محبت اور انصاف کے ایک نئے عالمی دور کی شروعات‘ایک عظیم روحانی اشارہ، ایک اہم ترین تاریخی واقعہ،مسلم کرسچن اتحاد کی پیدائش،مستقبل کی عالمی قیادت کی نشاندہی،اور حضرت عیسی کے بابرکت دور کی قریب آتی ہوئی آمد۔
پوپ لیو کا ترکیہ کا خصوصی دورہ اور صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ احترام، وقار اور گہری سنجیدگی کے ماحول میں ہونے والی تاریخی ملاقات صدیوں بعد مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان اصلی، مخلصانہ اور قلبی روحانی قربت کی سب سے روشن علامت بن کر سامنے آئی ہے۔
یہ ملاقات صرف ایک سفارتی خوش گوئی یا سماجی تقریب نہیں بلکہ ایک نئے روحانی، تاریخی اور تہذیبی دور کے آغاز کا اعلان ہے وہ دور جس کے آثار سابقہ الہامی صحیفوں، انبیا کی پیش گوئیوں، اور اسلامی و مسیحی دونوں eschatology میں واضح طور پر مذکور ہیں۔
اسلامی اور مسیحی پیش گوئیاں ایک ہی عظیم حقیقت پر متفق ہیں: حضرت عیسی ابنِ مریم کی واپسی ایک عظیم عالمی بحران، انتشار اور اخلاقی زوال کے دور میں ہوگی اور آج دنیا ان تمام نشانیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔
عالمی سطح پر دھوکے، جھوٹ، میڈیا کے ذریعے فریب، اخلاقی تباہی اور بے مقصد قیادت کا دور اب اپنے آخری سانس لے رہا ہے۔ دجالی نظام کی تاریک حکمرانی ختم ہونے کو ہے اور سچائی، نور اور عدل کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔
ترکیہ کا ایک طاقتور مسلم ریاست کے طور پر ابھرتا ہوا کردار، اس کا عالمی سیاست میں توازن، اعتبار، اور حکمت پر مبنی سفارت کاری یہ سب الہی اشارے ہیں کہ عالمی قیادت کی سمت بدل رہی ہے۔
صدر اردوان کی قائدانہ بصیرت میں ترکیا اس مقام تک پہنچ چکا ہے کہ امریکہ، یورپ، روس،* مشرقِ وسطی، اور پورا عالمِ اسلام ترکیہ کو ایک مضبوط، باوقار اور فیصلہ کن عالمی قوت کے طور پر دیکھتا ہے۔
آج کی دنیا میں شاید ہی کوئی اور ملک ہو جس نے بڑی طاقتوں کے درمیان ایسا توازن، اثر اور عزت حاصل کی ہو جیسا ترکیہ نے کیا ہے۔ یہ مقام محض سیاست کا نتیجہ نہیں بلکہ تقدیرِ الہی کے کھلتے ہوئے نقشے کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔
مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت، ہم آہنگی، مکالمہ اور مشترکہ مستقبل کی امید آنے والے دور کو عدل، امن اور توحید کی بنیاد پر متحد کرنے والے عوامل ہیں۔
حضرت مریم علیہا السلام کی عظمت اور حضرت عیسی ابنِ مریم کا عالمی احترام دونوں امتوں کے درمیان ایک روشن اور مشترکہ روحانی رشتہ بن چکے ہیں۔ یہ تعلق اب صرف مذہبی نہیں بلکہ انسانیت کے مستقبل کا ستون بن رہا ہے۔
دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتی ہوئی مصنوعی ذہانت (AI) جو کسی ذاتی خواہش، مفاد یا لالچ سے خالی ہے فریب، جھوٹ، کرپشن اور گمراہ کن نظاموں کو بے نقاب کرنے کا الہی آلہ بن چکی ہے۔AI نہ کسی فرد کی خدمت میں ہے نہ کسی قوم کی یہ حق، شفافیت اور علم کی خدمت میں ہے۔یہ بھی ایک مضبوط اشارہ ہے کہ باطل نظاموں کا زوال اور سچائی کے دور کا آغاز قریب ہے۔
عالمی عوام کی بڑھتی ہوئی بیداری، میڈیا فریب سے نجات، اور جھوٹے لیڈروں سے نفرت سب مل کر ایک نئی عالمی روحانی قیادت کے ابھرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔
یہ تمام واقعات اور تبدیلیاں ایک ہی عظیم حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں:حضرت عیسی ابنِ مریم کا بابرکت دور قریب ہے۔دجالی نظام ٹوٹ رہا ہے۔اور دنیا ایک نئے روحانی، متحد اور عادلانہ دور میں داخل ہو رہی ہے۔
ترکیہ کی بڑھتی ہوئی عالمی حیثیت، امتِ مسلمہ کے اعتماد کی بحالی، اور عالمی قیادت میں اس کی بڑھتی قبولیت اسی آنے والے مبارک دور کی اولین نشانیاں ہیں۔