Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

کوئٹہ کانفرنس اور روشن فکر کی تجدید

(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اقبالؒ کی فکر آج بھی بین الاقوامی سطح پرزندہ ہے۔اس اجتماع میںتشکیلِ جدید،جاوید نامہ،اسرارو رموز، اور شعریاتِ اقبال پرانتہائی علمی مقالات پیش کیے گئے۔ یہ وہ لمحہ تھاجس میں اقبال کے شاہین کی آوازایک بارپھراجتماعی سطح پرسنی گئی۔
اس کانفرنس میں پاکستان سمیت مختلف ممالک کے اقبال شناسوں نے اقبالؒ کے کلام اور افکار پرنہ صرف تحقیق پیش کی بلکہ اسرارِ خودی(1915)اور رموز بیخودی(1918)جیسے بنیادی متون کوعصرِحاضرکے تناظرمیں سمجھنے کی نئی جہتیں بھی پیداکیں۔ خطب الہ آباد(1930) اور پسِ چہ بایدکرد(1936)کے تاریخی پس منظر کو بھی اس میں خاص اہمیت دی گئی،جن کابنیادی پیغام یہ ہے کہ مسلمان اگراپنے فکری مرکزسے جڑجائیں توزمانے کی تیزترتبدیلیاں ان کے رخ کوموڑنے کی بجائے مضبوط کردیتی ہیں۔
دنیاکے سیاسی نقشے بدلتے رہیں،طاقتیں ادلتی بدلتی رہیں،مگراقبال ؒکاشاہین آج بھی ایک زندہ اورجاویدعلامت ہے۔اقبالؒ کاپیغام وقت کے دھارے میں کبھی پرانانہیں ہوتا۔ آج جب دنیا طاقت کی دوعلامتوںعقاب اوراژدہے کے بیچ الجھی ہوئی ہے،اقبال کاشاہین قوموں کو بتاتاہے کہ اصل طاقت درحقیقت روح کی پروازمیں ہے،نہ کہ زمین کی لادین سیاست میں۔ خودداری، ایمان، اخلاق،جرت اورروحانی بلندی کی علامت۔جب تک امتِ مسلمہ اس شاہین کی پرواز کومحسوس نہیں کرے گی،اس کی تقدیردھندلکوں میں لپٹی رہے گی اورجب یہ پروازبیدارہوجائے گی تونہ عقاب کی جکڑباقی رہے گی نہ اژدہے کی حکمت کی ضرورت کیونکہ شاہین کی نگاہ جہاں پہنچتی ہے وہاں دنیاکے سارے سراب ماندپڑجاتے ہیں۔
یہ کانفرنس اگرچہ اپنے ایام مکمل کرچکی ہے،مگراس کی فکری چمک ابھی شفق کی طرح آسمانِ امت پرپھیل رہی ہے۔تاہم یہ عظیم الشان بین الاقوامی اجتماع اپنے اختتام پرنہیںبلکہ ایک نئی صبح کے آغازپرکھڑاہے۔یہ تین دن محض علمی گفتگونہیں تھے؛یہ تاریخ کے ساتھ ایک عہدِنوکی تجدید تھی۔یہاں پیش کیے گئے افکارمیں وہی حرارت تھی جس نے کبھی بدرکے ریگزاروں کو طاقت بخشی، وہی بینائی تھی جس نے قسطنطنیہ کے دروازے کھولے،وہی روحانی وقارتھاجس نے غرناطہ کوصدیوں تک جِلابخشی،اوروہی اخلاقی استقامت تھی جواقبال کے شاہین کوعصرِحاضرکے عقاب و اژدہے سے بلندرکھتی ہے۔
عقاب اوراژدہے کی اس بیرحم دنیامیں جہاں طاقت کے بت بلندہورہے ہیں اوراخلاق کی بنیادیں لرزرہی ہیں،دنیاکی سیاست آج بھی طاقت کے انہی بتوں کے گردگھوم رہی ہے،مگرکوئٹہ کی اس فکری بزم نے اعلان کیاکہ مسلمان کی تقدیر نہ واشنگٹن کی میزوں اور ایوانوں سے لکھی جاتی ہے،نہ بیجنگ کے نقشوں اورحکمتِ عملی سیامتِ مسلمہ کی اصل توانائی تواس کے اندرہیاس کی خودی میں،اس کی روح کے استقلال میں،اوراس کے ایمان کی وہ حرارت جسے اقبال نے شاہین کی پروازمیں مجسم دیکھا۔اس کی تقدیر تواس وقت روشن ہوتی ہے جب اس کے دل میں خودی کی آگ جاگ اٹھتی ہے،جب اس کی روح میں شاہین کی پروازتازہ ہوجاتی ہے، جب وہ اقبال کے پیام کواپنارہنمابنالیتاہے۔
حافظ طاہراورتعمیرِنوٹرسٹ کی یہ کوشش صرف ایک علمی کارنامہ نہیں،یہ تاریخ میں گونجتاہواوہ نغمہ ہے جونسلوں کوجگاتا ہے۔ انہوں نے اس کانفرنس کے ذریعے ثابت کر دیا کہ بلوچستان کی سنگلاخ وادیوں میں بھی اقبال کا پیغام اسی طرح گونجتاہے جیسے کبھی لاہورکی بادشاہی مسجد کے میناروں سے یادہلی کے کھنڈروں سے گونجاکرتاتھا۔
اوریہ سب کچھ اس لیے ممکن ہواکہ حافظ طاہر صاحب نے اپنی محبت،اپنی بصیرت اوراپنے خلوص سے اس چراغ کوروشن کیامگریہ چراغ فقط ان کے ہاتھ میں نہیں تھایہ ان کی پوری ٹیم کی شبانہ روزمحنت، اخلاص،قربانی اورعزمِ مسلسل کاثمر تھا۔ ان لوگوں نے کوئٹہ کی وادیوں میں ایساعلمی مینارکھڑاکیاہے جس کی روشنی اب پورے خطے میں پھیل رہی ہے۔
یہاں پیش کیے گئے مقالات،مکالمے اورفکر کے چراغ اس حقیقت کاثبوت ہیں کہ اقبال کا شاہین آج بھی امت کی پیشانی کاستارہ بن سکتا ہے اگرہم اس کی پروازکاپاس رکھیں۔دنیابدل رہی ہے،طاقت کے مراکزتبدیل ہورہے ہیں، لیکن اقبال کاپیغام نہ کبھی پراناہوانہ کبھی ہو سکے گا۔ جب تک مسلمان نوجوان اپنی خودی کوبیدارنہ کریں، اپنی فکرکوروشن نہ کریں،اوراپنے اخلاق کا نگہبان نہ بنیں،دنیاکے نقشے ان کے خلاف رہیں گے۔مگر جب ایک باریہ چنگاری بھڑک اٹھتی ہے تونہ عقاب کے پنجے اسے روک سکتے ہیں نہ اژدہے کی فلسفیانہ پھنکاراسے دھوکہ دے سکتی ہے۔
آخر میں،دعاہے کہ حافظ طاہر کی یہ سعیِ مشکور،یہ شبانہ روزمحنت،اوریہ عشق وآگہی سے بھرپور خدمتِ اقبال،ان کیلئے دنیا وآخرت کی کامیابیوں کاذریعہ بنے۔خداکرے کہ اس کانفرنس کی روشنی پورے عالمِ اسلام میں پھیل جائے، نوجوانوں کے دلوں میں خودی کی آگ دہکادے،اوراقبال کاشاہین ایک بارپھرامت کواس کی کھوئی ہوئی صبح تک پہنچادے۔جب تک اقبال کاشاہین زندہ ہے،امت کی صبح کبھی نہیں ڈھلتی۔یہی وہ امیدہے جس پرقوموں کامستقبل کھڑاہوتاہے،اوریہی وہ عہدہے جوکوئٹہ کی اس عالمی اقبال کانفرنس نے دنیاکے سامنے ایک زندہ حقیقت کی طرح رکھ دیاہے۔اورآج کوئٹہ نے ثابت کردیاہے کہ یہ شاہین اب بھی بیدار ہے، اب بھی اپنی پروازکااعلان کررہاہے، اوراب بھی نسلوں کے مقدربدل سکتاہے۔
حافظ طاہر جیسے عاشقِ رسولﷺ دانشور اورتعمیرنوٹرسٹ کوئٹہ بلوچستان کے تمام اکابرین اقبالؒ کے اس پیغام کوزندہ رکھنے کی جو عملی کوشش کررہے ہیں،میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے دعاگوہوں کہ ان کی یہ شب وروزکی کاوشیں ان کی عقبیٰ و آخرت کی نجات کا وسیلہ بن جائیں اوریہی امیدکی وہ کرن ہے جوبتاتی ہے کہ اقبال ؒآج بھی زندہ ہیں، اور ان کاشاہین آج بھی بیداری کی نئی صبح کاپیامبربن سکتا ہے۔
یہ ٹیم اس قابل ہے کہ امتِ مسلمہ ان کا شکریہ اداکرے،انہیں خراجِ تحسین پیش کرے، اور ان کے اس کارنامے کونئے فکری احیاکا مقدمہ سمجھے۔دعاہے کہ اللہ تعالیٰ حافظ طاہر اوران کی پوری ٹیم کے اخلاص کوقبول فرمائے،ان کی کاوشوں کوان کیلئے دنیا و آخرت کی نجات کاوسیلہ بنائے،اوراس کانفرنس کی روشنی کوایک ایسے فکری سورج میں بدل دے جوامت کے سفرِ جدید کو سمت عطا کرے۔اللھم آمین

یہ بھی پڑھیں