ہماری سڑکیں آج کل ایک عجیب شور سے گونج رہی ہیں۔ کہیں کیمرے ٹمٹما رہے ہیں کہیں گاڑیاں اچانک رک کر ڈرائیور کا دل حلق تک لے آتی ہیں اور کہیں ڈیجیٹل چالان کا نوٹیفکیشن فون پر ایسے آتا ہے جیسے کسی نے جیب پر ڈاکہ ڈال دیا ہو۔ اسلام آباد، لاہور، ملتان، فیصل آباد اور کراچی۔ ہر طرف ایک ہی کہانی ہے۔ کیمرے لگا دیے گئے ہیں اور جرمانے یوں برس رہے ہیں جیسے بارش۔
پنجاب کے شہروں اور کراچی میں تو یہ سلسلہ حد سے بڑھ چکا ہے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر آپ کو ایسا جرمانہ ملتا ہے کہ بندہ پہلے اپنا بٹوہ دیکھتا ہے پھر آسمان کی طرف پھر سوچتا ہے شاید یہ چالان اس کا نہیں کسی بڑے آدمی کا ہو جو غلطی سے اس کے گھر پہنچ گیا ہے۔لیکن افسوس! یہ غلطی نہیں نئی ریاستی حکمتِ عملی ہے۔وہ دو سو والا چالان جسے ہم پیسے نکالے بغیر ہی دے دیا کرتے تھے اب دو ہزار کا ہو چکا ہے۔تین سو والا اب تین ہزار۔لوگ سوال کرتے ہیں کیا ہم نے آمدنی یا تنخواہیں اتنی بڑھائی ہیں کہ جرمانے بھی اسی رفتار سے بڑھ جائیں؟چند دن پہلے لاہور کے مال روڈ پر ایک منظر ایسا دیکھا گیا کہ دل بیٹھ گیا۔ ایک بزرگ شہری نے تین ہزار روپے کا چالان ملنے پر اپنا سر پیٹنا شروع کر دیا۔ وہ دونوں ہاتھوں سے اپنے گال پر تھپڑ مار رہے تھے۔ ہر تھپڑ میں ایک سوال تھا، ایک چیخ، ایک احتجاج۔لوگ سمجھے وہ پاگل ہو گیا ہے مگر نہیں۔وہ پاگل نہیں ہوا تھا۔وہ صرف انصاف سے مایوس ہو چکا تھا۔میں ایک ٹی وی سکرین پر یہ منظر دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ یہ تھپڑ بزرگ کے چہرے پر نہیں پڑ رہے تھے بلکہ یہ تھپڑ اس نظام کے چہرے پر پڑ رہے تھے جو ظلم تو بڑھا دیتا ہے مگر روزگار نہیں بڑھاتا، لوگوں کی حالت نہیں دیکھتا جرمانے تو بڑھا دیتا ہے مگر تنخواہیں نہیں بڑھاتا۔ٹیکس تو بڑھا دیتا ہے مگر سہولت صفر دیتا ہے۔حضرت علی ؓ نے فرمایا تھاـ ’’کفر کا نظام چل سکتا ہے، ظلم کا نہیں ‘‘ ہم شاید اسی نہج پر کھڑے ہیں جہاں ظلم اپنی آخری حدوں کو چھونے لگا ہے۔یہ ڈیجیٹل چالان انصاف ہے یا انتقام؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ کیمرے اس وقت تو چلتے ہیں جب ایک عام شہری کوئی غلطی کرے لیکن جہاں سے پروٹوکول گزرتا ہے وہاں کیمروں کی ریڈ کارپٹ پالیسی ہے۔کسی نے آج تک نہیں دیکھا کہ کسی وزیر، کسی سیکریٹری، کسی پروٹوکول گاڑی نے چالان بھرا ہو۔پولیس بھی خاموش، کیمرے بھی اندھے۔ قانون صرف انہیں دیکھتا ہے جن کے پاس سفارش نہیں کوئی حکومتی عہدہ نہیں اور کوئی طاقت نہیں۔
ایک بیوہ عورت کے نام چالان آیا تو محلے نے شور مچایا۔ باجی تو چار سال پہلے فوت ہو چکی ہیں محکمہ کہتا ہے کہ ہمارا سسٹم یہی بتا رہا ہے۔تو سوال یہ ہے کہ کیا ملک سسٹم چلائے گا یا انسان چلائیں گے؟ اگر سسٹم غلط ہے تو سزا عوام کو کیوں؟اور اب آ جائیں اس نئے سرکاری ڈالا کلچر نامی مرض پر۔ یہ وہ کلچر ہے جس نے پورے ملک میں ایک نیا طبقاتی فرق پیدا کر دیا ہے۔پہلے پروٹوکول صرف وزیروں کو ملتا تھا اب گریڈ 16 اور 17 کے افسران بھی ڈبل کیبن ڈالوں پر بیٹھ کر یوں نکلتے ہیں جیسے وہ کسی ریاست کے شہزادے ہوں۔
پیچھے دو گارڈ، ایک ڈرائیور، سامنے نیلی بتی، ہاتھ میں وائرلیس اور چہرے پر تکبر کا فریم۔خواتین و مرد افسران کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر آ رہی ہیں۔کوئی ڈالا سے اتر کر چائے خرید رہا ہے،کوئی نکل کر سگریٹ پی رہا ہے،کوئی گارڈ سے اپنے بال ٹھیک کروا رہا ہے اور عوام ان کی ویڈیوز دیکھ کر ماتم کر رہے ہیں۔کیوں؟کیونکہ یہی لوگ سب سے زیادہ ٹریفک قوانین توڑتے ہیں۔یہ ون وے میں داخل ہوتے ہیں،یہ سگنل بند کرواتے ہیں،یہ سڑکیں خالی کرواتے ہیں اور عوام کو گھنٹوں گرمی سردی میں کھڑا رہنے دیتے ہیں۔پھر سوال پیدا ہوتا ہے جب قانون بنانے والے قانون توڑیں گے تو عوام کیوں عمل کریں؟ جب پروٹوکول کی دس گاڑیاں سگنل توڑ کر گزرتی ہیں اور کیمرہ خاموش رہتا ہے تو غریب کی موٹر سائیکل پر کیمرہ کیوں جھپٹ پڑتا ہے؟
اس ملک میں دو پاکستان چل رہے ہیں۔ پہلا پاکستان جہاں پروٹوکول ہے، نیلی بتی ہے، ڈالا ہے، اختیار ہے۔ اور جرمانہ؟ جرمانہ صرف عام آدمی کا مقدر ہے۔دوسرا پاکستان جہاں غریب آدمی موٹر سائیکل والا ہر لمحے ڈرتا ہے کہ کہیں کیمرہ اسے نہ پکڑ لے۔جہاں رکشہ والا پیٹرول بچانے کے لیے گاڑی نیوٹرل کرتا ہے تو کیمرہ اسے خلاف ورزی پر پکڑ لیتا ہے۔جہاں لوگ جرمانہ بھرتے بھرتے بجلی کا بل دینا بھول جاتے ہیں۔جہاں ریڑھی والا یہ سوچتا ہے کہ آج سبزی بیچوں یا چالان بھرنے کے لیے پیسے بچائوں؟ جرمانے بڑھانے سے قانون نہیں ٹھیک ہوتا۔
کیمرے لگا دینے سے قوم مہذب نہیں بنتی۔قانون اس وقت چلتا ہے جب اوپر والا خود قانون کے سامنے جھکے۔جب وزیر قانون توڑے تو وہ جرمانہ بھرے۔جب سیکریٹری سگنل توڑے تو وہ لائن میں کھڑا ہو۔ جب بیوروکریٹ غلط پارکنگ کرے تو اس کی گاڑی بھی لفٹ ہو۔لیکن جب اوپر والے آزاد ہوں اور نیچے والے غلام تو قومیں پھر ترقی نہیں کرتیں بلکہ بغاوت پیدا ہوتی ہے۔عوام کی برداشت اب ختم ہو رہی ہے۔ چالان پر چالان، ٹیکس پر ٹیکس، مہنگائی پر مہنگائی اور اوپر والے؟ ڈالوں پر بیٹھ کر قانون کا مذاق اڑا رہے ہیں۔یہ معاملہ محض ٹریفک تک محدود نہیں رہا۔یہ پورے نظام کا چہرہ بن چکا ہے۔یہ بتا رہا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں۔ ریاستیں اسی وقت ٹوٹتی ہیں جب عوام اور حکومت کے درمیان فاصلہ حد سے بڑھ جائے۔اور آج وہ فاصلہ صرف بڑھتا نہیں بلکہ دوڑتا چلاجا رہا ہے۔
کیا ایسا ممکن ہے کہ ایک طرف غریب کی موٹر سائیکل پر کیمرہ فوری چالان کرے اور دوسری طرف پروٹوکول کی دس گاڑیاں سگنل توڑ کر گزریں اور کوئی نہ بولے؟ کیا کوئی ملک کبھی ٹھیک ہو سکتا ہے جب یہاں دو الگ الگ قوانین چل رہے ہوں؟ جب تک قانون صدر، وزیر اعظم، وزیر اعلی، سیکریٹری اور پروٹوکول سے شروع نہیں ہوگا یہ ملک کبھی سیدھا نہیں ہوگا۔ کبھی نہیں۔اصلاحات کی پہلی شرط یہ ہے کہ سب کے لیے ایک قانون ہو۔ جب تک پروٹوکول والے سگنل نہیں روکیں گے، جب تک سرکاری افسر اپنی گاڑی خود نہیں چلائیں گے جب تک حکمران عام سی گاڑی میں بغیر سائرن کے سفر نہیں کریں گے تب تک اس ملک میں کوئی قانون نہیں چل سکتا۔قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب حکمران خود مثال قائم کرتے ہیں۔اور قومیں اس وقت تباہ ہوتی ہیں جب حکمران قانون سے آزاد ہو جائیں۔اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو وہ وقت دور نہیں جب لوگ قانون سے نہیں قانون بنانے والوں سے نفرت کرنے لگیں گے۔ پھر تاریخ ہمیشہ ایک ہی فیصلہ کرتی ہے ظلم کا نظام گر جاتا ہے چاہے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو۔اور یہ ملک اب مزید ظلم برداشت نہیں کر سکتا۔قومیں اچانک تباہ نہیں ہوتیں۔زوال آہستہ آہستہ اترتا ہے۔پہلے انصاف ٹوٹتا ہے پھر ادارے کمزور ہوتے ہیں پھر نظام ہانپنے لگتا ہے۔ اور آخر میں عوام امید چھوڑ دیتے ہیں۔ خدا نہ کرے۔لیکن اگر یہ ڈالا کلچر اور ڈیجیٹل انتقام جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان بھی اسی نہج پر پہنچ جائے گا جہاں عوام نظام سے بددل ہو کر ہاتھ اٹھا بیٹھتے ہیں۔