Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

انسانی یکجہتی کا عالمی دن اور مقبوضہ کشمیر میں سسکتی انسانیت

کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ جب 20 دسمبر کو انسانی یکجہتی کا عالمی دن منایا گیا، اس موقع پر بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر اور فلسطین میں سسکتی ہوئی انسانیت عالمی برادری کی فوری توجہ کی متقاضی ہے۔
حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ انسانی یکجہتی کا عالمی دن منانا اس وقت تک بے سود ہے جب تک دنیا مظلوم کشمیریوں ، فلسطینیوں کے شانہ بہ شانہ کھڑی نہیں ہوجاتی جو گزشتہ کئی دہائیوں سے جارح بھارت اور اسرائیل کے بے انتہا عتاب کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اور حق و انصاف پر یقین رکھنے والوں کو کشمیر اور فلسطین کے مظلوم لوگوں کے ساتھ بھر پور اظہار یکجہتی کرنا چاہیے جن کے سیاسی حقوق کو بھارت اور اسرائیل نے طاقت کے بل پر دبا رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ کشمیر ، فلسطین میں انسانیت کے خلاف جاری سنگین جرائم پر بھارت ، اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرائے اور انہیں انسانی حقوق کے عالمی قوانین اور اصول و ضوابط کی پاسداری کا پابند بنائے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری گزشتہ 78 سالوں سے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کے منتظر ہیں تاکہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔انہوںنے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیریوں کا حق خود ارادیت تسلیم کر رکھا ہے لہذا عالمی برادری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں یہ حق دلانے کیلئے بھر پور کردار اداکرے۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت میں عدلیہ اپنے فیصلوں میں ہرگز آزاد نہیں بلکہ مکمل طور پر بی جے پی حکومت کے تابع فرمان ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ مودی حکومت کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں جاری غیر قانونی اقدامات کو بھر پور تحفظ فراہم کر رہی ہے ، بھارتی عدالت عظمی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے مودی حکومت کے اگست 2019کے غیر قانونی اقدام کو بھی درست قرار دیا جو اسکی جانبداری کا واضح غماز ہے۔
حریت کانفرنس کے ترجمان نے اپنے بیان میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کے حل کے حوالے سے بھارتی ہٹ دھرمی اور غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل کا نوٹس لے اور کشمیریوں کو اپنی پاس کردہ قراردادوں کے مطابق انکا ناقابل تنسیخ حق، حق خود ارادیت دلانے کیلئے کردار ادا کریں.
انسانی یکجہتی کے عالمی دن کے موع پر بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے مظلوم لوگ حق و انصاف اور اپنے تئیں یکجہتی کے بے انتہا منتظرہیں۔حق و انصاف پر یقین رکھنے والی دنیا بھر کی اقوام کو چاہیے کہ وہ1947سے بھارتی مظالم کا شکار کشمیریوں کی حالت زار کی طرف توجہ دیں اور انہیں اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ اپنا پیدائشی حق، حق خودارادیت دلانے کیلئے کردار ادا کریں۔
کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج انسانی یکجہتی کے عالمی دن پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیاکہ بھارت نے اکتوبر 1947میں مسلم اکثریتی جموں وکشمیر کے ایک بڑے بڑے حصے پر طاقت کے بل پر قبضہ جما لیا اور اس نے آزادی کے مطالبے کی پاداش میں کشمیریوں کاجینا دوبھرکر رکھا ہے۔بھارتی فورسز مقبوضہ علاقے میں انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کر رہی ہیں۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بی جے پی کی بھارتی حکومت نے اگست 2019میں مقبوضہ جموں وکشمیر کے خلاف اور ایک سنگین وار کیا اور علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کی۔ بی جے پی کی ہندو توا بھارتی حکومت نے نے کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کرلیے ہیں اوروہ اپنے پیدائشی حق،حق خود ارادیت کے مطالبے کی پاداش میں کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔
رپورٹ میں کہاکہ مقبوضہ علاقے میں انسانیت سسک رہی ہے،بھارتی حکومت کشمیریوں کا قتل عام اور انہیں اپنے گھروں ، زمینوں اور دیگر املاک سے محروم کر رہی ہے، کشمیری ملازمین کو نوکریوں سے نکال کر انہیں بے روز گارکررہی ہے، اس نے چار ہزار سے زائد کشمیریوں کو جھوٹے مقدمات میں جیلوں او ر عقوبت خانوں میں بند کر رکھا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی کیوجہ سے بھارت کو مقبوضہ علاقے میں اپنے جرائم جاری رکھنے کی شہ مل رہی ہے لہذا ہرانصاف پسندانسان کوچاہیے کہ وہ مظلوم کشمیریوں کے حق میں اپنی آوازبلندکرے اور انکے ساتھ بھرپوریکجہتی کرے۔
رپورٹ میں اقوام متحدہ سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں انسانیت کے خلاف جاری سنگین جرائم پر بھارتی حکومت کو جواب دہ ٹھہرائے اور جموںوکشمیر کے بارے میںاپنی پاس کردہ قرار دادوں پر عملد رآمد کرانے کیلئے اس پر دبائو ڈالے۔
ہر سال دنیا بھر میں 20دسمبر کو انسانی یکجہتی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی مدد کرنا، انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنا، دنیا سے غربت اور تنگ دستی کے خاتمے کے لیے انسانوں کے باہمی اتحاد و یگانگت کی اہمیت کو ا اگر کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں