تکلیف سہتے ہیں مگر پھر بھی مسکراتے ہیں۔ مگر انسانیت کی برداشت بھی ایک حد ہوتی ہے۔ ایک موقع ایسا ضرور آتا ہے جب عوام کا صبر چھلکنے لگتا ہے۔ آپ انہیں روزگار نہیں دیتے تو وہ خود محنت کر کے چھوٹے کاروبار کھول لیتے ہیں۔ آپ انہیں انصاف نہیں دیتے تو وہ بس خاموش رہتے ہیں۔ لیکن جب آپ ان کی امید چھین لیتے ہیں تو پھر سب ختم ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان اسی موڑ کی طرف بڑھ رہا ہے۔
عام آدمی کو آج یہ یقین ہو چکا ہے کہ اس کے لیے کوئی فیصلہ بہتر نہیں ہوتا۔ حکومتیں بدلتی ہیں پالیسی تبدیل ہوتی ہے وزرا آتے ہیں جاتے ہیں مگر غریب کا کچن پہلے سے زیادہ تنگ ہو جاتا ہے۔ مزدور اپنی مزدوری کا ریٹ بڑھانے کا سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اس کی جگہ لینے کے لیے باہر سینکڑوں لوگ کھڑے ہیں۔ اس کا پسینہ سستا ہے اور اشرافیہ کی مسکراہٹ قیمتی۔ یہی اصل ناہمواری ہے۔کسی بھی معاشرے میں انصاف کی دو بنیادیں ہوتی ہیں۔ ایک قانون کے سامنے سب برابر ہوں۔ دوسرے معاشی مواقع سب کو میسر ہوں۔ پاکستان میں دونوں چیزیں خاندانی سیاست نے تباہ کر دی ہیں۔ عدالتوں سے لے کر بیوروکریسی تک ایک خاموش لابی سرگرم ہے جو ہمیشہ طاقتور کا ساتھ دیتی ہے۔ قوانین جنگل کی طرح ہیں جہاں جانور نہیں بلکہ انسان ایک دوسرے کو چیر پھاڑ رہے ہیں۔ ووٹ دینے والی عوام ہے مگر حکمرانی چند خاندان کرتے ہیں۔ یہ خاندان سیاست کو خاندانی وراثت کی طرح اپنی جیب میں رکھتے ہیں۔ ان کے بچے سیاست میں ایسے داخل ہوتے ہیں جیسے کوئی شخص اپنے باپ کی دکان سنبھالے۔ عوام کی مرضی کا کہیں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔
سیاست میں اگر عوام کی حقیقی شمولیت ہوتی تو آج اس ملک میں تعلیم، صحت اور روزگار بنیادی ترجیحات ہوتیں۔ مگر جب حکمرانی چند خاندانوں کا حق سمجھ لیا جائے تو پھر ترجیحات بھی ان ہی کی ہوتی ہیں۔ وہ سڑک بنواتے ہیں تو اپنے محل تک جانے والی سڑک کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ اسکول کھولتے ہیں تو اپنے حلقے میں ووٹ لینے والی آبادی کے لیے کھولتے ہیں۔ وہ ٹیکس کم کرتے ہیں تو اپنی صنعتوں کے لیے کرتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان کا نظام کبھی ترقی نہیں کرتا۔ یہ ملک منصوبہ بندی سے نہیں، اثر و رسوخ سے چلتا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کو دشمنوں نے نقصان پہنچایا۔ سچ یہ ہے کہ اس ملک کو دشمن نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا اشرافیہ نے۔ دشمن نے تو سرحدوں پر حملہ کیا مگر اشرافیہ نے اس ملک کی بنیادوں پر حملہ کیا۔ دشمن نے جنگ کی مگر اشرافیہ نے ریاست کی روح چھینی۔ دشمن نے زمین پر قبضہ نہیں کیا مگر اشرافیہ نے قوم کی امیدوں پر قبضہ کر لیا۔ آج ملک قرضوں میں ڈوبا ہے مگر یہ قرضے عوام نے نہیں لیے۔ یہ وہ لوگ تھے جو اقتدار کے نشے میں ملک کو گروی رکھ کر بھی اپنے مفاد کا سودا کر لیتے ہیں۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان میں انقلاب آئے گا۔ میرا خیال ہے کہ یہاں انقلاب کی ضرورت نہیں انصاف کی ضرورت ہے۔ یہاں کسی حکومت کو گرائے بغیر بہت کچھ بدلا جا سکتا ہے۔
صرف اتنا کر دیا جائے کہ قانون سب کے لیے برابر ہو جائے۔ صرف اتنا ہو جائے کہ بجٹ غریب کے لیے نہیں بلکہ ملک کے لیے بنایا جائے۔ صرف اتنا ہو جائے کہ ٹیکس دینے والے کو عزت ملے اور چوری کرنے والے کو سزا۔ صرف اتنا ہو جائے کہ سیاست کو وراثت کے بجائے خدمت بنایا جائے۔ اگر یہ ہو جائے تو پاکستان چند ہی برسوں میں بدل سکتا ہے۔پاکستان کی بنیاد ایک خواب پر رکھی گئی تھی۔ ایسا خواب جس میں ہر انسان کو برابر سمجھا جانا تھا۔ ایسا معاشرہ جہاں انصاف طاقت سے نہیں اصول سے چلتا ہو۔ مگر آج یہ خواب بکھر گیا ہے۔ اس کی کرچیاں ہر گلی محلے میں پڑی ہیں۔ ٹھیلے والے سے پوچھیں رکشہ ڈرائیور سے پوچھیں سرکاری اسکول کے استاد سے پوچھیں ہر چہرے پر مایوسی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس ملک میں کچھ نہیں ہو سکتا کیونکہ سب فیصلے پہلے سے طے ہوتے ہیں۔ عام آدمی کے لیے نہ اوپر جانے کا راستہ ہے نہ اپنی زندگی بدلنے کا۔پاکستان ابھی ختم نہیں ہوا۔ ابھی اس کے اندر وہ روح باقی ہے جو بڑے طوفانوں سے بھی بڑی ہے۔ مگر یہ روح تبھی بیدار ہو گی جب عوام سمجھ جائیں گے کہ ملک کی تباہی میں سب سے بڑا کردار ان چند خاندانوں کا ہے جنہوں نے دھرتی کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
جب تک اس جکڑ بندی کو نہیں توڑا جاتا پاکستان کا مستقبل یرغمال ہی رہے گا۔یہ ملک بڑا ہے عظیم ہے زرخیز ہے۔ لیکن اس کا دل تنگ ہو چکا ہے۔ یہ دل تبھی کھلے گا جب عوام اعتماد واپس لائیں گے انصاف کو ترجیح دیں گے حق کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور وہ نظام برابری کی بنیاد پر قائم کریں گے جس کے بغیر کوئی ریاست مضبوط نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں