(گزشتہ سے پیوستہ)
تاریخ کے افق پرکبھی کبھی ایسے لمحے ابھرتے ہیں جومحض دوانسانوں کی ملاقات نہیں ہوتے،بلکہ دوتہذیبوں کامکالمہ بن جاتے ہیں۔ یہ لمحے وقت کی دھڑکن کوبدل دیتے ہیں،اور صدیوں کی محنت ایک پل میں نئے معانی اختیار کرلیتی ہے۔چین اورامریکا کی حالیہ آویزش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے،ایک جانب وہ قوم جو رفتار پر فخرکرتی ہے،اوردوسری جانب وہ جو صبرسے جیتی ہے۔ایک طرف صنعتی شورکی تہذیب،دوسری جانب سکوتِ حکمت کاتمدن۔
249سالہ امریکی تاریخ نے جب 5 ہزارسالہ چینی شعورکوللکارا،تویہ صرف طاقت کا امتحان نہ تھا،بلکہ فلسفہ وقت کاٹکراؤتھا۔یہ وہ مقام تھاجہاں مغرب کے تاجدارنے مشرق کے دربارمیں قدم رکھا،اوروقت نے اپنی پرانی عدالت میں نیامقدمہ کھول دیا۔دنیا نے دیکھاــ’’عقاب نے اپنے پر سمیٹے ، اور اژدہابغیرگرج کے اٹھا‘‘۔تاریخ کے صفحے نے ایک بارپھر وہی منظردہرایا:کہ طاقت کاجادوختم ہوتا ہے ،مگرتہذیب کی گونج باقی رہتی ہے۔یہ مضمون اسی مکالمے کی داستان ہے جہاں الفاظ میں سفارت نہیں ، تہذیبوں کی دھڑکن ہے؛ جہاں الفاظ میں سفارت نہیں،تہذیبوں کی دھڑکن ہے؛جہاں خاموشی بھی بولتی ہے، اور مسکراہٹ بھی تاریخ لکھتی ہے۔
جب دو صدیوں کی کم سن تہذیب پانچ ہزار برس کی مشرقی دانائی سے آنکھیں ملانے کی جسارت کرتی ہے،توتاریخ محض مشاہدہ نہیں کرتی، مسکراتی بھی ہے۔یہ وہ لمحہ ہوتاہے جب وقت کاترازومتوازن نہیں رہتا،ایک طرف تیز رفتار مگرتھکاہوامغرب،دوسری جانب خاموش مگر گہرا مشرق۔اورسوال یہ نہیں رہتاکہ کون غالب ہے؛ سوال یہ رہ جاتاہے کہ کون باقی ہے۔
دنیاکی جدیدتاریخ میں شایدہی کبھی ایسالمحہ آیا ہوکہ ایک کم عمرتہذیب امریکا،جو بمشکل ڈھائی صدیوں کی تاریخ رکھتاہے،ایک ایسی قوم کے مقابل کھڑی ہوجوپانچ ہزار برس کی تہذیبی روایات کی امین ہے۔یہ وہی تصادم ہے جو رفتار اورگہرائی کے درمیان ہوتا ہے؛ایک طرف جدیدیت کی چمک،دوسری طرف حکمت کی جڑیں۔ یہ محض طاقت کی کشمکش نہیں بلکہ زمانوں کا مکالمہ ہے۔ مغرب کاغرور، مشرق کی صبر آزما فراست کے سامنے۔چین کی تہذیب، جو کنفیوشس کی تعلیمات ، ہان دورکے نظم وضبط، اور صدیوں کی اجتماعی عقل کا مظہر ہے،کسی عارضی معاشی بحران سے گھبراتی نہیں۔ یہ تمدن تاریخ کووقت کے پیمانے پرنہیں بلکہ نسلوں کے تسلسل پرپرکھتا ہے۔ اوریہی وہ مقام ہے جہاں امریکا کا غرورجوصنعتی انقلاب اور نوآبادیاتی ورثے سے پروان چڑھا، پہلی باروقت کی گہرائی سے خائف ہوا۔
ٹرمپ نے ایک دن غرورکے بام پر کھڑے ہوکراعلان کیاتھا،’’میں چین کی معیشت کو تباہ کردوں گا،یہ کبھی نہیں اٹھے گی‘‘۔یہ وہی لہجہ تھاجس میں کبھی نوآبادیاتی حکمران بات کیا کرتے تھے۔ایک گرج جویقین سے زیادہ خوف کی علامت ہوتی ہے۔تاہم یہ جملہ تاریخ کے کانوں میں ایک بازگشت کی طرح گونجا،جیسے روم نے کارتہیج کے خلاف،یابرطانیہ نے متحدہ ہندوستان کے خلاف اعلان کیاتھامگریہ عزم دراصل خوف کی آواز تھی،کیونکہ طاقتور کبھی للکارتانہیں،مطمئن رہتا ہے۔ٹرمپ کالہجہ اس امریکی خوداعتمادی کا آخری مظہر تھا جو دوسری عالمی جنگ کےبعد دنیا پر مسلط ہوئی مگریہ بھی یادرہے کہ ہرطاقت جب عروج پرپہنچتی ہے توزوال کابیج بھی اسی میں پنپتاہے مگروقت نے کروٹ لی،اوروہی شخص جو دھمکیوں کا مینار بن کرکھڑاتھا،اب نرمی کے لفظوں میں پناہ ڈھونڈرہاتھا۔وہی ٹرمپ ،جو کل دھمکیاں دیتاتھا، آج تعریف کے لہجے میں پناہ ڈھونڈرہاتھا۔یہ منظرمحض ایک ملاقات نہیں تھابلکہ طاقت کی نفسیات کاعکاس تھا۔یہ وہی کیفیت تھی جونیپولین کوروس کے دروازے پر،یابرطانوی سامراج کو1947ء میں برصغیر سے رخصت ہوتے وقت پیش آئی تھی۔ تعریف دراصل عجز کا پہلا اظہارہوتی ہے۔یہ سفارت نہیں،سرِتسلیم خم کرنے کی شائستہ صورت تھی۔ٹرمپ نے مسکراتے ہوئے،ہچکچاتے ہوئے کہا ’’آپ عظیم ہیں، آپ ایک وژنری ہیں‘‘۔ یہ الفاظ سفارت کے نہ تھے بلکہ سرِ تسلیم خم کرنے والے کی خاموش آہ تھے۔یہ شرافت نہیں، شکست کامہذب روپ تھا۔
شی جن پنگ کی خاموشی کسی کمزوری کی نہیں بلکہ تہذیبی بلوغت کی علامت تھی۔ چین کی قیادت نےصدیوں سے یہ سیکھاہے کہ جوقوم صبرجانتی ہے،وہ وقت کواپناغلام بنالیتی ہے۔یہ سکون وہی ہےجوچواین لائی کی مسکراہٹ میں تھا جب مغرب نے طنزکیا،یا ڈینگ شیاوپنگ کے تحمل میں جب انہوں نے کہا’’بلی کارنگ اہم نہیں، چوہا پکڑتی ہے یا نہیں، یہی اصل بات ہے‘‘۔دوسری جانب ژی،جیسےکسی مرقعِ صبرکاپیکرہو۔چہرے پرسکون ،آنکھوں میں وقت کااعتماد۔اسے کچھ کہنے،کچھ ثابت کرنے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ تاریخ خود اس کے لہجے میں بول رہی تھی۔
کبھی امریکاخوراک کابادشاہ تھا؛مارشل پلان سے یورپ کوسنبھالا،عالمی بینک کو قابومیں رکھا مگراب وہی سپرطاقت کادعوی کرنے والا ٹرمپ ہاتھ پھیلائے چین سے کہہ رہا تھا ’’ہمیں سویابین دوتاکہ ہمارے کسان زندہ رہیں‘‘۔ اور ٹیرف میں نرمی کی التجاکی۔یہ وہی امریکاتھاجوکبھی دنیا کے معاشی منبرپربادشاہت کرتاتھا،اورآج چین سے ریلیف کی درخواست کررہاتھا۔یہ محض تجارتی مسئلہ نہیں بلکہ تہذیبی منظرنامے کی تبدیلی تھی۔ژی نے محض کہا’’ہم دیکھیں گے کہ آپ کیسابرتاؤکرتے ہیں‘‘۔تاریخ کی سب سے مدبر مگرانتہائی گہری تنبیہ تھی۔یہ جملہ نہیں،ایک تہذیب کی برتری کااقرارتھا۔ یہ وہ لمحہ تھاجب احمدندیم قاسمی کی یہ بات یادآتی ہے:
میں تیرے کہے سے چپ ہوں لیکن
چپ بھی تو بیان مدعا ہے۔ یہ وہی امریکاتھاجوکبھی دنیاکے معاشی منبر پربادشاہت کرتاتھا،اورآج چین سے ریلیف کی درخواست کررہاتھا۔امریکاجس نے ٹیکنالوجی کی بالادستی کواپنی میراث سمجھا،نایاب زمینی معدنیات، جو جدید دنیاکی رگِ حیات ہےیہی وہ مادے ہیں جن سے موبائل، جنگی طیارے، سیمی کنڈکٹرز، اورمصنوعی ذہانت کے آلات بنتے ہیں،آج چین سے وہی مانگ رہاتھا اوریہ سب چین کے پاس ہیں۔
تاریخ نے یہاں فیصلہ لکھ دیاطاقت اب بارود سے نہیں،مٹی سے نکلتی ہے۔پھروہ موڑ آیا جب طاقت کے ترازونے فیصلہ لکھ دیا۔ٹرمپ نے چین سے کہا ’’ہمیں نایاب زمینی معدنیات دوتاکہ ہم اپنے جہاز اڑا سکیں، اپنے کارخانےچلا سکیں‘‘۔
(جاری ہے )