Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

ہندوستان! خاتون کے نقاب پر ناپاک ہندو کا ہاتھ

نریندر مودی کا بھارت آج جس سیاسی، سماجی اور اخلاقی پستی کا شکار ہے، اس کی واضح اور بھیانک مثال ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر کا نقاب زبردستی نوچنے کا واقعہ ہے۔ یہ محض ایک فرد کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ نہیں بلکہ ایک منظم ہندو انتہا پسندانہ ذہنیت کا اظہار ہے، جو ریاستی سرپرستی میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے، عورت کی عزت، اس کی شناخت اور مذہبی آزادی کو روند ڈالنا اب بھارت میں معمول بنتا جا رہا ہے،جواہر لال نہرو کے سیکولر بھارت کو نریندر مودی نے ہندو دہشت گرد بھارت میں تبدیل کرکے مسلمان عورتوں ،بچوں اور مردوں کے لئے قید خانے میں تبدیل کر دیا ہے۔
نقاب کسی خاتون کے لیے محض کپڑے کا ٹکڑا نہیں بلکہ اس کی مذہبی وابستگی، شخصی وقار اور آئینی حق کی علامت ہے۔ کسی بھی مرد، سیاسی رہنما یا ریاستی نمائندے کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ طاقت کے زور پر کسی عورت کی شناخت چھین لے۔ مسلمان خاتون کا نقاب کھینچنا دراصل اس کے جسم، اس کے عقیدے اور اس کی خودمختاری پر حملہ ہے، اور یہ حملہ کھلے عام، دن دہاڑے اور طاقت کے نشے میں کیا گیا۔
اس شرمناک واقعے کے بعد بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے خلاف مقدمہ درج ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی غم و غصہ شدت اختیار کر چکا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کے طاقتور سیاسی چہرے واقعی قانون کے کٹہرے میں لائے جائیں گے؟ یا یہ مقدمہ بھی ماضی کے بے شمار مقدمات کی طرح فائلوں کی نذر ہو جائے گا؟ جب حکمران اتحاد خود ایسے عناصر کی پشت پناہی کرے تو انصاف کی امید محض ایک فریب بن جاتی ہے۔
خبروں کے مطابق مسلمان خاتون ڈاکٹر کا نقاب کھینچنے کے واقعے پر بی جے پی کے اتحادی اور بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق لکھن میں سماج وادی پارٹی کی رہنما سمیہ رانا نے نتیش کمار کے خلاف مقدمہ درج کروایا ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کا کہنا ہے کہ کسی عوامی عہدیدار کی جانب سے کسی خاتون کا حجاب یا نقاب زبردستی ہٹانا عورت کی عزت، شناخت اور ذاتی آزادی پر سنگین حملہ ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایسے اقدامات نہ صرف خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ کے ماحول کو بھی فروغ دیتے ہیں،یہ واقعہ تین چار روز قبل پیش آیا تھا ‘ جس کے بعد نقاب کھینچنے کے واقعے کو بھارتی سیاسی رہنمائوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شرمناک قرار دیا۔
انسانی حقوق کی کارکن دپیکا پشکر ناتھ نے اسے جنسی ہراسانی کا سنگین واقعہ قرار دیا، جبکہ مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے خواتین کی تذلیل قرار دیا۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے بجا طور پر اس واقعے کو عورت کی عزت اور آزادی پر سنگین حملہ قرار دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق کسی خاتون کا حجاب یا نقاب زبردستی ہٹانا نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی پامالی ہے بلکہ یہ ریاستی جبر کی بدترین شکل ہے۔ اس کے باوجود سوال یہ ہے کہ کیا ایسے بیانات زمینی حقیقت بدل سکتے ہیں، یا یہ صرف ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے جاری کیے جاتے ہیں؟
یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت میں مسلمان خواتین کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کبھی حجاب پر پابندیاں، کبھی تعلیمی اداروں میں تذلیل، اور اب کھلے عام نقاب نوچنے جیسے واقعات ،یہ سب ایک خطرناک منصوبے کا حصہ ہیں، جس کا مقصد مسلمانوں کو سماجی طور پر دیوار سے لگانا اور ان کی مذہبی شناخت مٹانا ہے۔ یہ وہی بھارت ہے جو دنیا کے سامنے خود کو جمہوریت، سیکولرازم اور انسانی حقوق کا علمبردار کہتا ہے، مگر اندرونِ خانہ فاشزم کو پروان چڑھا رہا ہے۔
انسانی حقوق کی کارکن دپیکا پشکر ناتھ کی جانب سے اس واقعے کو جنسی ہراسانی قرار دینا بالکل درست ہے، کیونکہ کسی خاتون کے لباس پر زبردستی ہاتھ ڈالنا براہِ راست جنسی تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی طرح مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیرِ اعلی محبوبہ مفتی کی شدید مذمت اس بات کا ثبوت ہے کہ ضمیر ابھی مکمل طور پر مرا نہیں، مگر کیا صرف مذمت کافی ہے؟
بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت کی سیاست اب اتنی بے خوف ہو چکی ہے کہ اسے قانون، اخلاق یا بین الاقوامی دبائو کا کوئی خوف نہیں رہا۔ ہجومی تشدد، مسجدوں کی بے حرمتی، مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر، اور اب خواتین کے نقاب نوچنے جیسے واقعات ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ نریندر مودی کی بھارتی ریاست خود مجرم ہے،جب ریاست خود شریکِ جرم ہو تو پھر اس قسم کے واقعات معمول بن جایا کرتے ہیں ۔
اگر آج ایک مسلمان خاتون کا نقاب نوچا جا سکتا ہے تو کل کسی اور کی جان بھی لی جا سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ظلم کو معمول بنا دیا جائے تو معاشرہ اجتماعی طور پر تباہی کی طرف بڑھتا ہے۔ بھارت اگر واقعی خود کو جمہوری اور مہذب ریاست ثابت کرنا چاہتا ہے تو اسے ایسے جرائم پر زیرو ٹالرینس دکھانا ہوگی، ورنہ نفرت کی یہ آگ سب کچھ جلا کر راکھ کر دے گی،ہندوستان میں بسنے والی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو ہندو ریاستی دہشت گرد جس طرح ظلم وستم کا نشانہ بنا رہے ہیں، اگر ہندوستانی مسلم نوجوانوں نے جہادی ضربوں کے ذریعے جواباً ردعمل کا اظہار کیا تو ہندوستان بری طرح متاثر ہو گا،یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ نقاب پر حملہ دراصل صرف عورت پر نہیں،بلکہ انسانیت پر حملہ ہے۔ یہ واقعہ بھارت کے ماتھے پر ایک اور سیاہ داغ ہے، جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ سوال یہ نہیں کہ یہ واقعہ ہوا کیوں، سوال یہ ہے کہ کب تک ہوتا رہے گا؟اور کب دنیا اس خاموشی کو توڑے گی؟

یہ بھی پڑھیں