(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ اعتراف تھاکہ مغرب کی صنعت کا دل اب مشرق کی مٹی میں دھڑکتاہے۔یہ چارالفاظ،شاید پچھلی دوصدیوں کی مغربی سامراجی گفتگو کاسب سے مختصرجواب تھے۔جہاں مغرب’’حکم دیتا‘‘ تھا،وہاں اب مشرق ’’سوچنے‘‘ لگا۔یہی لمحہ تھاجب دنیانے محسوس کیاکہ فیصلہ اب نیویارک یالندن میں نہیں،بیجنگ میں ہوتاہے۔ژی نے سکون سے کہا، ’’ہم اس پرغورکریں گے‘‘۔یہ وہ لمحہ تھاجب دنیانے جان لیاکہ اب فیصلہ کرنے والاکون ہے۔طاقت نے زبان بدل لی تھی،گرج سے نہیں، خاموشی سے۔مغرب نے جب بھی کسی قوم سے بات کی،پابندیوں کی زبان میں کی۔چین نے جواب میں تعاون اورتجارت کی زبان اختیار کی۔ افریقا، لاطینی امریکااورایشیانے یہ فرق محسوس کیا اوررفتہ رفتہ عالمی مرکزعقاب کے پنجوں سے نکل کر اژدھے کی گرفت میںآنے لگا۔یہ وہی اصول ہے جوسلجوقی دانشوروں نے کہاتھا:جوہاتھ تلوار تھامتا ہے،وہ دل نہیں جیتتا۔
مغرب اپنی برتری کے زخم چاٹتا رہا، پابندیوں کے ہتھیار سنبھالتا رہامگرچین نے ہاتھ بڑھایا شراکت داری کے ساتھ،تجارت کےوعدے کےساتھ۔یورپ سننےلگا۔افریقہ پہلےہی قریب تھا اور دنیا،بغیرجشن منائے،خاموشی سے اپنے محوربدلنے لگی۔نیاعالمی نظام ٹوٹا نہیں؛اس نے صرف اپنامحوربدل لیا۔اب پیداوار، معدنیات، اور ٹرانسپورٹ کی راہیں مشرق سے گزرتی ہیں۔جیسے کبھی سلک روڈ سے دنیاکی معیشت بہتی تھی،ویسے ہی آج بیلٹ اینڈروڈانیشی ایٹونے اس روایت کوجدید قالب میں زندہ کردیا۔یہ تاریخ کی واپسی تھی مگرنئے لباس میں۔یہ عالمی نظام نہیں ٹوٹا،بلکہ ارتقا پذیرہوا۔دنیاکاکششِ ثقل کامرکزمشرق کی سمت کھسک گیا۔اب زمین کے نایاب خزانے، صنعت کے کارخانے،اور لچک کے ستون،سب چین کے ہاتھ میں تھے۔
’’آزادی،جمہوریت،قیادت‘‘ یہ وہ الفاظ ہیں جوکبھی صدرولسن،روزویلٹ،اورکینیڈی کے زمانے میں معانی رکھتے تھے۔آج یہ الفاظ سرمایہ دارانہ نظام کی پراپیگنڈامشینری کی گونج بن چکے ہیں۔ دنیااب نعرےنہیں،رسداور پیداوار کےتوازن کودیکھتی ہے۔یہ وہ دورہےجہاں فلسفہ نہیں، فیکٹریاں فیصلہ کرتی ہیں۔امریکااب بھی آزادی، قیادت،اورجمہوریت کے ترانے گاتا ہے، مگریہ وہ نغمے ہیں جوگزرے عہدکے ریڈیوپربجتے ہیں۔ نیادور نعروں سے نہیں،سپلائی چین (Supply Chain) سے چلتاہے۔
ٹرمپ اس ملاقات سےفاتح نہیں،شاہد بن کرلوٹا۔اس کےچہرے پروہی تاثرتھاجوکبھی رومن سفیرنے مشرق کے درباروں میں دیکھا تھا کہ یہاں جنگ نہیں جیتی جاتی،وقت جیتا جاتا ہے۔ اس تہذیب کے عروج کاشاہد جونظم وضبط سے جیتتی ہے، نہ کہ غلبے سے۔چین کی قیادت کی سب سے بڑی طاقت اس کاغیرجذباتی طرزِعمل ہے۔یہ قوم بولتی کم ، کرتی زیادہ ہے۔یہ وہی اصول ہےجوچینی فلسفے ’’تاازم میں صدیوں سے لکھاہے‘‘جوسب سے خاموش ہے،وہی سب سے گہراہے‘‘۔یہی سکوت طاقت کی زبان بن چکا ہے۔
ژی کومسکرانے کی حاجت نہ تھی، اسکاسکوت ہی فتح کی مہرتھاکیونکہ اصل طاقت قدم نہیں جماتی،فضامیں تحلیل ہوجاتی ہے۔یہ وہ خاموش قوت ہےجوچلتی نہیں، مگر دنیااس کے بغیر رک جاتی ہے۔چین نے غصے سے نہیں بلکہ مہارت سے عروج پایا۔ عقاب امریکا ابھی تک پرواز پر نازاں ہے،مگرفضاکی سمت بدل چکی ہے۔یہ منظر تاریخ کے اس موڑکی یاددلاتا ہےجب روم اپنی شان میں مدہوش تھااوربازنطینی مشرق نئی بصیرت کے ساتھ ابھر رہاتھا۔اژدہاغصے سے نہیں،مہارت سے اٹھاہے اورعقاب،جوکبھی آسمانوں کابادشاہ تھا اب دھندلکے میں بےسمت منڈلارہاہے،نہ دشمن سامنے،نہ اعتمادپیچھے۔
یہ ملاقات کسی شکست کی کہانی نہیں بلکہ عالمی شعورکے تغیرکی علامت تھی۔امریکانے شاید پہلی بارجانا کہ طاقت صرف بارودمیں نہیں، بردباری میں بھی ہوتی ہے۔چین نے جیتنے کیلئے نہیں، قائم رہنے کیلئے کھیل کھیلااوریہی حکمت اس کی فتح بن گئی۔تاریخ اس لمحے کو یاد رکھے گی نہ شکست کے طور پر،بلکہ ادراک کے موڑکے طورپر۔ امریکاجھکانہیں،سمجھ گیا۔چین جیتا نہیں، کیونکہ وہ کھیل ہی نہیں رہاتھا۔
تاریخ گواہ ہے روم،سپین،برطانیہ سب تلوار سے نہیں،تھکن سے گرے۔سلطنتوں کا زوال کبھی دھماکے سے نہیں آتا،بلکہ خاموشی سے، جیسے خزاں کے پتے شورنہیں کرتے،صرف گرجاتے ہیں،یوں سلطنتیں مٹتی نہیں،دھیرے سے بدل جاتی ہیں۔یہ زوال جنگ سے نہیں، دانائی سے آتاہے۔طاقت سے نہیں،صبرسے۔آگ سے نہیں، خاموشی سے۔ڈریگن نے عقاب کوشکست نہیں دی؛اس نے محض وقت کے کنارے پراس کاعکس مٹادیا۔طاقت کاکھیل ختم نہیں ہوا،بس کھیل کامیدان بدل گیا۔اورانجام یہی ہوا، ڈریگن نے ایگل کو شکست نہیں دی،بس اس کے خواب سے حقیقت کابوجھ ہٹادیا۔
یہ وہ داستان ہے جہاں تاریخ نے اپنی تلوارنیام میں رکھی اورقلم اٹھالیاجہاں تہذیب کی فتح،جنگ کے میدان میں نہیں،دانائی کے مکالمے میں لکھی گئی۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں مشرق نے بولنا بندکیا،اوردنیاسننے لگی۔اس کے نتیجے میں تاریخ کا نیاچہرہ سامنے آگیا۔یہ کہانی طاقت کے تصادم کی نہیں،دانائی کی فتح کی ہے۔یہ وہ لمحہ ہے جب مغرب کی آنکھیں حیرت میں کھلیں،اورمشرق نے بغیرتلواراٹھائے دنیا کا مرکز بدل دیا۔
جب اژدہابولا،دنیاخاموش ہوئی،تاریخ کے پردے پراب جومنظرہے،وہ فتوحات اورجنگوں کانہیں بلکہ ادراک اوربلوغت کاہے۔یہ وہ دور ہے جہاں بندوقیں خاموش اور کتابیں بیدار ہیں؛ جہاں طاقت کے معیاربدل گئے ہیں۔اب سلطنتیں بارود سے نہیں،دانائی سے بنتی ہیں۔چین نے دنیاکو یہ سبق دیاہے کہ فتح اس کی نہیں ہوتی جوزور لگاتا ہے، بلکہ اس کی جوانتظارکرناجانتاہے۔یہی وہ رازہے جوہان دربارسے لے کربیجنگ کے ایوانوں تک گونجتارہاہے اورامریکا؟وہ اب بھی ’’آزادی‘‘ اور’’قیادت‘‘کے نعرے دہرارہاہے،مگر صدیوں کی سیاست اب نعرے نہیں سنتی،صرف نتیجے دیکھتی ہے۔
اژدہا نے عقاب کوشکست نہیں دی،بس اس کے آسمان کی وسعت کوناپ لیا۔یہ زوال نہیں،ادب کے ساتھ مقام کی تبدیلی ہے۔جیسے سورج مغرب میں نہیں ڈوبتابلکہ مشرق میں دوبارہ طلوع ہوتا ہے۔دنیاکانقشہ اب نہیں بدلے گا، مگراس کے معنی بدل گئے ہیں۔طاقت کا مرکز وہاں جاپہنچاہے جہاں صبرعبادت اورخاموشی تدبیرسمجھی جاتی ہے اورشایدیہی تاریخ کاانصاف ہے کہ جب شورتھم جائے،تب خاموشی بولتی ہے، جب عقاب تھک جائے،تب اژدہاابھرتاہے اور جب دنیاتھک کررک جائے،تب مشرق چلنا شروع کرتاہے ۔
(جاری ہے)