ناموسِ رسالت ﷺ مسلمانوں کے ایمان کی اساس اور اجتماعی شعور کا وہ حساس باب ہے جس پر کوئی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں سمجھا جاتا۔ پاکستان جیسے اسلامی معاشرے میں توہینِ رسالت کے معاملات نہ صرف مذہبی جذبات بلکہ آئینی، قانونی اور سماجی ذمہ داریوں سے بھی گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کی جانب سے سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد کی تشہیر میں ملوث پانچ مجرمان کی سزائے موت کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے نے ملک بھر میں شدید ردِعمل کو جنم دیا۔ مذہبی جماعتوں، علماء، خطباء اور عوامی حلقوں نے اس فیصلے کو آئین و قانون کے منافی قرار دیتے ہوئے اسے انصاف کے تقاضوں کے برعکس سمجھا اور اس کے خلاف پرامن احتجاج کا راستہ اختیار کیا۔ اسی تناظر میں ملک بھر میں یومِ مذمت منایا گیا، نمازِ جمعہ کے اجتماعات میں قراردادیں منظور ہوئیں اور اعلیٰ عدالتی فورمز سے نظرثانی و ازخود نوٹس کا مطالبہ سامنے آیا۔ یہ صورتحال ایک طرف عدالتی فیصلوں پر عوامی اعتماد اور دوسری طرف مذہبی اقدار کے تحفظ کے حوالے سے قومی حساسیت کو واضح کرتی ہے۔اخبارات میں چھپنے والی خبروں کے مطابق توہین رسالت کے مرتکب پانچ ثابت شدہ مجرمان کی سزائے موت کو کالعدم قرار دینے کے خلاف یوم مذمت منایا گیا،نماز جمعہ کے اجتماعات میں مذمتی قرارداد منظور کی گئی۔
لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے فیصلے کو ماورائے آئین و قانون قرار دے کر مسترد کر دیا گیا،توہین رسالت کے مرتکب پانچ ثابت شدہ مجرمان کی سزائے موت کو کالعدم قرار دینے کے خلاف مذہبی جماعتوں کی متفقہ کال پر جمعتہ المبارک کوملک بھر میں یوم مذمت منایا گیا۔نماز جمعہ کے اجتماعات میں منظور کی گئی قراردادوں میں سپریم کورٹ سے مذکورہ مجرمان کی سزائے موت کو کالعدم قرار دینے کے لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر مذکورہ مجرمان کی سزائے موت کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کی توہین پر مبنی بدترین مواد کی تشہیر میں ملوث پانچ ثابت شدہ مجرمان کی سزائے موت کو کالعدم قرار دینے کے لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے فیصلے خلاف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوتؐ،وفاق المدارس العربیہ،تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ ،مجلس احرار اسلام،ختم نبوت فورم،شبان ختم نبوت اور جمعیت اہلحدیث سمیت دیگر مذہبی جماعتوں کی متفقہ اپیل پر ملک بھر میں یوم مذمت منایا گیا۔اس حوالے سے مساجد میں نماز جمعہ کے اجتماعات میں علماء و خطبا نے قراردادیں پیش کیں، جس کے مطابق ’’لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے توہین رسالت کے مرتکب پانچ ثابت شدہ ملزمان کی سزائے موت کو آئین،قانون اور انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے حقائق و ریکارڈ کے برعکس فیصلے کے ذریعے کالعدم قرار دیا۔مذکورہ ماورائے آئین و قانون سیاہ ترین فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کرتے ہیں۔‘‘
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ ان گستاخوں کی بریت کے متعلق لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے فیصلوں کے خلاف دائر کی جانے والی اپیلوں کو فوری طور پر سماعت کے لئے مقرر کرکے ان فیصلوں کو کالعدم قرار دے اور بری کئے گئے پانچوں مجرمان کی سزائے موت کو بحال کرے۔سپریم جوڈیشل کونسل مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کی بدترین توہین کے مرتکب پانچ مجرمان کی سزائے موت کو آئین،قانون،حقائق اور ریکارڈ کے برعکس فیصلے کے ذریعے کالعدم قرار دیکر ان مجرمان کی دانستہ طور پر سہولت کاری کرنے والوں کے خلاف از خود نوٹس لیکر انہیں عہدے سے برطرف کرے۔سوشل میڈیا کے ذریعے گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث تمام مجرمان کے خلاف فیصلے آئین و قانون کے مطابق میرٹ پر کئے جائیں۔ بصورت دیگر وطن عزیز پاکستان میں انتشار اور لاقانونیت جنم لے سکتی ہے۔
وفاقی حکومت اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے ادارے سوشل میڈیا پر جاری مقدس ہستیوں اور شعائر اسلام کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے مکمل سدباب اور اس میں ملوث تمام مجرمان کو بلاتاخیر قانون کی گرفت میں لانے کے لئے تمام وسائل کو بروئے کار لائے۔قرارداد میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا ہے کہ ’’مقدس ہستیوں اور شعائر اسلام بالخصوص حضور ﷺ کی عزت،ناموس و حرمت کے تحفظ کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا جائے گا‘‘۔ملک بھر میں وکلاء کی بار رومز اور عوام کا دفاع ناموس رسالت ﷺ کے لئے متحرک ہونا نہ صرف یہ کہ ایک مستحسن عمل ہے،بلکہ اس میں ان فتنہ پرور گستاخوں کے سہولت کار سازشی عناصر کے لئے پیغام بھی ہے کہ ان کی ہر سازش کا مقابلہ عوامی سطح پر بھی کیا جائے گا ،ان شااللہ