(گزشتہ سے پیوستہ)
افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہے یہ علاج
ملا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو
یہ شعر کوئی طعنہ نہیں بلکہ دردِ امت کی صدائے بازگشت ہے۔ اقبالؒ نے افغانوں میں اسلامی حریت کی روح دیکھی تھی۔وہ کہتا تھا کہ افغان اگر بیدار ہوں تو پوری امت بیدار ہو سکتی ہےلیکن اگر وہ دشمن کے فریب میں آ جائیں،تو ان کی تلوار اسلام کے بجائے اپنے ہی بھائی کے خون میں تر ہو جائے گی۔
بلوچستان سے،اس سرزمینِ وفا سے،افغان بھائیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان تمہارا دشمن نہیں، تمہارا محافظ ہے۔ہم تمہارے ایمان کے ساتھی ہیں، لیکن اگر تم نے اپنی زمین دشمنوں کے ہاتھ بیچ دی،تو تمہاری نسلیں تمہیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ تمہاری غیرت اگر بیدار ہو جائے تو تمہارے پاس سب کچھ ہے، لیکن اگر تم نے خودی کھو دی، تو سب کچھ خاک ہو جائے گا۔
قرآن کا حکم واضح ہے:یقینا مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
پس اگر تم واقعی ایمان والے ہو، تو اپنی زمین کو باطل کے لیے استعمال نہ ہونے دو۔ تمہاری تلوار، تمہارا ایمان، تمہاری غیرت یہ سب تقاضہ کرتے ہیں کہ پاکستان کا اسی طرح ساتھ دو جیسا گزشتہ چالیس برسوں نے پاکستان نے تمہارا ساتھ دیا نہ کہ پاکستان کے ازلی دشمن مودی کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف سازشوں میں شریک کار بن کر دہشتگردی میں شامل ہوں اور اب دریائے کابل کے پانی کا رخ بدلنے کے لئے ڈیم بنانے کے منصوبے جاری ہیں جبکہ اقبالؒ کی صدا تو یہ ہے کہ:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
یہی پیغام بلوچستان کی اس سرزمین سے تمہیں دیا جا رہا ہے کہ امت کا اتحاد، تمہارا اور ہمارا مشترک فریضہ ہے۔اور پیغام حیات لیکر آیا ہوں میں آج اپنے غیور و بہادر بلوچستان کے عوام کے لیے۔۔۔۔ اقبالؒ کا پیغامِ عمل بلوچستان پاکستان کی روح ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں سنگلاخ پہاڑوں میں وفا کے چراغ جلتے ہیں۔ جہاں قوم پرستی اسلام سے جدا نہیں بلکہ اس کی بقا کا حصہ ہے۔اقبالؒ کے نزدیک قومیت کا مفہوم جغرافیہ نہیں بلکہ ایمان کا رشتہ ہے۔ بلوچستان جس کی مٹی میں تاریخ کی گونج، وفا کی خوشبو، اور غیرت کا وقار بسا ہوا ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جو صدیوں سے اسلامی تمدن کے قلعے کا دروازہ رہا ہے۔یہاں کے عوام نے ہمیشہ وفاداری، قربانی اور استقلال کی مثالیں قائم کیں۔ انہوں نے فرمایا
اسلام کے دامن میں بس اس کے سوا کیا ہے
ایک ضربِ ید اللہی، ایک سجدہ شبیری
بلوچستان کے عوام کو آج یہ پیغام دینا ہے کہ اسلام، پاکستان اور بلوچستان یہ تینوں ایک مثلث کے تین زاویے ہیں۔ اگر ایک زاویہ ٹوٹے، تو مثلث منہدم ہو جاتی ہے۔
اے میرے بلوچ نوجوان دشمن تمہیں تمہاری پہچان سے محروم کرنا چاہتا ہے،تمہیں قبیلے کی تنگ دیوار میں قید کر کے قوم و ملت کے وسیع افق سے جدا کرنا چاہتاہے۔ لیکن تمہاری اصل پہچان اقبالؒ کے مطابق یہ ہے
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
تم وہ دیدہ ور ہو جس کے خواب میں پاکستان کی بقا ہے۔ تمہارے ایمان میں وہ حرارت ہے جو امت کی بیداری کا چراغ بن سکتی ہے۔ بلوچستان کے پہاڑوں سے جب وفا کی صدائیں اٹھتی ہیں، تو پوری امت کا ضمیر بیدار ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اقبالؒ کے شاہین کی طرح پرواز کرو، اور اپنی مٹی کے ساتھ وہی وفا کرو جو ایک سپاہی اپنے پرچم کے ساتھ کرتا ہے۔ اقبالؒ نے اہلِ وطن کو یہی درس دیا تھا:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
بلوچ قوم کے نوجوانوں سے میں کہتا ہوں:تم اقبالؒ کے خواب کی تعبیر ہو تمہارا کردار وہ بنیاد ہے جس پر پاکستان کا وقار قائم ہے۔سی پیک ہو، قومی وحدت ہو، یا دشمن کی سازشوں کا مقابلہ، بلوچ عوام نے ہمیشہ وفاداری کا پرچم بلند رکھا۔اقبالؒ کے الفاظ میں
یہی شیخِ حرم ہے جو چرا کر بیچ کھاتا ہے
گلیمِ بوذر و دلقِ اویس و چادرِ زہرا
اس شعر کی روح تمہیں خبردار کرتی ہے کہ اپنے وطن کے خزانوں کی حفاظت کرو۔ دشمن چاہتا ہے کہ تمہیں تمہارے ہی وسائل سے جدا کر دے، مگر اقبالؒ کہتا ہے
خودی کا سرِ نہاں لاالہ الا اللہ
خودی ہے تیغ، فساں لا الہ الا اللہ
بلوچستان کے فرزندو یہی تمہارا سرمایہ ہے تمہاری خودی، تمہارا ایمان، تمہاری وفا۔ اسی سے پاکستان کی تکمیل ہوتی ہے۔
آج کی اس کانفرنس سے یہ عہد اٹھنا چاہیے کہ ہم علم و تدبر کو اپنا اصل ہتھیار بنائیں گے۔ پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کا تحفظ کریں گے۔امتِ مسلمہ کے اتحاد کو اپنی سیاست اور معاشرت کا محور بنائیں گے۔ نوجوان نسل کو اقبالؒ کے فلسف خودی سے روشناس کرائیں گے اور دشمن کے فتنوں کا جواب علم، اخلاق اور کردار اور قرآن سے دیں گے۔
یادرکھو:اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔اور اقبالؒ نے فرمایا
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
یہی اس مجلس کا اصل پیغام ہے کہ اقبالؒ صرف شاعر نہیں، قرآن کے فکری شارح ہیں۔ان کا پیغام آج بھی اتنا ہی تازہ ہے جتنا ان کے دور میں تھا۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس پیغام کو اپنے دلوں میں زندہ کریں۔
آج کی اس عالمی کانفرنس سے ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اقبالؒ کے خواب کو شعور کا حصہ بنائیں گے۔
اسلامی دنیا کی بقا اب صرف نعرہ نہیں بلکہ عملی اتحاد، سائنسی ترقی، فکری بیداری اور روحانی تجدید کا تقاضا ہے۔
میرے انتہائی عزیز دوستوں اور بھائیو!اب وقت آگیا ہے کہ ہم شکوہ سے جوابِ شکوہ تک کا سفر طے کریں۔ غفلت سے بیداری کی طرف، تقلید سے اجتہاد کی طرف، کمزوری سے قوت کی طرف۔
آج کی میری تمام گزارشات اس عہدِ جدید کے لئے اقبالؒ کے پیغامِ بیداری کا استعارہ ہے جو ہر مسلمان کے دل میں خودی کی ایک ایسی پکار کی شمع روشن کرتی ہے، اور کہتی ہے
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر