(گزشتہ سے پیوستہ)
زمینی حقائق یہ ہیں کہ تمام مجاہدین گروپ پشاور معاہدہ کوعملی جامہ نہ پہناسکے، فریقین کے بیانات اورالزام تراشی کاخوفناک منظر نامہ یوں سامنے آیاکہ ہرگروپ نے دوسروں کو معاہدہ توڑنے کی سرکردگی پرالزامات لگائے‘ خاص طورپرشہرِکابل میں گھناؤنی لڑائیاں شروع ہوئیںشیعہ وسنی محاذ،کابل کے مختلف اضلاع پر قبضے کی کشمکش،اورشہری آبادی کو جو نقصان پہنچا، اس کاالزام ایک دوسرے پرلگایاگیا۔مقامی اور بین الاقوامی مبصرین نے لکھاکہ الزامات اکثر حقیقت اورپروپیگنڈاکے امتزاج تھے۔فریقین اپنی نااہلی یاداخلی خلفشار چھپانے کیلئے سیاسی مہرلگاتے رہے، اورعوامی رائے کواپنی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی گئی۔
پاکستان نے دکھ سے دیکھا،وہ،جوسب کا خیرخواہ تھا،اب تماشائی بننے پر مجبور ہوگیا۔ اسلامی دنیاکے دیگرممالک،جوکبھی افغان جہاد کے حامی تھے،اس انتشارسے افسردہ ہوکر خاموشی اختیارکرگئے مگرپاکستان؟نہیںوہ پیچھے نہیں ہٹا۔ وہی زخمی ہاتھ،وہی تھکاہوا دل،مگروہ اب بھی افغان بھائیوں کی پشت پرکھڑارہا،امن کے پیغامبرکی طرح،قربانی کے علمبردار کی طرح۔
یہاں تاریخی دامن کے اس سچ سے آنکھیں نہیں چرائی جاسکتیں کہ پاکستان وہ واحد ملک تھا جوافغان عوام کے دکھوں کاحصہ بنارہا۔ پاکستان کے صبر،مستقل مزاجی اورافغانوں کے رویے کے باوجوددنیانے جب افغانستان سے منہ موڑا، توپاکستان وہ واحدملک تھاجس نے امید کادامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ہم نے ان کیلئے اپنی معیشت کوقربان کیا،ان کے مہاجرین کو سنبھالا، ان کے زخمیوں کاعلاج کیا،اور ان کے مستقبل کیلئے دعاکی مگروقت کی ستم ظریفی یہ ہے کہ آج وہی افغان قیادت،بھارت جیسے ازلی دشمن کے بہکاوے میں آکر، پاکستان پرالزامات کی بوچھاڑ کررہی ہے۔جن ہاتھوں نے پناہ دی،اب انہی پرشک کی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔اوراس سب کے باوجودپاکستان کارویہ وہی ہے، بردباری، صبر اور امن کی خواہش۔
پاکستان نے اپنے زخموں کو چھپایا مگر افغان قیادت نے شایدیہ قربانیاں بھلادیں۔آج جب پاکستان دہشتگردی،معیشت اورسرحدی مسائل کے بھاری دباؤمیں ہے،تواسی افغان سرزمین سے دشمنی کے تیربرسائے جارہے ہیں۔ کبھی ٹی ٹی پی کے حملے،کبھی افغان حکومت کا خاموش تعاون،اورکبھی بھارت کے ساتھ سفارتی قربت پاکستان کیلئے ایک گہرازخم ہیں۔یہ کیسی ناقدری ہے کہ جس ملک نے چالیس برس افغان بھائیوں کیلئے ماں کی طرح سینہ کھولا،آج وہی ملک ان کے طعنوں کانشانہ بن رہاہے؟کیایہ اسلامی اخوت کاصلہ ہے؟
کیاخانہ کعبہ کے سامنے اٹھائی گئی قسمیں بھول گئیں؟کیاتاریخی میزبانی،وہ قربانیاں،اوروہ اخلاص مٹی کے برابربھی نہیں رہے؟
اوراگروہ صلح کی طرف مائل ہوں توتم بھی اس کی طرف مائل ہوجائو اوراللہ پربھروسہ رکھو۔ (الانفال:61)پاکستان نے ہمیشہ اس قرآنی اصول پرعمل کیاکہ جنگ نہیں،امن بہتر ہے؛
اوراس وقت ایک تلخ مگر مشہورمحاورہ تاریخ میں نقش ہواجوآج بھی افغان سیاست کی نفسیات بیان کرتاہے:یہ جملہ چاہے کسی نے کہا یا نہ کہاہو،مگراس میں ایک آپ افغانوں کوخرید
نہیں سکتے،مگران کی خدمات کرایے پر لے سکتے ہیں۔گہری سچائی چھپی ہے۔یہ فقرہ اکثرعوامی محاورے یامباحث میں ہلکی تبدیلیوں کے ساتھ آتاہے،اوربعض سوشل پوسٹس یا اقوالِ مرکب میں کئی افغان رہنماؤں سے منسوب کیا جاتا ہے۔اس کے پس منظر،صورتِ تعبیراورنسبت کے بارے میں چند باتیں واضح کرنا ضروری ہیں:
یہ محاورہ ‘کہاوت بین الاقوامی اور استعماری تاریخ میں چلتی رہی۔انگریزاوربعدکے بیرونی مداخلت کنندگان کے تجربات سے جڑا ایک عوامی محاورہ یہ رہاکہ قبیلوں یامقامی جنگجوں کی وفاداری مستقل نہیں ہوتی؛لہٰذابیرونی حکومتیں انہیں ’’خرید‘‘نہیں سکتیں، محض عارضی طورپرپیسے یا مدد دے کر’’کرایے‘‘پرسروس حاصل کرلیتی ہیں۔کئی مغربی تجزیاتی مضامین اورتاریخ دان اس جملے کوحوالہ کے طور پراستعمال کرتے ہیں
یہ کہاوت ایک تلخ حقیقت کی عکاسی کرتی ہے یعنی بیرونی طاقتیں وقتی مفادکیلئے مقامی گروہوں کومالی وعسکری مدددیتی ہیں، مگرمستقل وفاداری اورملکی مفادکاحصول ان پیسوں سے ممکن نہیں۔اس سہولتِ کرایہ پرمبنی تعلق نے افغانستان میں متعددادوارمیں جہادی کمانڈروں کوغلط طریقے سے مسلح کرکے طویل،غیرمنظم تشدد کو ہوا دی۔ اورآج موجودہ طالبان رجیم نے بھارت کی گودمیں بیٹھ کران کے ایجنڈے کوجوگلے لگایا ہے، ملامتقی کادورہ ہندمیں طالبان کے بانی اور روحانی رہنماملاعمرکے اقوال کے جس طرح پرخچے اڑائے ہیں،اس کے بعدکثرتِ اذہان تواس کہاوت پریقین کرنے لگے ہیں۔
افغان تاریخ ہمیں ایک سبق دیتی ہے کہ طاقت کے حصول کی جنگ میں ایمان،وعدے اوردوستی قربان ہوجاتے ہیں۔وفاداری،بھائی چارے کے شگوفے باہمی احترام سے پھوٹتے ہیں، پاکستان کاشکوہ محض سیاسی نہیں،ایک جذباتی زخم ہے۔ مگرپاکستان آج بھی یہی کہتاہے کہ امن کا راستہ جنگ سے نہیں،ہم نے افغان بھائیوں کوکبھی غیر نہیں سمجھا،مگر ان کے رویے نے ہمیں خود پر نظرثانی پر مجبورکردیاہے۔اب وقت آگیاہے کہ کابل یہ مانے کہ پاکستان دشمن نہیں،بلکہ وہ واحد ملک ہے جس نے ہرطوفان میں افغان قوم کاہاتھ تھامااوراگرآج افغانستان اپنی زمین بھارت جیسے ازلی دشمن کیلئے نرم گوشہ رکھے اورپاکستان کیلئے شک وشبہات تویہ محض سیاسی غلطی نہیں،بلکہ اخوتِ اسلامی کے تصورپرایک کاری ضرب ہے۔
چالیس برس کی قربانیاں،لاکھوں جانوں کی قیمت،اربوں روپے کی میزبانی،یہ سب پاکستان کی تاریخ کے ماتھے کاجھومرہیں۔ہم نے افغانوں کیلئے خون بھی بہایااوراشک بھی بہائے۔ہم نے دنیا کے طعنوں کے باوجودان کاساتھ نہیں چھوڑا، اور آج جب افغان قیادت بھارت کی بانہوں میں جابیٹھی ہے،پاکستان کادل زخمی ضرورہے،مگر خالی نہیں۔اس کے دل میں آج بھی امیدکاچراغ جل رہاہے۔یہ چراغ آج بھی اپنے افغان بھائیوں سے کہتاہے:ہم نے تمہیں کبھی دشمن نہیں سمجھا۔ ہم نے تمہیں اپنے دل کاحصہ جانا۔اگرتم بھٹک گئے ہوتوہم شکوہ ضرورکریں گے،مگرنفرت کبھی نہیں کریں گے۔پاکستان آج بھی وہی ہے جوخانہ کعبہ کے سائے میں امن کی قسم کھانے والوں کو جوڑنے والاملک تھا۔جوتب بھی بھائیوں کے درمیان پل تھا،اورآج بھی ان کے بیچ امن،اخوت اور ایمان کارشتہ بنائے رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
کاش ایک دن تاریخ پھروہی منظردیکھے جب کابل کی فضاؤں میں توپوں کی گھن گرج نہیں،بلکہ اذانوں کی صداگونجے۔اورمکہ میں اٹھائی گئی قسم،افغانستان کے امن کی بنیادبن جائے۔ بھائی چارے کا وہ خواب جو مجھ جیسے بے شمار افراد نے دیکھا ہے کاش ایک دن پھروہی منظرلوٹ آئے جب افغان مجاہدین خانہ کعبہ کے سائے میں حلف اٹھا رہے تھے، اور پاکستان ان کے پیچھے دعا گو تھا۔
کاش ایک دن دونوں برادرممالک دوبارہ ایک دوسرے کودشمنوں کی آنکھ سے نہیں، امتِ مسلمہ کے آئینے میں دیکھیں۔
افغانستان کویادرکھناچاہیے کہ پاکستان کی قربانیاں تاریخ کے دامن میں محفوظ ہیں۔ اور پاکستان کوبھی یادرکھنا چاہیے کہ اخوت کبھی یک طرفہ نہیں رہ سکتی۔امن کی امید،شکوے کی چبھن، اوربھائی چارے کاخواب یہی ہماری کہانی ہے۔ یہی پیغام ہے،یہی خواب اوریہی پاکستان کی ابدی پکار۔