اگر تاریخ کے کسی باب کو ایک سطر میں سمیٹا جائے تو شائد لکھا جائے گا کہ سال2025 ء جنگوں کا سال تھا۔ جب دنیا کے نقشے پر سرخ نشان بڑھتے گئے۔ امن کی لکیریں مٹتی گئیں اور انسان ایک بار پھر اس سوال کے سامنے کھڑا نظر آیا کہ کیا ہم واقعی مہذب ہو چکے ہیں یا صرف ہتھیار جدید ہو گئے ہیں؟ 2025 ء ہمیں یہ بتا گیا کہ جنگ اب صرف بارود، بندوق اور ٹینک کا نام نہیں رہی یہ ذہن معیشت ٹیکنالوجی اور بیانیے کی لڑائی بن چکی ہے۔روس اور یوکرین کی جنگ 2025 ء میں بھی ختم نہ ہو سکی۔ یہ جنگ اب صرف دو ملکوں کی جنگ نہیں رہی بلکہ یہ نیٹو اور روس کے درمیان اعصاب کی لڑائی بن چکی ہے۔ یوکرین کے شہر ملبے میں بدل چکے ۔ لاکھوں لوگ پناہ گزین بن چکے لیکن اس کے باوجود میزائل چلتے رہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کون سی ضد ہے جو انسان کو لاشوں کے انبار پر بھی مطمئن نہیں ہونے دیتی؟ روس اپنی سلامتی کا جواز دیتا رہا اور یوکرین اپنی خودمختاری کا اور اس دوران یورپ سردیوں میں گیس کے بحران اور مہنگائی کی جنگ لڑتا رہا۔اسی سال اسرائیل اور غزہ کی جنگ نے انسانیت کو ایک بار پھر شرمندہ کر دیا۔ غزہ پہلے ہی دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل تھا، 2025 ء میں وہ جیل قبرستان بنتی چلی گئی۔ بمباری، محاصرہ، بھوک، بچوں کی لاشیں یہ سب خبریں بن کر ہمارے موبائل فونز میں آتی رہیں اور ہم اسکرول کر کے آگے بڑھتے رہے۔ یہ جنگ صرف اسرائیل اور فلسطین کی نہیں تھی یہ عالمی ضمیر کی آزمائش تھی اور افسوس کہ یہ ضمیر اس امتحان میں بار بار فیل ہوتا نظر آیا۔اسی تسلسل میں اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست کشیدگی جنگ میں بدلتی دکھائی دی۔ اگرچہ یہ جنگ مکمل اور طویل نہ ہو سکی لیکن میزائل حملے، ڈرون آپریشنز اور خفیہ کارروائیاں دنیا کو یہ پیغام دیتی رہیں کہ مشرقِ وسطیٰ ایک آتش فشاں پر کھڑا ہے۔
ایران کے ایٹمی پروگرام کا خوف، اسرائیل کی سلامتی کی ضد اور امریکہ کی پشت پناہی یہ سب مل کر ایک ایسا کاک ٹیل بنا چکے ہیں جو کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے۔پاکستان اور انڈیا کے درمیان 2025 ء کی جنگ جنوبی ایشیا کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ برسوں کی کشیدگی، سرحدی جھڑپیں اور سفارتی جنگ آخرکار باقاعدہ جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ اس جنگ نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ ایٹمی طاقتیں بھی روایتی جنگ سے باز نہیں آتیں۔ پاکستان نے عسکری حکمت عملی، دفاعی تیاری اور قومی یکجہتی کے ذریعے نہ صرف اپنا دفاع کیا بلکہ دشمن کو واضح پیغام دیا کہ یہ ملک کمزور نہیں اور کسی بھی بازی کو پلٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چیف مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج کی دھاک پوری دنیا میں بیٹھ گئی۔ اس جنگ نے خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات چھوڑے اور دنیا کو یہ احساس دلایا کہ جنوبی ایشیا کا امن عالمی امن سے جڑا ہوا ہے۔افریقہ کی طرف دیکھیں تو سوڈان کی جنگ خاموشی سے لاکھوں زندگیاں نگلتی رہی۔ یہ وہ جنگ تھی جس پر عالمی میڈیا کم اور لاشیں زیادہ تھیں۔ اقتدار کی ہوس، نسلی تقسیم اور بیرونی مداخلت نے سوڈان کو ایک ایسے دلدل میں دھکیل دیا جہاں سے نکلنے کا کوئی آسان راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ افریقہ کی جنگیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ دنیا کا دکھ صرف وہ نہیں جو ٹی وی اسکرین پر نظر آئے۔اسرائیل کے شام اور لبنان پر حملے 2025ء میں بھی جاری رہے۔ یہ حملے صرف عسکری اہداف تک محدود نہ رہے بلکہ علاقائی عدم استحکام کو مزید بڑھاتے گئے۔ لبنان پہلے ہی معاشی بحران کا شکار تھا، شام خانہ جنگی سے نڈھال اور ایسے میں فضائی حملے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف تھے۔ یہ سب کچھ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ سعودی عرب اور یمن کے درمیان محاذ بھی پوری طرح خاموش نہ ہو سکا۔ اگرچہ بعض اوقات جنگ بندی کے اعلانات سامنے آئے لیکن عملی طور پر سرحدی علاقوں میں میزائل حملے، ڈرون کارروائیاں اور جوابی فضائی حملے جاری رہے۔
یمن سے داغے جانے والے میزائل اور ڈرون سعودی شہروں اور تیل تنصیبات کے لیے مستقل خطرہ بنے رہے جبکہ سعودی عرب کی جانب سے یمن کے اندر فضائی کارروائیاں اس جنگ کو مزید طول دیتی رہیں۔ یہ جنگ محض دو فریقوں کے درمیان عسکری تصادم نہیں رہی بلکہ ایک طویل تھکن زدہ تنازع بن چکی ہے۔لیکن جنگوں کی فہرست یہیں ختم نہیں ہوتی۔ 2025ء میں نئی جنگوں کے خدشات نے بھی سر اٹھایا۔ امریکہ اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی ایک ممکنہ جنگ کی صورت اختیار کر سکتی تھی۔ تیل، سیاست اور پابندیاں یہ سب عوامل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ امریکہ کی افغان صورتحال پر نظر ڈالیں تو وہاں جنگ اگرچہ ختم ہو چکی لیکن عدم استحکام باقی ہے۔ دہشت گردی، معاشی بدحالی اور انسانی بحران افغانستان کو اب بھی عالمی توجہ کا محتاج بنائے ہوئے تھے۔ایشیاء میں چین اور جاپان کے درمیان تنا بڑھتا گیا۔ بحیرہ جنوبی چین، تائیوان کا مسئلہ اور فوجی مشقیں اس بات کی علامت تھیں کہ بڑی طاقتیں اب صرف باتوں پر اکتفا نہیں کر رہیں۔ بحری بیڑے سمندروں میں، فضائی بیڑے آسمانوں میں اور میزائل زمین کے نیچے تیار کھڑے تھے۔ یہ سب کچھ ہمیں بتاتا ہے کہ دنیا ایک نئی سرد جنگ نہیں بلکہ شاید ایک نئی گرم جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔2025 ء کی جنگوں میں ایک اور اہم عنصر ٹیکنالوجی تھا۔ اب جنگیں صرف فوجی میدان میں نہیں لڑی جاتیں یہ سائبر اسپیس، سیٹلائٹس اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے بھی لڑی جا رہی ہیں۔ ڈرون حملے، سائبر حملے، فیک نیوز اور سوشل میڈیا بیانیے یہ سب جدید جنگ کے ہتھیار بن چکے ہیں۔ ایک ملک دوسرے ملک کے بجلی کے نظام کو مفلوج کر سکتا ہے، بینکنگ سسٹم کو ہلا سکتا ہے اور عوام کے ذہنوں میں خوف پیدا کر سکتا ہے بغیر ایک گولی چلائے۔سوال یہ ہے کہ آخر دنیا اس راستے پر کیوں چل رہی ہے؟ مسئلہ انسان کی نفسیات کا ہے۔ طاقت، خوف اور مفاد یہ تین عناصر مل کر جنگ کو جنم دیتے ہیں۔ جب طاقتور خود کو جواب دہ نہیں سمجھتا، خوف کو ہتھیار بناتا ہے اور مفاد کو اخلاقیات پر ترجیح دیتا ہے تو جنگ ناگزیر ہو جاتی ہے۔2025 ء ہمیں یہ سبق دے کر جا رہا ہے کہ اگر دنیا نے اجتماعی دانش، انصاف اور مکالمے کو ترجیح نہ دی تو آنے والے سال مزید خونریز ہو سکتے ہیں۔ جنگ کبھی مسئلے کا حل نہیں ہوتی یہ صرف مسائل کو نسل در نسل منتقل کرتی ہے۔ بچے یتیم ہوتے ہیں، معیشتیں تباہ ہوتی ہیں اور نفرتیں مضبوط ہو جاتی ہیں۔اگر یہی صورتحال برقرار رہی اگر طاقت کا غرور عقل پر غالب رہا اور اگر سفارت کاری کی زبان پر توپ و تفنگ کی آواز حاوی رہی تو بعید نہیں کہ آنے والا سال ایک نئی عالمی جنگ کی شکل اختیار کر لے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں بیک وقت سلگتے محاذ، بڑھتی ہوئی فوجی مشقیں، جدید ہتھیاروں کے انبار اور اعصابی جنگ کا ماحول اس بات کا اعلان کر رہا ہے کہ ہم ایک خطرناک موڑ پر کھڑے ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ عالمی جنگیں اچانک نہیں ہوتیں وہ برسوں کی ضد غلط فیصلوں اور مسلسل نظرانداز کیے گئے انتباہات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔