(گزشتہ سے پیوستہ)
یہاں سوال یہ اٹھتاہے کہ کیامودی سرکار کی پالیسیوں کے نشیب وفرازنے خودبھارت کو معاشی بھونچال کےدہانے پرلاکھڑاکیاہے؟ دانشورحلقوں میں یہ آوازسنائی دیتی ہے کہ غلط فیصلے، سفارتی بے تدبیری اورحماقت سے لبریز جارحانہ بیانیہ کسی بھی قوم کی اقتصادی بساط الٹنے کی سکت رکھتاہے۔
بھاری ٹیرف کے دبائو کے بعدبھارت نے وہی کیاجوکسی کمزورریاست کیلئے ناگزیر ہوتا ہے یعنی یقین دہانی دے دی کہ روس سے تیل کے دروازے بندکیے جارہے ہیں۔یہ وہ مقام تھاجہاں بھارت نے اپنی خودمختاری کے بجائے مجبوری کو اپنا مشیربنالیا۔انہی پالیسیوں کے بطن سے وہ ہولناک صورتِ حال بھی جنم لیتی ہےجس کاحوالہ مئی 2025ء کے عسکری تناؤ میں بھی کھل کرسامنے آگیا۔جنگی تصادم،چاہے مختصرہویاطویل،کسی بھی ریاست کے سیاسی پندار اورعسکری اعتمادپرگہری ضرب لگاتاہے۔بھارتی طیاروں کی تباہی اوراس پرعالمی سطح پرہونےوالے تبصرے،خواہ کسی بھی زاویے سے دیکھے جائیں،دہلی کے عسکری منصوبہ سازوں کیلئے سوالیہ نشان چھوڑگئے۔اس کے باوجود پاکستان کے خلاف دوبارہ کشیدگی کی فضاقائم کرنااس امرکی غمازی کرتاہےکہ شایدمودی جیسامتعصب اوراسکے جنگی مافیاہندی سیاست دان تاریخ کے مکتب سے وہ سبق سیکھنے کوتیارنہیں جو شکست اورشرمندگی رقم کر چکی ہے۔
یہ سوال آج دہلی کے ہرمحقق اورہر اقتصادی مبصرکے ذہن میں گردش کررہا ہے۔ مودی سرکارکی پالیسیوں میں جارحیت زیادہ اورحکمت کم ہے اوریہ سوال بھی آج ہردانشورکے ذہن میں بجلی کی مانندلپکتاہےکہ کیاخودمودی حکومت کی نادانیاں بھارت کی معاشی تپش کی ذمہ داراورگراوٹ کاسبب ہیں؟کیامودی پالیسیوں نےخودبھارت کومعاشی دلدل میں دھکیل دیاہے؟ بازاروں میں بےچینی،سرمایہ کاروں میں بے اعتمادی، اورسیاسی دباؤکے سامنے باربارجھکنایہ سب کچھ کسی بڑے معاشی طوفان کی آمدکاپتہ دیتاہے۔ جارحیت کانشہ، سفارت کی کمزوری، اور پڑوسیوں کے خلاف مسلسل محاذ کھولنے کی رویہ، وہ راہ ہے جس پرچلنے والے آخرکار تھک بھی جاتے ہیں اورڈوب بھی جاتے ہیں۔یہی وہ طرزِعمل ہے جس کے ثمرات آج دہلی کوشک،خوف اوراقتصادی بے بسی کی شکل میں بھگتنے پڑرہے ہیں۔قومیں تباہی سے تب دوچارہوتی ہیں جب ان کے رہنماحقیقت کے بجائے خوابوں پرحکومت کرنے لگیں۔
ان حالات میں مودی حکومت کاجنگی مافیا اگر دوبارہ حماقت کرنے پرآمادہ ہوتویہ محض سیاسی نادانی نہیں،بلکہ قومی خودکشی کے مترادف ہوگی۔ خود بھارتی ریٹائرڈجرنیلوں کااعتراف کہ اگر بھارت نے نئی جنگ چھیڑی توٹوٹ بھی جائے گا ور بربادبھی ہوگا۔
دراصل دہلی کے ایوانِ اقتدارکیلئے وہ آئینہ ہے جس میں مستقبل کی شکست کاعکس صاف دکھائی دیتاہے مگرافسوس کہ بعض حکمران آئینہ دیکھنے کی بجائے اسے پردے سے ڈھانپ کر مطمئن ہوجاتے ہیں۔
دنیاکی سیاست کبھی جامدنہیں رہی۔کبھی طاقت کے ایوانوں میں ایک پھونک پڑتی ہے تو براعظموں کے نقشے بدل جاتے ہیں،اورکبھی کسی صدر کے ایک جملے سے پوری معیشتیں کانپ اٹھتی ہیں۔انہی گردابوں کے بیچ آج بھارت کی سیاسی بساط بھی ایسے الٹ پھیر سے گزررہی ہے جس نے دہلی کے چانکیائی ذہن کوبھی متحیربلکہ انتہائی مشکل میں مبتلاکردیا ہے۔
جنگ،تاریخ کی وہ کتاب جس کاہرصفحہ خون سے لکھاجاتاہے۔ہمارے سامنے وہ تجزیات اوربیانات بھی ہیں جن میں بعض مبصرین نے مستقبل کے ممکنہ تصادمات کونمایاں کیا۔ جنگ کا باب ہمیشہ تلخ ہوتاہے چاہے کسی بھی ملک کیلئے ہو اورعسکری شکستوں یا ناکامیوں کی خبریں،خواہ مبالغہ ہوں یاتحقیق کانتیجہ،دلوں میں وہ لرزہ پیدا کرتی ہیں جوقوموں کوسوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔جنگ کاہر باب تلخ ہوتا ہے۔ مئی2025ء کا عسکری تصادم تاریخ کاچبھتاہواوہ شرمناک سبق ہے جس نے بھارت کی عسکری قیادت کاوہ سارا پردہ چاک کر دیا جو وہ برسوں سے چھپائے بیٹھی تھی۔طیاروں کی تباہی،عالمی سطح پرہونے والی جگ ہنسائی،اورطاقتورحلیفوں کی ملامت سب کچھ دہلی کی عسکری منصوبہ بندی کی کمزوریوں کوبے نقاب کرگیالیکن حیرت یہ ہے کہ شکست کے باوجود بھارت کی سیاسی قیادت نے وہ عاجزی نہیں اپنائی جوہوش منداقوام کوبچالیتی ہے۔
کیامودی حکومت دوبارہ جنگ کی حماقت کرسکتی ہے؟یہ سوال آج سب سے اہم ہے۔یہ سوال آج نہ صرف پاکستان بلکہ خودبھارت کے سنجیدہ حلقوں میں گردش کررہاہے۔جو قیادت داخلی کمزوری،بیرونی دبااورمعاشی بے چینی کا شکار ہو،وہ کبھی کبھاراپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کیلئے جنگ کاسہارالیتی ہے۔تاریخ میں یہی قوموں کی تباہی کاآغازرہاہے ۔اگرکسی بھی ریاست میں جنگی مافیاسیاست پرغالب آجائے توسمجھ لیجیے کہ تباہی دستک دے رہی ہے۔اوراگرعقل ودانش سیاست سے رخصت ہوجائیں،توپھر جذبات قوموں کیلئے پچھتاوے کے آنسوؤں سے آگے کچھ نہیں چھوڑتے۔
دنیاکے عسکری مبصرین نے بارہاکہاہے کہ جنوبی ایشیامیں جنگ کبھی حل نہیں،ہمیشہ مسئلہ ہی بنتی ہے اورخودبھارت کے ریٹائرڈ جرنیلوں نے اس پرمہرثبت کردی ہے کہ اب بھارت کاباپ بھی پاکستان سے جنگ نہیں جیت سکتا بلکہ اگر نئی جنگ چھیڑی گئی تو ریاست ٹوٹ بھی سکتی ہے اور بربادبھی اوریوں محسوس ہوتاہے کہ بھارت میں 32سے زیادہ علیحدگی کی تحریکیں مودی کے ہاتھوں اپنی منزل مرادپالیں گی اورانڈیا کم ازکم دودرجن حصوں میں تقسیم ہوکررہے گااورجس طرح دنیاکی ایک سپرطاقت سوویت یونین نصف درجن حصوں میں تقسیم ہوگئی اور اس کے مقابلے میں ہندوستان کی حقیقت کیا ہے ۔یہ محض الفاظ نہیں؛ یہ تاریخ کامنعکس شدہ عکس ہے۔جنگیں ملکوں کوبڑانہیں کرتیںصرف قبریں بڑی کرتی ہیں۔
بھارتی ریٹائرڈ جرنیلوں کاواضح اعتراف محض رائے نہیں،ایک عسکری حقیقت ہے۔جنگیں نعروں سے نہیں جیتی جاتیں‘ عقل،حکمت اور تدبر سے جیتی جاتی ہیں۔اوریہ تینوں آج بھارت کی موجودہ سیاسی قیادت سے کوسوں دوردکھائی دیتے ہیں۔مودی حکومت کاجنگی مافیااگردوبارہ سر اٹھانے کی کوشش کرتاہے تویہ سیاسی حماقت ہی نہیں مودی کے ہاتھوں یہ ایسی خود کشی ہوگی جس کے اثرات نسلوں تک رقم ہوں گے۔
قوموں کاراستہ جنگ کے دھوئیں نہیں، امن کی روشنی سے بنتاہے۔ہم اس خطے کے رہنے والے ہیں جس نے پہلے ہی بہت دکھ سہے، بہت زخم اٹھائے۔یہ سرزمین امن،حکمت،صلح اورترقی کی متقاضی ہے۔جنگیں وہ لکیرہیں جوقوموں کودو حصوں میں بانٹ دیتی ہیں مگرامن وہ دریاہے جو سب کوایک پل میں جوڑدیتاہے۔قائدین آتے رہتے ہیں،حکومتیں بدلتی رہتی ہیں،مگرقوموں کی زندگی اس روشنی سے بنتی ہے جوحکمت،انصاف اور امن کے آسمان سے اترتی ہے اوریہی پیغام آج بھی ہمارے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے۔(جاری ہے)