دنیا کی تاریخ پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو عورت کی داستان زیادہ تر محرومی، استحصال اور ناانصافی سے عبارت دکھائی دیتی ہے۔ قدیم تہذیبوں میں کہیں اسے وراثت سے محروم رکھا گیا، کہیں اسے مرد کی ملکیت سمجھا گیا، اور کہیں محض خواہشات کی تسکین کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ جاہلیت کے اندھیروں میں تو بیٹی کو باعثِ عار سمجھ کر زندہ دفن کر دینا بھی ایک معمول تھا۔ ایسے ماحول میں اسلام کا ظہور انسانیت کے لیے رحمت بن کر ہوا، جس نے عورت کو عزت، وقار اور وہ مقام عطا کیا جو اسے فطری طور پر حاصل تھا۔اسلام وہ پہلا مکمل ضابطۂ حیات ہے جس نے عورت کو محض ہمدردی نہیں بلکہ مساوی انسانی حیثیت دی۔
قرآنِ کریم واضح انداز میں اعلان کرتا ہے کہ عورت اور مرد دونوں اللہ کی مخلوق ہیں اور دونوں کے حقوق و فرائض متوازن ہیں۔ سورۃ البقرہ کی آیت 228 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ عورتوں کے لیے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے ہیں، معروف طریقے پر، البتہ ذمہ داریوں کے فرق کے باعث مرد کو قوام بنایا گیا ہے۔ اس آیت سے یہ حقیقت اجاگر ہوتی ہے کہ اسلام عورت کو کمتر نہیں بلکہ ایک باوقار اور ذمہ دار انسان تسلیم کرتا ہے۔اسلام نے عورت کے مختلف کرداروں کو نہایت خوبصورتی سے متعین کیا ہے۔ بطور بیٹی، اسلام نے اس تصور کو یکسر بدل دیا جو جاہلیت میں رائج تھا۔ رسول اکرم ﷺ نے بیٹیوں کو رحمت قرار دیا اور ان کی پرورش کو جنت کا ذریعہ بتایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے ہاں بیٹیاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، ان کی توہین نہ کرے اور بیٹوں کو ان پر ترجیح نہ دے، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ یہ تعلیم اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام نے بیٹی کو بوجھ نہیں بلکہ رحمت اور برکت قرار دیا۔بطور ماں، عورت کا مقام اسلام میں سب سے بلند نظر آتا ہے۔ قرآنِ کریم نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیتے ہوئے ماں کی قربانیوں کو خصوصی طور پر نمایاں کیا ہے۔
سورۃ لقمان میں ماں کے حمل، ولادت اور دودھ پلانے کی مشقت کا ذکر کر کے انسان کو اس احسان کا احساس دلایا گیا ہے۔ نبی اکرمﷺ کا یہ ارشاد کہہے ” تمہاری جنت تمہاری ماں کے قدموں کے نیچے ہے “ عورت کے اس عظیم رتبے کو واضح کرتا ہے۔ اسلام کے نزدیک ماں محض ایک رشتہ نہیں بلکہ انسان کی تربیت اور کردار سازی کا مرکز ہے۔بطور بیوی بھی اسلام نے عورت کو عزت و احترام دیا۔ نکاح کو محض جسمانی تعلق نہیں بلکہ سکونِ قلب، محبت اور رحمت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ قرآنِ کریم میں میاں بیوی کے رشتے کو اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کہا گیا ہے۔
نبی اکرم ﷺ نے اپنی عملی زندگی کے ذریعے یہ سبق دیا کہ بہترین انسان وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ بہترین سلوک کرے۔ یہ تعلیم اس تصور کی نفی کرتی ہے کہ عورت شادی کے بعد مرد کی تابع یا کمتر ہو جاتی ہے، بلکہ اسلام میں بیوی کو گھر کی ملکہ اور شریکِ حیات کا درجہ حاصل ہے۔اسلام نے عورت کو سماجی سطح پر بھی بااختیار بنایا۔ اسے تعلیم حاصل کرنے کا حق دیا گیا اور علم کے دروازے اس کے لیے بند نہیں کیے گئے۔ رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں خواتین علم و دانش کا مرکز بنیں۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ علمِ حدیث اور فقہ میں ممتاز مقام رکھتی تھیں اور بڑے بڑے صحابہؓ ان سے مسائل دریافت کرتے تھے۔ یہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اسلام عورت کو ذہنی اور علمی ترقی کا حق دیتا ہے۔اسلامی تاریخ میں خواتین کا کردار صرف تعلیم یا گھر تک محدود نہیں رہا بلکہ میدانِ عمل میں بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں۔ حضرت خدیجہؓ نے دعوتِ اسلام کے ابتدائی دور میں اپنے مال اور تعاون سے جو قربانیاں دیں، وہ تاریخ کا روشن باب ہیں۔ حضرت فاطمہؓ نے صبر، قناعت اور ایثار کی ایسی مثال قائم کی جو قیامت تک خواتین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ حضرت نسیبہ بنت کعبؓ نے جنگِ اُحد میں تلوار تھام کر نبی اکرمﷺ کا دفاع کیا اور اپنے جسم پر زخم کھا کر یہ ثابت کیا کہ ضرورت پڑنے پر عورت اسلام کے لیے ہر قربانی دے سکتی ہے۔یہ تمام مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اسلام نے عورت کو کمزور یا بے اختیار نہیں بلکہ باوقار، ذمہ دار اور فعال رکنِ معاشرہ بنایا۔
عورت چاہے گھر کی چار دیواری میں ہو یا سماجی خدمت کے میدان میں، تعلیم میں ہو یا دعوت و تبلیغ میں، ہر جگہ اسے عزت اور مقام حاصل ہے۔آج کے دور میں جب عورت کے نام پر مغربی نظریات کو مثالی بنا کر پیش کیا جاتا ہے، ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ حقیقی عزت کہاں ہے۔ اسلام نے عورت کو بیٹی کے روپ میں رحمت، ماں کے روپ میں جنت، بیوی کے روپ میں سکون اور بہن کے روپ میں حفاظت عطا کی۔ مسئلہ اسلام کی تعلیمات میں نہیں بلکہ ہمارے طرزِ عمل میں ہے۔ اگر ہم قرآن و سنت کی روشنی میں عورت کے حقوق ادا کریں تو معاشرہ خود بخود امن، سکون اور توازن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔آخر میں یہی پیغام ہے کہ عورت کا اعلیٰ و ارفع مقام اسی وقت بحال ہو سکتا ہے جب ہم اسلامی تعلیمات کو محض نعروں کے بجائے عملی زندگی میں نافذ کریں۔ اپنی بیٹیوں کو تعلیم، اپنی بہنوں کو احترام، اپنی بیویوں کو محبت اور اپنی ماؤں کو وہ مقام دیں جو اسلام نے مقرر کیا ہے۔ یہی ایک صالح، متوازن اور باوقار معاشرے کی بنیاد ہے۔