Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

ہیلمٹ اور سکھوں کی پگڑی

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قانون سازی اور انتظامی فیصلوں کا بنیادی مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور مساوی حقوق کی فراہمی ہونا چاہیے۔ حالیہ دنوں پنجاب حکومت کی جانب سے ایک ایسا اعلان سامنے آیا جس نے اسی اصولی توازن پر ایک سنجیدہ سوال کھڑا کر دیا ہے۔ اعلان کے مطابق سکھ موٹر سائیکل سوار اگر پگڑی میں ہوں تو انہیں ہیلمٹ پہننے سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا، جبکہ یہی رعایت دیگر شہریوں، بالخصوص علماء کرام کی پگڑی کے لئے نہیں دی گئی۔ اس فیصلے نے معاشرے میں ایک فکری اور اخلاقی بحث کو جنم دیا ہے جسے نظرانداز کرنا دانش مندی نہیں، اگر ہیلمٹ کا مقصد موٹر سائیکل سواروں کی جانوں کی حفاظت ہے، تو پھر وزیر اعلیٰ پنجاب کو سکھوں کی جانوں بالخصوص سروں کی حفاظت کی فکر کیوں نہیں ؟اور اگر ہیلمٹ کا مقصد کچھ اور ہے تو پھر اکثریتی مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کو ہیلمٹ نہ پہننے پر جرمانے کیوں،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں حکومتِ پنجاب نے اقلیتوں کے حقوق اور بین المذاہب ہم آہنگی کے نام پر جو اقدامات کئے ہیں۔ان میں کرسمس کی تقریبات میں شرکت، مسیحی برادری کے ساتھ یکجہتی، اقلیتی کارڈ کی تعداد میں اضافہ، اقلیتی قبرستانوں کے مسائل کے حل کے اعلانات اور اقلیتوں کے بجٹ میں نمایاں اضافہ یہ سب اقدامات بلاشبہ ایک مثبت پیغام دیتے ہیں کہ ریاست اپنے تمام شہریوں کو برابر سمجھتی ہے۔ خود وزیراعلیٰ کا یہ کہنا کہ کوئی اکثریت، کوئی اقلیت نہیں، ہم سب پاکستانی ہیں ایک خوش آئند سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔تاہم سوال یہ ہے کہ کیا عملی فیصلے بھی اسی مساوات کے عکاس ہیں؟
ہیلمٹ کے معاملے میں سکھ برادری کو مذہبی علامت کی بنیاد پر استثنیٰ دینا اور مسلمان علماء کی پگڑی کو اسی درجے پر نہ رکھنا کیا واقعی مساوی سلوک ہے؟ اگر پگڑی مذہبی شناخت اور عقیدت کی علامت ہے تو یہ بات صرف سکھوں تک محدود کیوں سمجھی گئی؟ برصغیر کی اسلامی روایت میں پگڑی صرف لباس نہیں بلکہ علم، وقار اور مذہبی تشخص کی علامت رہی ہے۔ علما ء کرام صدیوں سے دستار کو اپنی شناخت سمجھتے آئے ہیں۔ پھر ایک مذہبی علامت کو تحفظ اور دوسری کو نظرانداز کرنا کس اصول کے تحت درست قرار دیا جا سکتا ہے؟یہاں ایک اور بنیادی پہلو بھی قابل غور ہے: ہیلمٹ کا مقصد۔ ہیلمٹ کسی ثقافتی یا مذہبی علامت سے بڑھ کر انسانی جان کے تحفظ کا ذریعہ ہے۔ سائنسی اور طبی اعتبار سے یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ہیلمٹ سر کو شدید چوٹ سے بچاتا ہے، جبکہ پگڑی خواہ وہ کسی بھی مذہب کی ہواس درجے کا حفاظتی کردار ادا نہیں کر سکتی۔ اگر ریاست نے ہیلمٹ کو لازمی قرار دیا ہے تو اس کی بنیاد مذہب نہیں بلکہ انسانی جان کا تحفظ ہے۔ ایسے میں مذہبی استثنیٰ دینا خود اس قانون کے بنیادی مقصد کو کمزور کرتا ہے۔یہ بات درست ہے کہ اقلیتوں کو ان کے مذہبی اور شہری حقوق دینا اکثریتی معاشرے کی اخلاقی اور آئینی ذمہ داری ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح ؒنے بھی یہی اصول دیا تھا کہ ریاست شہریوں کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر امتیاز نہیں کرے گی۔ اسی سوچ کو محمد نواز شریف نے بھی اپنی سیاست اور بیانات میں دہرایا اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے بارہا اپنے والد کی اسی تربیت کا حوالہ دیا ہے۔ لیکن اقلیتوں کے حقوق کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں اکثریت پر فوقیت دی جائے یا قانون میں دوہرے معیار قائم کئے جائیں۔بین المذاہب ہم آہنگی کا تقاضا یہ ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہو، اور اگر کسی مذہبی بنیاد پر رعایت دی جا رہی ہے تو وہ رعایت اصولی، جامع اور سب کے لئے قابلِ فہم ہونی چاہیے۔ اگر سکھ برادری کو پگڑی کی وجہ سے استثنی دیا جا سکتا ہے تو پھر یا تو یہی رعایت تمام مذہبی پگڑی پہننے والوں کو دی جائے، یا پھر ریاست واضح طور پر یہ کہے کہ انسانی جان کے تحفظ کے معاملے میں کوئی استثنیٰ ممکن نہیں۔ درمیانی راستہ، جو امتیاز کا تاثر دے، سماجی ہم آہنگی کے بجائے بے چینی کو جنم دیتا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے خود کہا کہ اقلیت دوست پنجاب صرف ان کا نہیں بلکہ ہر پاکستانی کا خواب ہونا چاہیے اور یہ ذمہ داری اکثریت پر زیادہ عائد ہوتی ہے۔ اسی منطق کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ بھی کہا جانا چاہیے کہ اکثریت کے مذہبی تشخص کا احترام بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ علماء کرام کو یہ کہنا کہ وہ پگڑی اتار کر ہیلمٹ پہنیں، جبکہ دوسرے مذہب کے ماننے والوں کو پگڑی میں استثنیٰ دیا جائے، ایک حساس طبقے میں احساسِ محرومی پیدا کر سکتا ہے۔پاکستان جیسے کثیرالمذاہب معاشرے میں توازن ہی اصل دانش مندی ہے۔ اقلیتوں کے لئے کرسمس کی تقریبات میں شرکت، چرچ میں خدمات، سفارت کاروں کی موجودگی اور بین الاقوامی سطح پر مثبت تاثریہ سب اپنی جگہ اہم ہیں۔ مگر داخلی طور پر قانون کی مساوات اور انصاف اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ اگر ہم واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سب پاکستانی ہیں، تو پھر سڑک پر چلتے ہوئے ہماری جان کی قیمت بھی ایک جیسی ہونی چاہیے، چاہے سر پر پگڑی ہو یا ہیلمٹ،اس معاملے پر جذبات کے بجائے اصول کی بنیاد پر غور کرنے کی ضرورت ہے، یا تو ہیلمٹ قانون میں مذہبی استثنیٰ ختم کر کے سب کے لیے یکساں نفاذ کیا جائے، یا پھر تمام مذاہب کی پگڑی کو ایک ہی معیار پر پرکھا جائے۔
اقلیتوں کو حقوق دینا ریاست کی طاقت ہے، مگر ان حقوق کی آڑ میں ’’امتیاز‘‘پیدا کرنا ریاست کی کمزوری بن جاتا ہے، ایک مضبوط، روادار اور منصفانہ پنجاب وہی ہو سکتا ہے جہاں قانون، تحفظ اور احترام تینوں سب شہریوں کے لئے برابر ہوں۔

یہ بھی پڑھیں