یہ سوال اب کسی ماہرِ معیشت کا نہیں رہا یہ سوال اب گلی کے نکڑ پر بیٹھے چائے فروش کا بھی ہے بس کے کنڈکٹر کا بھی اور اس ماں کا بھی جو بجلی کے بل کو دیکھ کر بچوں کی فیس کا حساب بدل دیتی ہے۔ سوال سادہ ہے مگر جواب خوفناک کہ کیا قرضوں میں ڈوبا ہوا پاکستان ترقی کر سکتا ہے؟ اور اس سے بھی زیادہ تلخ سوال یہ ہے کہ کیا قرض لے لے کر حکومت کرنے والے حکمران واقعی اس ملک کے ساتھ مخلص ہیں؟قومیں جب ترقی کرتی ہیں تو ان کے فیصلوں میں خودداری ہوتی ہے۔ جب قومیں زوال کا شکار ہوتی ہیں تو ان کے فیصلوں میں سہولت پسندی آ جاتی ہے۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے سہولت کو حکمت اور مجبوری کو دانش کا نام دے دیا ہے۔ ہر حکومت آتی ہے خزانہ خالی ہونے کا اعلان کرتی ہے۔ آئی ایم ایف کی دہلیز پر دستک دیتی ہے، قرض لیتی ہے چند مہینے سانس لیتی ہے اور پھر اگلی حکومت کے لیے بارود بچھا کر رخصت ہو جاتی ہے۔وفاقی حکومت کے ابتدائی بیس مہینوں میں قرضوں کے جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں وہ محض نمبرز نہیں یہ اس سوچ کا پوسٹ مارٹم ہیں جس نے ریاست کو کاروبار اور حکومت کو وقتی بندوبست بنا دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویزات کے مطابق مارچ 2024 سے اکتوبر 2025 کے صرف بیس مہینوں میں وفاقی حکومت کے قرضوں میں 12 ہزار 169 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ یہ وہ رقم ہے جس سے کئی نسلوں کی تعلیم، صحت، روزگار اور صنعت کا پہیہ چلایا جا سکتا تھا۔ مگر ہم نے اسے ماضی کے قرض اتارنے اور حال کے خسارے چھپانے میں جھونک دیا۔یہ اضافہ کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رہا۔ مقامی قرضے 11 ہزار 300 ارب روپے بڑھ گئے اور بیرونی قرضوں میں 869 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اکتوبر 2025 تک وفاقی حکومت کا مجموعی قرضہ 76 ہزار 979 ارب روپے تک جا پہنچا، جبکہ فروری 2024 تک یہی قرضہ 64 ہزار 810 ارب روپے تھا۔ یعنی صرف بیس مہینوں میں قرض کا پہاڑ مزید بلند ہو گیا اور ریاست اس کے سائے میں مزید چھوٹی ہو گئی۔کیا یہ وہ رفتار ہے جسے ترقی کہا جاتا ہے؟ کیا یہ وہ حکمت عملی ہے جس پر فخر کیا جا سکتا ہے؟ آسان لفظوں میں کہا جائے تو ریاستیں قرض لے کر نہیں، کردار بنا کر کھڑی ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں کردار کمزور ہوا تو قرض سہارا بن گیا اور سہارا عادت بن گیا۔مرکزی حکومت کا مقامی قرضہ فروری 2024 تک 42 ہزار 675 ارب روپے تھا، جو اکتوبر 2025 تک بڑھ کر 53 ہزار 975 ارب روپے ہو گیا۔ یعنی اندرونِ ملک ہی سے اتنا قرض لے لیا گیا کہ بینکوں کے پاس صنعت کے لیے پیسہ کم اور حکومت کے لیے زیادہ ہو گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نجی شعبہ سکڑتا گیا، کاروبار دم توڑتے گئے اور بے روزگاری کا گراف اوپر جاتا رہا۔ ریاست نے اپنی ناکامی کا بوجھ اپنے ہی شہریوں کے کندھوں پر ڈال دیا۔بیرونی قرضوں کی کہانی بھی مختلف نہیں۔ فروری 2024 تک بیرونی قرضہ 22 ہزار 134 ارب روپے تھا، جو اکتوبر 2025 تک 23 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ یہ وہ قرضہ ہے جس کے ساتھ شرائط جڑی ہوتی ہیں، ہدایات بندھی ہوتی ہیں اور خودمختاری گروی رکھ دی جاتی ہے۔ بجٹ سے پہلے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنا، عوام سے پہلے عالمی اداروں کو جواب دینا اور قومی مفاد سے پہلے قرض دہندگان کے مطالبات پورے کرنا یہی وہ قیمت ہے جو ہم اس قرض کی صورت ادا کر رہے ہیں۔اصل مسئلہ قرض نہیں اصل مسئلہ نیت اور سمت ہے۔ دنیا میں بہت سے ممالک نے قرض لیا مگر انہوں نے اسے پیداوار میں لگایا، صنعت میں جھونکا، برآمدات بڑھائیں اور چند برسوں میں قرض اتار کر خود مختار ہو گئے۔ پاکستان نے قرض لیا مگر اسے حکومتی اخراجات، شاہانہ طرزِ زندگی، ناقص منصوبہ بندی اور سیاسی مفادات کی نذر کر دیا۔ یہاں قرض ترقی کا زینہ نہیں بنا بلکہ حکمرانوں کے لیے وقتی سیڑھی بن گیا۔دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قرض تقدیر نہیں ہوتا ۔ جنوبی کوریا کبھی آئی ایم ایف کے سامنے کھڑا تھا اس کی معیشت نڈھال تھی مگر اس نے قرض کو عیاشی میں ضائع نہیں کیا۔ اس نے صنعت کو ریاستی ترجیح بنایا، تعلیم اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی، برآمدات کو قومی مقصد بنایا اور چند ہی برسوں میں قرض اتار کر خود مختار معیشت کی مثال بن گیا۔ ملائیشیا نے بھی یہی راستہ اپنایا۔ اس نے عالمی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنے وسائل پر اعتماد کیا، غیر ضروری اخراجات کم کیے، قومی مفاد کو مرکزِ پالیسی بنایا اور آہستہ آہستہ قرض کے شکنجے سے نکلنے میں کامیاب ہوا۔اسی طرح ترکی کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ نوّے کی دہائی میں ترکی شدید معاشی بحران کا شکار تھا، قرضوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا تھا مگر اس نے ٹیکس اصلاحات کیں، برآمدات کو فروغ دیا، انفراسٹرکچر میں سرمایہ لگایا اور حکومتی فضول خرچی پر قدغن لگائی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ترکی نے نہ صرف قرضوں پر قابو پایا بلکہ اپنی معیشت کو علاقائی طاقت میں بدل دیا۔ چین نے بھی ابتدا میں بیرونی قرض اور عالمی اداروں سے مدد لی مگر اس مدد کو صنعت، پیداوار اور طویل المدتی منصوبہ بندی میں بدلا۔ آج وہی چین قرض لینے والا نہیں دنیا کو قرض دینے والا بن چکا ہے۔پاکستان ریاست نہیں ایک قرض خانہ بنتی جا رہی ہے جہاں ہر آنے والی حکومت پچھلے قرض کا نوحہ پڑھتی ہے اور نئے قرض کا بندوبست کر کے چلی جاتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اس چکر کو توڑنا بھی ہے۔قرضوں کا یہ بڑھتا ہوا بوجھ صرف معاشی مسئلہ نہیں یہ اخلاقی بحران بھی ہے۔ جب حکمران جانتے ہوں کہ ان کے فیصلوں کی قیمت وہ خود نہیں آنے والی نسلیں ادا کریں گی تو پھر بے حسی جنم لیتی ہے۔ آج کا حکمران اقتدار کے چند برس گزار کر نکل جاتا ہے مگر اس کے فیصلوں کا بوجھ بچے، نوجوان اور مستقبل اٹھاتے ہیں۔ یہی وہ ناانصافی ہے جو قوموں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کی ترقی کا راستہ قرض نہیں اعتماد ہے۔ اعتماد اپنی معیشت پر، اپنے وسائل پر اور سب سے بڑھ کر اپنے عوام پر۔ مگر جب حکمران عوام کو بوجھ اور قرض کو حل سمجھنے لگیں تو انجام یہی ہوتا ہے جو آج ہمارے سامنے ہے۔ قرضوں کا پہاڑ، مہنگائی کا طوفان اور مایوسی کی فضا۔سوال پھر وہی ہے کیا ایسے حالات میں پاکستان ترقی کر سکتا ہے؟ جواب تلخ مگر سچ ہے کہ نہیں، جب تک قرض کو عادت اور اصلاح کو خطرہ سمجھا جاتا رہے گا۔ اور کیا ایسے حکمران پاکستان کے ساتھ مخلص ہیں؟ تاریخ کا فیصلہ بھی یہی کہتا ہے کہ مخلص حکمران قرض کو آخری راستہ بناتے ہیں، پہلا نہیں۔قوموں کو تباہی میں وقت لگتا ہے مگر تباہ فیصلے لمحوں میں ہو جاتے ہیں۔ پاکستان آج اسی موڑ پر کھڑا ہے۔ یا تو ہم قرض کی سیاست چھوڑ کر خودداری کی معیشت کی طرف جائیں یا پھر آنے والی نسلوں کو یہی جواب دیں کہ ہم نے ملک گروی رکھ دیا تھا، صرف اقتدار بچانے کے لیے۔