پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے چند روز پہلے بڑے فخر اور اعتماد کے ساتھ اعلان کیا کہ ہم نے روزانہ ستر کے قریب مسافروں کو آف لوڈ کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ پاکستان کے پاسپورٹ کی عزت دنیا میں بحال ہو۔ بات سنی سنتے ہی وہی پرانا دکھ پھر جاگ اٹھا۔ آدمی ہنسا بھی، رویا بھی اور سوچا کہ ہماری ریاست کے پاس اصل مسئلے کا حل ہے ہی نہیں۔ یہ ملک ایسا مریض بن چکا ہے جس کے جسم میں سرطان پھیل چکا ہے مگر معالج پین کلر دے کر کہتا ہے اب آپ بالکل ٹھیک ہیں، اٹھ کر چلیں۔
یہ بات درست ہے کہ چند سو جعلی یا مشکوک مسافروں کو روکنے سے دنیا میں کوئی اچھا تاثر جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی بدنامی کی اصل وجہ وہ ستر لوگ ہیں جو کسی روزگار کی تلاش میں باہر نکل رہے ہوتے ہیں؟ کیا اصل مسئلہ وہی ہے یا پھر یہ مرض کہیں اور ہے اور مرہم کہیں اور لگایا جا رہا ہے؟ وزیر داخلہ کے بیان پر تو یہی پوچھنے کو دل کرتا ہے کہ حضور53 سو ارب روپے کی کرپشن پاکستان کے پاسپورٹ کو ذلیل نہیں کرتی؟ وہ اربوں روپے جو ہر سال اس ملک کا خون چوس لیتے ہیں وہ پاکستان کی عالمی ساکھ کے دشمن نہیں؟ ایک شخص آف لوڈ ہو یا نہ ہو دنیا پاکستان کو اس کی مالی بدعنوانی، اس کے کمزور اداروں، اس کی ٹوٹی گورننس اور اس کے لاغر نظام انصاف سے پہچانتی ہے۔
یہ ملک آج بھی اپنے تعلیمی بجٹ پر 40 ارب روپے رکھتا ہے۔ دوسری طرف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پر سات سو ارب روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ امداد دینے سے انکار نہیں، اللہ کرے غریب کا چولہا ہمیشہ جلتا رہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا قومیں بھیک اور امداد سے بنتی ہیں یا تعلیم سے؟ تھر میں آج بھی بچے بھوک سے مرتے ہیں۔ بلوچستان میں لوگوں کے پاس پینے کا پانی تک نہیں۔ خیبر پختونخوا کے لاکھوں نوجوان بے روزگار پھر رہے ہیں۔ ایک قوم جب اپنے مستقبل کو یوں یتیم کر دے تو دنیا اس کا پاسپورٹ کیوں عزت سے دیکھے؟ آگے آئیے اور ذرا عدالتی نظام دیکھ لیجیے۔ ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کی فہرست میںپاکستان 140 میں سے 138 نمبر پر کھڑا ہے۔ کیا یہ خبر پاکستان کی بدنامی کی نہیں؟ کیا دنیا اس بنیاد پر ہمیں غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دار نہیں سمجھتی؟ آپ چاہے ستر مسافروں کو روک دیں، یا سات ہزار کو، کسی یورپی افسر نے اگر ایک بار یہ رینکنگ دیکھ لی تو وہ پاکستانی پاسپورٹ کو شک کی نظروں سے ہی دیکھے گا۔
دنیا ایسے نظام کو عزت نہیں دیتی جو خود اپنے شہریوں کو عزت نہ دے سکے۔پھر ہمارے معاشرے کی مجموعی بدنظمی، لاقانونیت، مہنگائی، طاقتور طبقے کی غنڈہ گردی، مذہبی شدت پسندی اور اداروں کی من مانی یہ سب مل کر پاکستان کی جو تصویر دنیا کے سامنے بناتے ہیں، وہ تصویر کیا آف لوڈنگ سے بدل جائے گی؟ دنیا اس ملک کو دیکھ کر حیران ہوتی ہے کہ یہاں ٹیکس دینے والے کو سزا ملتی ہے اور ٹیکس چور کو تخت دیا جاتا ہے۔ یہاں بجلی کے بل گھر برباد کر دیتے ہیں مگر وزرا اور اشرافیہ کے گھر آج بھی لاکھوں یونٹ سبسڈی میں کھاتے ہیں۔ دنیا اس منافقت کو دیکھتی ہے اور پھر پاسپورٹ کو شک کی نظر سے دیکھتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ پاسپورٹ کی عزت کون بناتا ہے؟ حکومت؟ قوانین؟ ادارے؟ نہیں! پاسپورٹ کی عزت وہ معاشرے بناتے ہیں جو نظم والے ہوں، دیانت والے ہوں، انصاف والے ہوں، علم والے ہوں۔ دنیا میں جرمنی کا پاسپورٹ اس لیے معزز ہے کہ جرمن قوم معزز ہے، قانون معزز ہے، ادارے معزز ہیں۔ جاپان کا پاسپورٹ اس لیے طاقتور ہے کہ جاپانی قوم میں بدعنوانی وافر نہیں، محنت بے شمار ہے۔ خلیجی ریاستوں کے پاسپورٹ اس لیے معتبر ہوئے کہ انہوں نے اپنے ادارے مضبوط کیے، پولیس کو روایتی غنڈہ نہ بنایا، عدلیہ کو سیاسی دباو سے آزاد رکھا۔ہمارے یہاں کیا ہے؟ محنت کش کو تو ریاست مشکوک سمجھتی ہے، لیکن دولت لوٹنے والوں کے لیے دروازے کھلے رہتے ہیں۔ کوئی اربوں کھا جائے اسے این آر او مل جاتا ہے۔ کوئی غریب مزدور پاسپورٹ بنوانے جائے تو اس سے دفتر کا چپڑاسی تک فیس مانگتا ہے۔ اب بتائیے دنیا ایسے ملک کو کیسے عزت دے؟
پاسپورٹ کی ذلت کے ذمہ دار وہ محنت کش نہیں جو روزگار کی تلاش میں باہر جاتا ہے۔ اصل ذمہ دار وہ ہیں جنہوں نے اس ملک کو غلامی، قرض، کرپشن، جھوٹ اور ظلم کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ اگر پاکستان کے پاسپورٹ کی عزت بحال کرنی ہے تو آف لوڈنگ نہیں، اصل نظام کو آف لوڈ کرنا پڑے گا۔
ہمیں حقیقت پسند ہونا ہوگا۔ پاکستان کا مسئلہ کبھی ستر افراد نہیں تھے۔ وہ پالیسیاں جنہوں نے تعلیم کو تباہ کیا۔ وہ حکمران جو آئے اور لوٹ کر چلے گئے۔ وہ عدالتیں جنہوں نے انصاف کو رسوائی میں بدل دیا۔ وہ بیوروکریسی جو عوام کی دشمن اور حکمرانوں کی کنیز بن گئی۔ وہ سیاست جو خدمت نہیں، دشمنی بن کر سامنے آئی۔
اگر پاسپورٹ کی عزت بڑھانی ہے تو ملک میں چند انقلابی فیصلے کرنا ہوں گے۔ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی حقیقی والی، نمائشی نہیں۔ بڑے چوروں سے شروع ہو، چھوٹوں پر نہ ختم ہو۔ عدالتی اصلاحات ہوں، فیصلے مہینوں میں ہوں، دہائیوں میں نہیں۔ تعلیم کا بجٹ 40 ارب نہیں کم از کم دس گنا ہونا چاہیے۔ پولیس کو غیر سیاسی اور پیشہ ور بنانا ہوگا ورنہ معاشرہ کبھی محفوظ نہیں ہوگا۔ ٹیکس کا نظام منصفانہ ہوگا تب ہی عوام ریاست پر اعتماد کریں گے۔پھر ریاست کو عوام کے ساتھ سچ بولنا ہوگا۔ جھوٹ اور مصنوعی خوشنما تقریریں نہیں چل سکتیں۔ دنیا کی عزت مانگنے سے نہیں ملتی وہ کارکردگی سے ملتی ہے۔ ہم نے سات دہائیوں میں عزت مانگی ہے کمائی نہیں۔ اور آخر میں ایک سچ، پاکستان کا پاسپورٹ دنیا میں اس لیے کمزور نہیں کہ پاکستانی غلط ہیں، بلکہ اس لیے کمزور ہے کہ پاکستانیوں کے اوپر حکمرانی کرنے والے غلط تھے، غلط ہیں اور جب تک درست نہیں ہوں گے پاسپورٹ بھی درست نہیں ہوگا۔
دنیا میں جب کوئی پاکستانی سرحد پر پہنچتا ہے تو سامنے کھڑا افسر پاکستان کو نہیں جانتا، پاکستان کی حکومت کو نہیں جانتا، وہ صرف پاکستانی پاسپورٹ دیکھتا ہے۔ اور وہ پاسپورٹ اسے یہ پیغام دیتا ہے کہ یہ اس ملک کا شہری ہے جہاں انصاف کمزور، کرپشن مضبوط، تعلیم کمزور، حکمران بے نیاز، ادارے کمزور اور عوام بے بس ہیں۔جب تک یہ پیغام تبدیل نہیں ہوگا چاہے آپ لاکھ لوگوں کو آف لوڈ کر دیں، پاسپورٹ کی عزت نہیں بڑھے گی۔ پاکستان کے پاسپورٹ کا وقار تب بحال ہوگا جب پاکستان بحال ہوگا۔ جب یہ ملک اندر سے مضبوط ہوگا، باہر سے مضبوط دکھائی دے گا۔ جب ریاست انصاف دے گی، جب تعلیم عام ہوگی، جب کرپشن کا خاتمہ ہوگا، جب قانون سب کے لیے ایک ہوگا، جب محنت کش کو شک کی نظر سے نہیں، مستقبل کے سفیر کی نظر سے دیکھا جائے گا۔
دنیا کے سامنے پاکستان کا اصل چہرہ ستر مسافر نہیں، ستر سال کی پالیسیوں کا کچرا ہے۔ پہلے وہ کچرا صاف کریں، پاسپورٹ خود بخود چمک جائے گا۔