تاریخ کے صفحات میں کچھ ابواب ایسے ہوتے ہیں جنہیں وقت کی گردبھی مٹانہیں سکتی، پاک افغان رشتہ بھی انہی ابواب میں سے ایک ہے۔ یہ رشتہ مذہب،اخوت،قربت اور مشترکہ دکھوں کے سنگم سے بندھاہواہے مگرافسوس،یہ برادرانہ داستان آج شکوں،زخموں اور بے یقینی میں لپٹی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
1979ء میں جب روسی افواج نے افغانستان پرچڑھائی کی،تو پوری دنیاخاموش تماشائی بنی بیٹھی تھی مگرایک ملک تھاپاکستان جس نے اپنے دروازے،دل اوردامن افغان بھائیوں کیلئے کھول دیے۔40سال سے زیادہ عرصہ،پاکستان نے 50لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کوپناہ دی‘ اپنے شہروں،روزگار،زمین اوروسائل ان کے نام کردیے۔
افغان جہادکے دنوں میں پاکستان نے نہ صرف اپنی سلامتی کوداؤپرلگایابلکہ ایک سپریم مشن کے تحت اسلامی دنیاکی نمائندگی کابوجھ بھی اٹھایا۔ لاکھوں پاکستانیوں نے جانیں قربان کیں،اورقوم نے اپنی معیشت پربھاری بوجھ برداشت کیا مگر مقصدایک ہی تھا’افغان بھائیوں کوآزادی ملے، ان کی خودمختاری بحال ہو،اورروسی جارحیت کا باب بندہو۔ یہ قربانی تاریخ کے کسی ترازو میں نہیں تولی جا سکتی۔
تاریخ کے اوراق میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جوصرف ماضی نہیں بلکہ پوری قوم کے جذبات کے آئینہ داربن جاتے ہیں۔افغانستان اورپاکستان کارشتہ انہی واقعات سے بنا ہے۔وہ رشتہ جوایمان،جہاد،قربانی اوربرادرانہ اخوت کے دھاگوں سے پرویاگیاتھا۔جب1979 ء میں روسی افواج نے افغانستان کی مقدس وادیوں پراپنے ناپاک قدم دھرے، توعالمِ اسلام خاموش تھا مگر پاکستان بیدارتھا۔اس نے اپناسب کچھ داؤ پر لگا دیا۔اپنی معیشت،اپنی سرحدیں،اپنا امن،بلکہ اپنی آئندہ نسلوں کی خوشیاں بھی،صرف اس لیے کہ کابل آزادہو،افغان سراٹھا کرجی سکیں،اوراسلام کا پرچم سرحدوں سے بلندہو۔
چالیس برس ہونے کوآئے،پاکستان نے 50لاکھ افغان مہاجرین کواپنی گودمیں جگہ دی، سینے سے لگایا،ان کیلئے اپنی زمین بانٹی،اپنے بازاروں کے درکھولے،اوراپنے لوگوں کے خون سے ان کے امن کی بنیادرکھی۔دنیاکے کسی اور ملک نے اتناصبر،اتنی قربانی،اوراتنا خلوص نہیں دکھایا جتناپاکستان نے دکھایا۔ بے شک تمام مومن آپس میں بھائی ہیں۔ (الحجرات:10)یہ آیت پاکستان کے ایمان کااعلان بنی۔اسی روحِ اخوت کے تحت پاکستان نے افغان دھڑوں کوباہم جوڑنے کی کوشش کی چاہے وہ پشاورکااجلاس ہو، مکہ مکرمہ کامعاہدہ ہو،یااسلام آبادکی کانفرنسیں، پاکستان ہمیشہ صلح کاسفیراورامیدکاپل بن کر سامنے آیا۔
1979ء میں سوویت انخلاکے بعد(یااس کے دوران)افغانستان میں مختلف مقامی دھڑوں نے ایک طویل جہادی عمل چلایا۔ان دھڑوں میں نسلی،لسانی اورسیاسی اختلافات کی بنیاد پرکئی گروہ وجودمیں آئے اورجب{1989۔1992}کے بعد کابل سے سوویت حمایت یافتہ حکومت کی طاقت کم پڑی،تواختلافات ظہورِعام پرآئے اورسیاسی خلانے مسلح گروہوں کے درمیان طاقت کے عارضی کھیل کوجنم دیا۔یہ وہ مرحلہ تھاجب بظاہر اتحادِ جہاد رفتہ رفتہ خانہِ جنگی اوراقتدارتک رسائی کی خانہ جنگی میں تبدیل ہوگیا۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب روسی افواج اپنی 10سالہ جارحیت کے بعد 15فروری1989ء کو پسپا ہوئیں توپوری امت کی نظریں کابل پرتھیں ۔ دنیانے سمجھا کہ اب افغانستان میں امن لوٹ آئے گا۔افغان مجاہدین نے،جوایک وقت میں ایک جھنڈے تلے لڑتے تھے،اقتدارکے سوال پر بکھرنا شروع کیا۔پاکستان نے،دل میں بے پناہ امیدکے ساتھ،انہیں پھرسے اکٹھاکرنے کی کوشش کی۔
سب سے معتبراوردستاویزی معاہدہ جس کا حوالہ بین الاقوامی تاریخ اورپالیسی ریپوزیٹریز میں ملتا ہے،وہ24/26اپریل 1992ء کاپشاور معاہدہ ہے جومختلف مجاہدین‘مسلح گروپوں کے مابین ایک عبوری انتظام قائم کرنے کیلئے طے پایاتھا۔اسی امید کے ساتھ مختلف افغان جہادی تنظیمیں پشاور میں اکٹھی ہوئیں کہ اب جہادکے ثمرات کوضائع ہونے سے بچایاجاسکے۔پشاور معاہدہ اسی امیدکانتیجہ تھا۔اس معاہدے کے تحت طے پایاکہ اقتدارکسی ایک گروہ کانہیں ہوگا،بلکہ تمام مجاہدین مل کر ایک عبوری اسلامی حکومت تشکیل دیں گے۔ اور افغانستان کا نظام شورائی اوراسلامی بنیادوں پرقائم ہوگا۔
پھروہ یادگارلمحہ آیاجب اللہ کے گھرخانہ کعبہ کے سائے میں،افغان دھڑوں کے رہنماجمع ہوئے اورانہوں نے حلف اٹھایاکہ اب کبھی اقتدار کی خاطرخون نہیں بہائیں گے، وہ معاہدہ چاہے علامتی یاحقیقی اسلامی اتحاد کی آخری علامت تھا۔ مکہ مکرمہ کے مقدس ماحول میں، اللہ کے گھر کے سامنے، وعدہ کیا گیا کہ اب افغان ایک دوسرے کے خلاف نہیں لڑیں گے۔اب افغانستان کے آسمان پر صرف امن کاپرچم لہرائے گا-اس میں عبوری صدارتی مدت،عبوری کونسل اورطاقت کی تقسیم کے خاکے طے کیے گئے‘ صبغت اللہ مجددی، برہان الدین ربانی اوراحمدشاہ مسعود جیسے نام اس امیدکے مرکزبنے۔عبوری صدارتی مدت میں، احمد شاہ مسعودکو عبوری وزیرِدفاع مقرر کیا گیا، اور صبغت اللہ مجددی/ربانی جیسے نام عبوری نقاط تسلسل کیلئے طے کیے گئے۔یہ معاہدہ رسمی طور پر اس بات کی کوشش تھاکہ کمیونسٹ دورکے خاتمے کے بعدایک مشترکہ عبوری انتظام قائم ہوسکے۔
مگرتاریخ نے دیکھا کہ وہ قسمیں زیادہ دیر قائم نہ رہ سکیں۔اقتدارکی ہوس،بیرونی اثرات، اورذاتی مفادات نے اس مقدس وعدے کوپھر سے خون میں نہلادیا۔خانہ کعبہ میں لیا گیا عہدکابل کی گلیوں میں دفن ہوگیا۔اقتدارکی ہوس،بیرونی مداخلت،نسلی تقسیم اورذاتی مفادات نے ایک بار پھر وطنِ عزیزکوخون میں نہلادیا۔کابل کی گلیاں،جوکبھی جہادکی کامیابی کی گواہ تھیں،خانہ جنگی کی خاک میں اٹ گئیں۔
افغان دھڑے ہمیشہ وقتی اتحاداوروقتی مفادات کے گرد جمع ہوئے۔جب بھی اقتدارکی کشمکش بڑھی،ہروعدہ،ہرقسم اورہرعہد طاقت کے دھوئیں میں گم ہوگیا۔دستاویزی ریکارڈ اور انسانی حقوق کی رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ یہ معاہدہ بہت جلدعملی معنوں میں ناکام رہا مختلف کمانڈر، نے طاقت کے حصول کیلئے اس معاہدے کی نفی کی یامخالفت کی‘نتیجتاًکابل میں مسلح جھڑپیں اورقتل وغارت گری شروع ہوگئی ، اور معاہدے کے نفاذ کے وعدے پسِ منظرمیں رہ گئے۔یہ سارے واقعات بعدازاں ایک طویل اندرونی تنازع اور شہری جنگ کی شکل میں تبدیل ہوگئے۔
معاہدے کے ناکام ہونے کے کئی باہمی اور خارجی عوامل تھے؛اہم شعبے یہ رہے کہ دھڑوں کاعلاقائی مضبوط ہونامجاہدین کے یکجا سیاسی پارٹی بنانے میں مانع رہا؛ ہرکمانڈرکااپنا علاقائی وقبیلائی اثر،وسائل اورحمایتی نیٹ ورک تھا۔پھرباہمی عدم اعتماداورمضبوط ذاتی مفادات کی بناپرکئی رہنماں نے اقتدارکی مکمل طلب رکھی؛اس نے فورانفاذ شدہ شیئرنگ ایگریمنٹ کونقصان پہنچایا ۔بیرونی مداخلت اورعلاقائی اثرکاریعنی ایران ، سعودی عرب، پاکستان،اوردیگرقوتوں کے حمایتی اثرات نے مصالحتی کوششوں کوپیچیدہ بنادیا؛ کچھ گروپوں کو بیرونی امداداورپشت پناہی ملی جس نے داخلی بیلنس بدل دیا۔مختلف گروپوں کے پاس مواد،زمینی طاقت اورفنڈنگ تھی۔
اسلحہ، وسائل اور مسلح گروہ جس نے انہیں معاہدہ توڑکرعملی طورپرقبضہ کی راہ اپنانے کے قابل بنادیا۔ان عوامل کے نتیجے میں معاہدے رسمی طور پرتومؤرخوں کے صفحات میں موجود رہے، مگر حقیقت میں گلی ومحلہ میں خونریزمقابلے جاری رہے اورہر فریق نے دوسرے پر دھوکہ، قتلِ عام،اور وعدہ شکنی کے الزامات لگائے۔انسانی حقوق رپورٹس نے بھی اسی کشا کش اورشہری آبادی پر ہونے والے مظالم کی نشاندہی کی ہے۔
(جاری ہے)