Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

کوئٹہ کانفرنس اور روشن فکر کی تجدید

(گزشتہ سے پیوستہ)
اقبال ؒنے اپنی نظموں میں جن استعاروں کوبرتا،وہ محض شعری صناعت کاہنرنہیں بلکہ تہذیبی دعوتِ تعمیرہے۔آج جب عقاب اوراژدہا دنیاکی طاقت کے دوبڑے مراکزبن چکے ہیں،مسلم دنیاایک تماشائی کی طرح اس کشمکش کے بیچ کھڑی ہے۔اقبال یہاں بھی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک قوتِ مسلم کاسرچشمہ نہ توعقاب کی جارحیت میں ہے اورنہ اژدہے کی حکمتِ عملی میں، بلکہ خودی کی اس آگ میں ہے جوانسان کو اپنی اصل پہچان سے روشناس کردیتی ہے۔یہی خودی،انسان کوخالق کے حضورجواب دہ بناتی ہے، اسے ظلم کے خلاف سینہ سپرہوناسکھاتی ہے،اسے قوت دیتی ہے کہ وہ طاقت کے مراکزکے سامنے دستِ سوال درازنہ کرے ، اوراسے یہ حوصلہ عطاکرتی ہے کہ وہ اپنی کھوئی ہوئی منزل آزادی، وقاراورتہذیبی خودمختاری دوبارہ حاصل کرسکے۔
اگرمسلم نوجوان،اقبال ؒکے شاہین کی طرح خودی کے پہاڑوں پربسیراکرلے اوراپنے باطن میں وہ روشنی پیداکرے جوایمان،علم اور عمل سے پھوٹتی ہے توپھرنہ عقاب کاخوف باقی رہے گا،نہ اژدہے کاہیبت ناک سایہ۔پھرامتِ مسلمہ اپنے مقامِ بلندکوپانے کے قابل ہو جائے گی،وہ مقام جس کیلئے کبھی اقبال نے کہاتھا:
حق بات کو لیکن میں چھپاکرنہیں رکھتا
توہے،تجھے جوکچھ نظرآتاہے،نہیں ہے!
اقبال کے فکرِخودی کاتاریخی رشتہ اسلامی تاریخ کی اس سنہری لڑی کاتسلسل ہے جوحضرت عمرؓکی عدالت، خالدؓبن ولیدکاعزم، صلاح الدینؒ ایوبی کاحلم،ٹیپو سلطانؒ کی مزاحمت، نورالدین زنگی ؒکا تقوی،اور سلطنتِ عثمانیہ کی شجاعت سے مل کر بنی ہے۔
’’اسرارِخودی‘‘کے دیباچے میں اقبال لکھتے ہیں کہ مسلمان کی اصل قوت اس کے باطن کی تعمیرہے۔
’’رموزِبیخودی‘‘میں وہ اسے امت کی اجتماعی وحدت سے جوڑتے ہیں۔
’’جاوید نامہ‘‘میں اسے روحانی کائنات کی وسعتوں سے ملاتے ہیں۔
’’ارمغانِ حجاز‘‘میں اسے عشقِ رسول ﷺ کی تکمیل پرچھوڑدیتے ہیں۔
یہ پوراتصورشاہین کی علامت بن کر سامنے آتاہے۔
آج دنیادوبڑی طاقتوں کی باہمی کشمکش میں پھنسی ہوئی ہے،لیکن اقبال ؒنے یہ واضح کردیاتھاکہ اگرمسلمان اپنی خودی کوزندہ کرلیں، اپنافکری مرکزپہچان لیں،اپنی روحانی طاقت کو حرکت میں لے آئیں،اورایمان وعلم کی بنیادپراپنی اجتماعی وحدت قائم کرلیں،تونہ عقاب کاسامراجی سایہ انہیں ڈراسکتاہے اورنہ اژدہے کی تہذیبی یلغار انہیں بلاثبوت محصورکرسکتی ہے۔اقبالؒ نے بالِ جبریل’’خداکے حضور‘‘میں وہ نسخہ پیش کیاجوآج بھی عصرِحاضرمیں رہنمائی فراہم کرسکتاہے:
اے انفس وآفاق میں پیداتری آیات
حق یہ ہے کہ ہے زندہ وپایندہ تری ذات
دنیاکی جنگیں خواہ معاشی ہوں،عسکری ہوں یاتزویراتی،اقبال تاریخی تناظر میں امت مسلمہ کی کھوئی ہوئی منزل کاحل تلاش کرتے ہیں۔یہ کہناغلط نہ ہوگاکہ مسلم امت نے جب بھی اپنے مرکز سے دوری اختیارکی،زوال نے اس کا تعاقب کیا۔اندلس کے زوال سے لے کر بغداد کی تباہی تک،سلطنتِ عثمانیہ کی کمزوری سے لے کربرصغیرکی سیاسی شکست تک ہر دور میں ایک ہی درس نمایاں تھا:قومیں اپنے باطن سے غافل ہوں توبیرونی طاقتیں ان پرمسلط ہوجاتی ہیں۔اقبال اسی نقطے کی طرف لوٹاتے ہوئے کہتے ہیں:۔
خودی کوکربلنداتناکہ ہرتقدیر سے پہلے
خدابندے سے خود پوچھے بتاتیری رضاکیاہے
یہ وہ نکتہ ہے جوامت کواپنی کھوئی منزل دوبارہ دلانے کاواحدراستہ ہے۔
اگرآج مسلم نوجوان اقبال کے شاہین کو اپناکرداربنالیں،اپنی خودی کوتعمیرکرلیں،اپنے ایمان کوحرارت دے لیں،اپنی علمی وراثت سے رشتہ جوڑلیں،اپنی اجتماعی وحدت کوبحال کر لیں، تو دنیاکی طاقتیں ان پراثراندازنہیں ہوسکتیں۔ دنیا کی تاریخ شاہدہے کہ جوقومیں اندر سے مضبوط ہو جائیں،انہیں بیرونی طوفان شکست نہیں دے سکتے۔اقبال نے اسی یقین کوتاریخ،دین،انسان اورتہذیب کے آئینے میں دیکھ کرکہاتھا:
افرادکے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فردہے ملت کے مقدرکاستارا
یہ ستارااگرچمک اٹھے توعقاب واژدہاکی جنگ میں بھی امت اپناراستہ خودتراش سکتی ہے اوراقبال کے کلام سے امت مسلمہ ایک نئی صبح کاآغازکرسکتی ہے۔
اسی فکری پس منظرمیں اگرہم کوئٹہ کے تعمیرِنوٹرسٹ کے زیرِاہتمام منعقد ہونے والی اس سہ روزہ بین الاقوامی کانفرنس کاجائزہ لیں توحافظ طاہر جوکہ ایک سول بیوریوکریٹ بطورسیکرٹری حکومت بلوچستان ہیں،کانام آج کے فکری افق پر ایک مشعل بردار کے طورپرابھررہاہے جنہوں نے اقبالؒ شناسی کی نئی صبح کاسراغ لگانے کابیڑہ اٹھایا۔ حافظ طاہر نے اپنے ساتھیوں کی شب وروزمحنت کے ساتھ اس عظیم الشان عالمی اقبالؒ کانفرنس کا کیا خوب اہتمام کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا اوران کے اخلاص اورعزم سے یہ حقیقت اوربھی نمایاں ہوگئی کہ اقبالؒ کی فکرآج بھی زندہ،فعال اورامتِ مسلمہ کی رہنمائی کیلئے نازک ترین وقت پرسامنے آنے والی روشنی ہے۔
حافظ طاہر نے گویااس سچ کوپھرسے نمایاں کردیاکہ اگردنیاسیاسی انتشار،تصادم اور فکری گمراہی کے اندھیروں میں گم ہوتی جارہی ہے تواس کیلئے اقبال کاپیغامِ حیات خودی ، عمل،شجاعت اورخدمتِ انسانیت ایک ایساچراغ ہے جواب بھی نئی صبح کاسراغ دے سکتاہے۔وہ دردِ دل رکھنے والے ایسے دانشور ہیں جن کے سینے میں اقبالؒ کی فکرکاچراغ ابھی تک پوری آب وتاب سے روشن ہے۔ تعمیرِنوٹرسٹ کوئٹہ کی سرپرستی میں انہوں نے جس عزم اورحوصلے کے ساتھ پہلی بارسہ روزہ بین الاقوامی کانفرنس منعقدکی،وہ صرف ایک اجتماع نہیں تھابلکہ اقبال کی فکرکودوبارہ مرکزِگفتگو بنانے کی عملی جدوجہد تھی۔پاکستان کے گوشے گوشے سے،اور کئی ملکوں سے آنے والے اقبال شناسوں نے اپنے دل کی دھڑکنوں کوایک صف میں رکھ کریہ اقرار کیا کہ :آج کے ہنگامہ خیزدورمیں اقبالؒکی ضرورت پہلے سے بڑھ گئی ہے۔
حافظ طاہر نہ صرف اقبال ؒشناس دانشورہیں بلکہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے سینے میں اقبال ؒکی فکرکاوہ تپتاہواچراغ موجود ہے جوآج کے فکری اندھیروں میں راستہ دکھاتا ہے۔ان کی کاوشیں اس بات کامنہ بولتا ثبوت ہیں کہ اگرچہ ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی،سیاسی افراتفری اورعالمی سطح پربڑھتے ہوئے تصادم سے دنیاایک عجیب بے سمتی کا شکار ہے،لیکن اقبالؒ کی تعلیمات اب بھی امت کووہ مرکزِثقل عطاکرسکتی ہیں جہاں سے اس کی اجتماعی زندگی نئی توانائی حاصل کرسکتی ہے۔
یہ حقیقت قابلِ تحسین ہے کہ کوئٹہ جیسے شہرمیں حافظ طاہرصاحب نے اقبال ؒکے شیدائیوں کوجمع کرکے عالمی سطح کی پہلی سہ روزہ کانفرنس منعقد کرکے وقت کی پکارکابروقت کامیاب جواب دے کربالعموم پاکستان اوربالخصوص بلوچستان کے نوجوانوں اور مقتدراداروں کو موجودہ سیاسی ظلمتوں میں روشنی کاوہ چراغ بلندکرکے راستہ دکھایاہے جس کی اس وقت اہم ضرورت ہے۔یہ محض انتظامی کامیابی نہیں تھی بلکہ ایک فکری احیا تھا۔ اس کانفرنس میں پاکستان، ایران، مالدیپ، بنگلہ دیش،عراق،مراکش،وسطی ایشیااور دیگر عرب دنیاکے اقبالؒ شناسوں نے شرکت کی۔بنگلہ دیش سے آئے ہوئے محقق اوردانشورنے برملاحالیہ بنگلہ دیش میں آنے والے انقلاب کواقبال کی تعلیمات سے جوڑتے ہوئے بتایاکہ کس طرح علامہ اقبالؒ کی شاعری نے وہاں کے نوجوانوں کے دلوں کے اندر خودی کاوہ جذبہ پیداکیاجس نے حسینہ واجد کی ظالم حکومت کوفرار ہونے پر مجبور کردیا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں