Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

اندھیروں سے روشنی تک: ایک خطے کی داستان

آج یہ محفل فکراس لیے آبادہے کہ زمانہ اپنے اوراق بدل رہاہے،دنیاطاقت کی نئی کروٹ لے رہی ہے،اورممالک کے فیصلے اب صرف ایوانوں میں نہیں،بلکہ عالمی دبا،اقتصادی چابک اور سیاسی جبرکی بھٹی میں تپ کرسامنے آتے ہیں۔ قوموں کی تقدیرکبھی کبھی ایک قطرہ تیل سے بندھ جاتی ہے،اورکبھی ایک غلط فیصلہ انہیں صدیوں پیچھے دھکیل دیتاہے۔آج ہم جس منظرنامے پرنگاہ ڈال رہے ہیں،اس کے خطوط صرف بھارت کی سیاست تک محدود نہیں، یہ پوری خطے کی صبح وشام سے تعلق رکھتاہے۔
دنیانے دیکھاکہ جب مغرب کے ابرِگماں نے دہلی کے آسمان کوڈھانپا،جب واشنگٹن کی آنکھوں میں شک کی چمک پیداہوئی،توبھارت نے روسی تیل کی شاہراہ پراپنے قدم ڈگمگاتے محسوس کیے۔وہ خریداری جوکبھی بہتے دریاکی مانند تھی، اب قطرہ قطرہ کم ہوتی چلی گئی۔بلوم برگ کی رپورٹ نے گویاوہ آئینہ دنیاکے سامنے رکھ دیاجس میں دہلی کی نئی مجبوری صاف جھلک رہی تھی۔ یوں بھارت اور روسی تیل ایک بجھتی شمع کی داستان کو ساری دنیانے سن لیا۔جب مغربی دنیاکی آنکھوں میں شک کی سرخی اورواشنگٹن کے ایوانوں میں پابندیوں کی سرگوشیاں بڑھنے لگیں توبھارت کی سیاسی نبض بے ترتیبی سے دھڑکنے لگی۔مغربی دنیا کے دبیزبادل،پابندیوں کے خدشات اور واشنگٹن کی سردآہنی نگاہ نے جب دہلی کے صحن پر سایہ کیاتوبھارت نے روسی تیل کی ندی میں اپنا چراغ گل کرناہی مناسب سمجھا۔
روسی تیل،جوکل تک بھارت کی اقتصادی روح کی مانندتھا،اب کسی گناہ کی طرح محسوس ہونے لگا۔وہ خریداری،جوکبھی یوں رواں تھی جیسے گنگا کناروں پرشام کی پوجا،اچانک مدھم پڑگئی اوردنیانے محسوس کیاکہ دہلی اب ماسکوکے نغموں سے نیم جان ہوتاجارہا ہے۔اپنے ہی فیصلوں کی الجھن میں بھارت نے ماسکوکی راہ سے قدم سمیٹناشروع کیے،اوروہ خریداری جوکبھی دریاکی طرح بہتی تھی،اب نالی کی دھاربن کررہ گئی۔یہ صرف تجارت نہیں تھی،بلکہ طاقت کی شاعری تھی جوخاموشی سے اپناوزن بدل رہی تھی۔
امریکی جریدہ بلوم برگ نے وہ خبرلکھی جس نے دہلی کے ایوانوں میں برپامعاشی زلزلے کاپردہ چاک کردیااورمودی جنتالاکھ کوشش کے باوجودچھپانے میں ناکام رہی۔بلوم برگ اپنی روایت کے مطابق شفاف آئینے کی مانندخبرلایاکہ دسمبر کیلئے روسی خام تیل کے سودوں میں بھارت نے نمایاں کمی کردی ہے۔ گویابازارِسیاست میں کوئی پوشیدہ لرزش بھارتی قدموں میں درآئی ہو۔ دسمبرکی روسی خریداری،جسے بھارت نے ہمیشہ ترجیح دی،اب ہاتھ سے یوں پھسل رہی ہے جیسے کوئی خوف زدہ انسان جلتی ہوئی لکڑی چھوڑدیتا ہے۔ دنیانے سمجھ لیاکہ دہلی کے فیصلے اب خودمختار نہیں رہے‘کوئی اورہاتھ اس کے قلم کو چلا رہا ہے۔
پانچ بڑی ریفائنریوں کی خاموشی،جوہمیشہ کی طرح ماسکوکی طرف اپنے آرڈرروانہ کرتی تھیں،اس بار رک گئی۔یہ خاموشی سیاست کی چیخ تھی‘ مودی کاتکبریہ خوفناک شور دنیابھرکی سماعتوں سے جاٹکرایاکہ بھارت کے فیصلے اب آزادنہیں رہے۔اسی شفاف آئینے کے ایک اوررخ پریہ انکشاف بھی جھلملایاکہ بھارت کی پانچ بڑی آئل ریفائنریاں،جوہرماہ کی دسویں تاریخ سے قبل روس کو اپنے آرڈر بھیجنے میں دیرنہیں لگاتیں تھیں،اس بارموت کی خاموشی میں گم ہوگئیں،جیسے کسی نے ان کے ہاتھوں سے قلم چھین لیاہو،متحرک زندگی کوموت نے آدبوچاہویا حالات نے انہیں نئےفیصلوں پرمجبورکردیاہو۔یہ خاموشی محض کاروباری مصلحت نہیں تھی‘ یہ خوف اورمجبوری کی گواہی بھی تھی۔سیاست کی زبان میں بعض اوقات خاموشی سب سے بلندچیخ ہوتی ہے۔
ادھرہندوستان کی سرکاری ریفائنری آئی اوسی نے اعلان دہلی کی سیاست کانیارخ واضح کیا کہ اب وہ صرف وہی روسی تیل خریدے گی جو پابندیوں کے دائرے سے باہرہو۔گویا سیاسی بھنور میں تیرتی ایک کشتی نے اپنارخ بدل لیاہو،محض اس خوف سے کہ سمندری طوفان کہیں اس کے توازن کوتہہ وبالانہ کردے۔یہ اعلان نہیں، اعتراف تھا۔یہ وہ لمحہ تھاجب ایک بڑی ریاست نے اپنے فیصلوں پرباہرکے ہاتھوں کاسایہ محسوس کیا اوراوپر سے امریکی ٹیرف، وہ بھی پچاس فیصدگویااقتصادی کوڑےکی ایسی ضرب،جس نے دہلی کے نہ صرف پیرہلادیے بلکہ جلاکررکھ دیئے۔ اس پس منظرمیں صدرٹرمپ کے کلمات کسی آندھی کی گرج کی مانندتھے۔انہوں نے کہاکہ بھارت اچھاتجارتی شریک نہیں،اورماسکو سے اس کی تیل کی خریداریاں یوکرین کے میدانِ جنگ کوایندھن فراہم کرنے کے مترادف ہیں۔
اس پس منظرمیں ٹرمپ کے جملے دہلی کے کان میں نہیں،اس کی سیاست کے رگ وپے میں اترگئے۔یہ گویاایک اخلاقی وسیاسی فردِ جرم تھی جس پردنیاکی نظریں جم گئیں۔یہ جملہ نہیں تھا، ایک سفارتی فیصلہ تھا،اورفیصلہ بھی وہ جوقوموں کوپابندِسیاست بنادیتاہے۔یاد رہے کہ روس سے تیل خریدنے پرامریکانے بھارت پرپچاس فیصد ٹیرف عائد کرکے یہ پیغام دیا تھا کہ اقتصادی دنیامیں دوکشتیوں پر سواررہناممکن نہیں۔ایک طرف واشنگٹن کی لوہے کی صورت فشار،دوسری جانب ماسکوکی توانائی کادریابھارت ان دونوں کے درمیان پھنسانظر آیا ۔
آئی او سی کی طرف سے یہ بیان کہ ہم صرف غیرپابندی یافتہ سپلائرزسے روسی تیل لیں گے، درحقیقت ایک سیاسی اعتراف تھا۔یہ انکارنہیں تھا؛یہ نیم قبولیت تھی کہ مودی بھیڑیا جوشیر کی کھال پہن کرخطے کے ممالک پرگرج رہا تھا،ٹرمپ کےبیانئے کے سامنے گیدڑکی طرح دم دباکرعالمی دباکے سامنے نہ صرف جھکنے پرمجبوربلکہ اوندھے منہ گر کر خاک چاٹنے پر مضبور ہوگیا ہےجیسے کوئی سپاہی ڈھال تورکھے مگرتلوارمقابل کے قدموں میں گرادے۔
امریکاکابھارت پر50فیصد ٹیرف لگانا گویا اس معاشی داستان کاسب سے سخت باب تھا۔یہ اعلان نہیں،بلکہ چابک تھااوروہ بھی ایسے وقت پرجب بھارت خودکوعالمی منڈیوں میں ابھرتی طاقت سمجھنے لگاتھا۔یوں محسوس ہوتاہے کہ واشنگٹن نے دہلی کے کان میں وہ جملہ پھونکاجوغلامی کے عہدمیں بھی حکمران سنایاکرتے تھے ’’فیصلہ ہماراچلےگا،تم صرف حکم کی تعمیل کروگے‘‘۔ امریکی ٹیرف کی ضرب نے بھارت کے ایوانوں میں ہلچل مچادی،اوربالآخرمودی نے واشنگٹن کو یقین دہانی کرائی کہ روسی تیل کی راہیں اب رفتہ رفتہ بندکی جائیں گی۔جیسے کسی بڑے حلیف کے سامنے چھوٹے شریک کواپنادامن صاف دکھانا پڑتا ہو۔ٹرمپ کے کلمات نہ صرف ایک تنبیہ تھے بلکہ بھارت کی پالیسیوں پرایک تیشہ بھی جوپوری دنیا نے سنااوریہ جملے بھارت کی سفارتی کتاب کے حاشیے اورمودی کے متکبر چہرے پرسیاہ داغ کی طرح ثبت ہوگئے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں