آج دنیا کی آٹھ ارب کی مجموعی آبادی کا لگ بھگ ایک چوتھائی حصہ مسلمانوں کے زیر انتظام 57 ممالک پر مشتمل ہے۔ گویا ایک محتاط اندازے کے مطابق دو ارب کے قریب افراد پر مشتمل مسلمانوں کی آبادی ہے، جو زمین کے قیمتی ترین وسائل اور منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کے حامل ہے۔ خوش آئند بات یہ کہ یہ خطہ ہائے زمین تیل، گیس، سونا، یورینیم اور نایاب معدنیات سے مالامال ہیں۔ ایشیا، افریقہ اور یورپ کے سنگم پر مسلمان ممالک کی سرزمین عالمی تجارت کی شاہراہوں کو آپس میں جوڑتی ہے۔ نوجوان افرادی قوت ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ مگر ایک درد مندانہ سوال یہ ہے کہ اتنی نعمتوں کے باوجود ہم علم، اخلاق، معیشت، سیاست، سائنیس اور ٹیکنالوجی میں دنیا سے اتنے پیچھے کیوں ہیں؟ جبکہ ایک وہ بھی وقت آسمان کی نگاہوں نے دیکھا جب یہی امت دنیا کی علمی و فکری رہنما تھی۔ آٹھویں سے تیرہویں صدی عیسوی تک کا دور، جسے “اسلامی سنہری عہد” کہا جاتا ہے، انسانی تاریخ کے روشن ترین ابواب میں سے ایک تھا۔ بغداد کا بیت الحکمت، قرطبہ کی لائبریریاں، غرناطہ کے علمی مراکز اور قاہرہ و دمشق کی جامعات نے علم و تحقیق کے دریچے کھولے۔ الخوارزمی، ابن الہیثم، جابر بن حیان اور ابنِ سینا جیسے مفکرین نے انسانی علم کے نقشے بدل دیے۔ ان کے درس و تحقیق سے یورپ کی تاریک صدیوں میں روشنی پیدا ہوئی۔ مگر افسوس کہ وہ اجالا دیرپا نہ رہا۔ منگول حملوں اور سیاسی انتشار نے اس تہذیبی عروج کو نگل لیا۔ یورپ نشاۃ ثانیہ سے ابھرا اور مسلم دنیا جمود کا شکار ہو گئی۔
آج ہمارا سب سے بڑا زوال علمی و فکری کمزوری ہے۔ مسلم ممالک اپنی مجموعی پیداوار کا برائے نام حصہ تحقیق و ترقی پر خرچ کرتے ہیں۔ جدید یونیورسٹیوں میں تنقیدی و تخلیقی فکر کی بجائے امتحانی نظام رائج ہے، جو ڈگریاں تو دیتا ہے مگر ذہنوں کو نئے سوالات اٹھانے سے روکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوبل انعامات میں سائنس کے میدان میں مسلم نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔جہالت نے تفرقے کو جنم دیا۔ فرقہ واریت نے امت کو پارہ پارہ کر دیا۔ عراق، شام، یمن، سوڈان اور پاکستان جیسے ممالک میں یہی اندرونی تصادم لاکھوں جانوں کے ضیاع کا سبب بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس تعصب کو مزید ہوا دی ہے جس کے نتیجے میں دین اسلام کا اصل پیغام پسِ منظر میں چلا گیا ہے۔ سیاسی سطح پر ہم بظاہر آزاد ہیں مگر فکری و معاشی طور پر اب بھی غلام۔ ہماری پالیسیاں بیرونی طاقتوں کی ترجیحات کے تابع ہیں، ہماری معیشت بین الاقوامی اداروں کی شرائط سے بندھی ہے، ہماری افواج دفاع کے لیے غیر ملکی ٹیکنالوجی کی محتاج ہیں اور ہمارے نوجوان مغربی میڈیا کلچر کے اسیر بنتے جا رہے ہیں۔ اسلام جس اجتماعی شعور، عدل اور قیادت کی دعوت دیتا ہے، ہم نے اسے چند مذہبی رسومات تک محدود کر دیا ہے۔ اس تاریک منظرنامے میں چند امید کی کرنیں بھی ہیں۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت اور میزائل ٹیکنالوجی میں خود کفیل ہے، ترکی نے دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ ملائیشیا نے تعلیم و معیشت کا بامقصد ماڈل قائم کیا۔ انڈونیشیا نے مذہب اور جمہوریت کا حسین توازن برقرار رکھا۔ متحدہ عرب امارات، قطر اور سعودی عرب نے سائنسی اور تعلیمی شعبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے ترقی کی راہیں کھولیں۔ مگر یہ کامیابیاں ابھی عمومی رجحان نہیں بن سکیں۔
اگر امت کو دوبارہ عزت و قیادت کا مقام حاصل کرنا ہے تو احیا کا سفر فکر و تعلیم کی اصلاح سے شروع ہوگا۔ مدارس میں جدید سائنسی و تکنیکی علوم اور تنقیدی فکر کو شامل کیا جائے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ جامعات میں اسلامی اخلاقیات اور جدید اسلامی مفکرین کی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے۔ دینی مدارس اور عصری علوم کے کالجز و یونیورسٹیوں کے درمیان فکری دیواریں گرائی جائیں۔ دینی و عصری علوم کا حسین امتزاج کر کے وقت، حالات اور ماحول سے ہم آہنگ نصاب تعلیم رائج کیا جائے تاکہ اسلام کی روح کے عین مطابق نسل نو میں علم و عمل کا رشتہ بحال کیا جائے۔ سیاست کو عدل، امانت اور احتساب کے قرآنی اصولوں کے تابع بنایا جائے۔ اقتصادی و سائنسی خودکفالت کے لیے مشترکہ مسلم وژن تشکیل دیا جائے، جیسا کہ یورپی یونین نے اپنی بقا کے لیے کیا۔ ہمارے پاس وسائل ہیں، جذبہ ہے اور افرادی قوت بھی لیکن کمی صرف تنظیم، اتحاد اور خوداعتمادی کی ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم تفرقے، جذباتی نعروں اور رسومات سے آگے بڑھ کر علم وعمل، اتحاد و یکجہتی اور اخلاق و آداب کو اپنی پہچان بنائیں۔ مسجد اور لیبارٹری کا رشتہ جوڑیں، نوجوانوں کو با مقصد زندگی گزارنے کا شعور دیں۔ قرآن کی روشنی میں نئی فکری روایت قائم کریں۔ ان شاء اللہ تعالٰی ہمیں یقین ہے کہ جب مسلمان اسی انداز میں علم و عمل کے ساتھ ترقی کی راہوں کی طرف لوٹیں گے تو تاریخ ایک بار پھر ان کے قدموں میں کامیابی کے پھول نچھاور کرے گی۔ بقول اقبال
زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے خالی
میں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہے
یہی وہ نکتۂ آغاز ہے جہاں سے افراد کی اصلاح قوموں کی اجتماعی سربلندی میں ڈھلتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کا عروج محض نعروں، افرادی قوت یا وسائل کی کثرت سے نہیں بلکہ حسن کردار، نظم اجتماعی اور مقصدیت کے تعین سے جنم لیتا ہے۔ جب فرد اپنے علم کو عمل، اپنے ایمان کو اخلاق اور اپنی عبادت کو خدمتِ خلق سے جوڑ لیتا ہے تو معاشرہ خود بخود بدلنے لگتا ہے۔ آج امتِ مسلمہ کو کسی نئے نعرے یا مصنوعی ہیرو کی نہیں بلکہ ایسے باکردار انسانوں کی ضرورت ہے جو سچ بولیں، دیانت سے کام کریں، اختلاف میں بھی عدل کا دامن نہ چھوڑیں اور اقتدار کو طاقت کی بجائے امانت سمجھیں۔ اگر ہم نے فرد سے ادارے تک اور مسجد سے ریاست تک اس فکری و اخلاقی انقلاب کا سفر طے کر لیا تو زوال کی یہ طویل رات اختتام کو پہنچے گی اور امت ایک بار پھر انسانیت کے لیے رہنمائی اور رحمت کا سرچشمہ بن جائے گی۔
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی