Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

نفاذ اسلام مفتی عبدالرحیم اور گالیاں

پاکستان میں دینِ اسلام کے نفاذ کا مطالبہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ قیامِ پاکستان کے بنیادی مقاصد میں شامل ایک نظریاتی وعدہ ہے، جسے آئینِ پاکستان نے بھی تسلیم کیا ہے۔ اسی تناظر میں جب مذہبی طبقات، دینی جماعتیں یا علماء کرام اس مطالبے کو دہراتے ہیں تو یہ کسی فرد یا حکومت کے خلاف ذاتی عناد نہیں بلکہ ایک فکری، آئینی اور اخلاقی موقف ہوتا ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں جب مذہبی طبقے کے بارے میں یہ تاثر پیش کیا جائے کہ وہ اسلام کے نفاذ کا مطالبہ کرنے سے قبل گالی گلوچ، بدزبانی اور اشتعال انگیزی کو اپنا شعار بناتے ہیں تو یہ بات محض ایک رائے نہیں رہتی، بلکہ ایک سنجیدہ الزام کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
ایک طالبِ علمِ صحافت کی حیثیت سے یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ایسے بیانات کو بلا تنقیدی جائزہ قبول نہ کیا جائے، بلکہ تاریخی ریکارڈ، پارلیمانی روایات اور عملی شواہد کی روشنی میں ان کا تجزیہ کیا جائے۔ خصوصاً جب یہ دعویٰ ایسے صاحبِ علم مفتی کی جانب سے سامنے آئے کہ جو خود بھی دینی تشخص کا حامل اور دینی مدارس کو یونیورسٹیوں میں تبدیل کرنے کا خواہاں ہو‘ تو سوال اٹھانا نہ صرف جائز بلکہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہ خاکسار اسی فکری اور صحافتی ذمہ داری کے تحت آج کے کالم میں اس بات کا جائزہ لینے پر مجبور ہوا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا واقعی پاکستان کے مذہبی طبقات نے کبھی شائستگی اور دلیل کو ترک کر کے نفاذِ اسلام کے مطالبے کو گالیوں سے مشروط کیا؟ یا یہ ایک عمومی اور غیر مستند تاثر ہے جسے بلا ثبوت دہرایا جا رہا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ’’ہمارے مذہبی طبقے کا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں اسلام نافذ کیوں نہیں ہوتا؟جب یہ مطالبہ کرتے ہیں مطالبے سے پہلے پچاس گالیاں دیتے ہیں ،نعرے لگاتے ہیں ،برا بھلا کہتے ہیں پھر مطالبہ کرتے ہیں‘‘۔
مطلب یہ کہ مفتی عبدالرحیم المعروف استاد صاحب فرما رہے ہیں کہ مذہبی طبقہ پہلے 50گالیاں دیتا ہے‘ پھر اسلام کے نفاذ کا مطالبہ کرتا ہے،مفتی عبدالرحیم المعروف استاد صاحب چونکہ جامع الرشید کے ساتھ ساتھ الغزالی یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں، اس لیے ’’سچ‘‘ کے سوا کچھ بولتے ہی نہیں، اور تصنع وریاکاری کو بالکل جانتے ہی نہیں، اس لیے جو فرما رہے ہیں یقینا اپنے تئیں درست ہی فرما رہے ہوں گے، لیکن صحافت کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے ان کے اس فرمائے ہوئے سے جو سوالات جنم لے رہے ہیں،انہیں اٹھانا میری ذمہ داری ہے،پاکستان کی پارلیمنٹ میں دینی طبقات کی نمائندگی گزشتہ کئی دہائیوں سے جمیعت علما ء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن کر رہے ہیں، انہوں نے حکمرانوں سے پاکستان میں دین اسلام کے نفاذ کا جب بھی مطالبہ کیا تو بڑے شائستہ اور سلجھے ہوئے انداز میں کیا، گزشتہ تقریباً 35 سال سے یہ خاکسار ان کو سن رہا ہے اس خاکسار نے کئی سالوں تک پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی صحافتی گیلریز میں بیٹھ کر بھی ان کی تقریریں سنیں، رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور حکومت میں پارلیمنٹ میڈیا گیلری سے متحدہ مجلس عمل کی پوری احتجاجی سیاست کو دیکھا ، مرحوم حافظ حسین احمد ،لیاقت بلوچ ، شاہ عبد العزیز ،قاضی حسین احمد مرحوم کی پارلیمنٹ میں تندو تیز تقریریں اور احتجاجی نعرے بھی سنے، جولائی 2007ء میں جامعہ حفصہ لال مسجد کی پاکباز بیٹیاں ’’شریعت یا شہادت‘‘کے نعرے لگاتے ہوے پرویزی فاسفورس بموں کا نشانہ تو بنیں ، مگر علامہ عبدالرشید غازی شہید سمیت کسی بچی کی زبان سے گالی کسی کان نے نہ سنی،اس خاکسار نے مولانا سمیع الحق شہید ہوں یا مولانا اعظم طارق شہید، کو پارلیمنٹ میں شریعت بل پیش کر تے تو دیکھا،مگر انہیں حکمرانوں کو گالیاں دیتے ہوئے نہ دیکھا اور نہ سنا، مرحوم مولانا عبد الستار نیازی ہوں،مولانا شاہ احمد نورانی نور اللہ مرقدہ ہوں،پروفیسر ساجد میر مرحوم ہوں،یا مولانا ایثار القاسمی شہید، یہ سب وہ علما تھے کہ جو پارلیمنٹ میں مذہبی طبقات کی نمائندگی کرتے رہے، اس خاکسار نے پارلمینٹ میں ان سب کے بیانات اور حکومت وقت سے پاکستان میں نفاذ اسلام کے مطالبے تو سنے مگر گالی نہیں سنی، اسی طرح پاکستان کے دینی طبقات بالخصوص اہل سنت والجماعت مسلک دیوبند میں شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی وفاق المدارس العربیہ کے قائد مولانا محمد حنیف جالندھری ،اہل سنت والجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی،جیش محمد کے امیر اعلی مولانا محمد مسعود ازہر ،اہل سنت والجماعت بریلوی مسلک کے مفتی اعظم مفتی منیب الرحمن، ابو الخیر محمد زبیر جماعت اسلامی کے میاں طفیل محمد مرحوم سے لے کر حافظ نعیم الرحمن تک اور ان کے علاوہ دیگر مسالک کے اکابر علما ء کی تقریریں تحریریں اور جلسے جلوسوں میں پاکستان میں دین اسلام کے نفاذ کے حوالے سے کیے جانے والے مطالبات ریکارڈ کا حصہ ہیں ہم نے تو کبھی کسی مسلک کے عالم دین کی زبان سے بھی پاکستان میں اسلام کے نفاذ کے مطالبے سے پہلے کسی بھی حکمران کے لیے 50 تو دور کی بات کبھی ایک گالی بھی نہیں سنی،اب گیند غزالی یونیورسٹی کے چانسلر جناب مفتی عبدالرحیم کی کورٹ میں ہے کہ وہ بتائیں کہ انہیں کیسے پتہ چلا کہ علما ء یا دینی جماعتوں کے قائدین اسلام کے نفاذ سے پہلے 50 گالیاں دیتے ہیں، چونکہ الزام انہوں نے لگایا،دعوی انہوں نے فرمایا اس لئے ثبوت پیش کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔
مندرجہ بالا حقائق، تاریخی شواہد اور پارلیمانی روایات کی روشنی میں یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان کے مذہبی طبقات اور دینی جماعتوں نے نفاذِ اسلام کے مطالبے کو عمومی طور پر دلیل، آئین اور شائستگی کے دائرے میں رہ کر پیش کیا ہے۔ اختلافِ رائے جمہوری معاشروں میں فطری امر ہے، مگر کسی پورے طبقے پر بدزبانی اور گالی گلوچ کا الزام عائد کرنا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ ایک طویل جدوجہد اور قربانیوں کی تاریخ کو نظرانداز کرنے کے مترادف بھی ہے۔
اگر کہیں انفرادی سطح پر جذباتی انداز اختیار کیا گیا ہو تو اسے پورے مذہبی طبقے کا طرزِ عمل قرار دینا علمی اور دیانت دارانہ طرزِ استدلال نہیں۔ خصوصا ایسے الزامات جب دینی قیادت کے منصب پر فائز شخصیات کی جانب سے سامنے آئیں تو ان کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے دعوں کو ٹھوس شواہد کے ساتھ پیش کریں۔ بصورتِ دیگر یہ بیانات فکری انتشار کو جنم دیتے ہیں اور معاشرے میں غیر ضروری خلیج پیدا کرتے ہیں۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام جیسے سنجیدہ اور مقدس مطالبے کو ذاتی آرا، عمومی بیانات اور مبالغہ آرائی کی نذر نہ کیا جائے۔ اختلاف ہو تو دلیل سے، تنقید ہو تو شائستگی سے، اور دعویٰ ہو تو ثبوت کے ساتھ ،یہی صحافت کا بھی تقاضا ہے اور دینی اخلاقیات کا بھی۔

یہ بھی پڑھیں