Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

کلیجوں کو چیرتا غم!پیر مختار الدین شاہ نور اللہ مرقدہ

آٹھ دسمبر کی شام ان کے خلیفہ مجاز مولانا مفتی مجیب الرحمن کی ہمراہی میں مرکز ایمان وتقویٰ فیڈرل بی ایریا کراچی میں ان سے ملاقات ہوئی تو ایسے محسوس ہوا کہ جیسے محبتوں اور شفقتوں کی آبشار رواں دواں ہو،ان کی خوبصورت مسکراہٹ ، مصافحہ کے دوران ہاتھوں کو دبانا انکے جہادی بانکپن کو ظاہر کر رہا تھا،وہ ایمان و تقوی تصوف وجہاد کا مضبوط اور حسین امتزاج تھے،ان کی زیارت اور ملاقات کی خوشبو میری زندگی بھر کا سرمایہ ہے،اللہ جی!حضرت اقدس پیر مختار الدین شاہ کی اگلی منزلیں آسان فرما دیجئے ،انہیں اعلیٰ علین میں جگہ عطا فرما دیجئے آمین ثم امین ، 29 دسمبر کی دوپہر ان کی وفات کی خبر ایسی تھی جس نے سنتے ہی دل کو مضمحل اور آنکھوں کو نم کر دیا۔ زبان پر بے اختیار یہ کلمات جاری ہو گئے، اِنا للہ واِنا اِلیہِ راجِعون۔
حضرت پیر مختیار الدین شاہ ؒ کی وفات محض ایک فرد کا انتقال نہیں، بلکہ علم و عمل، اخلاص اور روحانیت کے ایک درخشاں باب کا اختتام ہے۔ یہ سانحہ صرف ان کے متعلقین یا مریدین کے لیے ہی نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ، خصوصاً اہلِ علم و اہلِ دل کے لئے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔حضرت اقدس پیر و مرشد حفظہ اللہ نے لاکھوں دلوں کی ترجمانی کرتے ہوئے بجا طور پر لکھا کہ ’’امت کے خیر خواہ، اللہ والے اور اولیائے کرام ایک ایک کر کے ہم سے رخصت ہو رہے ہیں۔ واقعی، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ دنیا آہستہ آہستہ ان نفوسِ قدسیہ سے خالی ہوتی جا رہی ہے جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آتا تھا، جن کی گفتگو دلوں کو زندہ کر دیتی تھی اور جن کی موجودگی ایمان کو تازگی بخشتی تھی۔پیر مختیار الدین شاہ بھی انہی ہستیوں میں سے تھے، جن کا اٹھ جانا دلوں کو چیر دینے والا غم بن گیا ہے۔وہ ان اللہ والوں میں سے تھے جو محض وعظ نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے عمل سے دین کی تصویر بن جاتے تھے۔ ان کا علم محض کتابوں تک محدود نہ تھا بلکہ کردار میں ڈھلا ہوا تھا۔ وہ ان علماء میں شمار ہوتے تھے جن کی بدولت دینی علوم کو وقار اور آبرو نصیب ہوتی ہے۔ ان کی زندگی اس بات کا عملی ثبوت تھی کہ علم اگر اخلاص کے ساتھ عمل میں ڈھل جائے تو وہ صرف فرد نہیں بلکہ معاشرہ سنوار دیتا ہے۔زمان طالب علمی میں ان کا تعارف جس پہلو سے ہوا، وہ بھی غیر معمولی تھا۔ یہ جان کر دل خوشی سے بھر گیا تھا کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ جیسے نازک اور عظیم فریضے پر بھی بیعت لیتے ہیں۔ اس سے ان کی فکر کی وسعت، دین کے ہر شعبے سے ان کی وابستگی اور امت کے لیے ان کے درد کا اندازہ ہوتا ہے۔ بعد ازاں کراچی میں زیارت کا موقع ملا تو یہ حقیقت اور بھی واضح ہو گئی کہ وہ ہجوم سے الگ رہ کر خاموشی سے کام کرنے والے انسان تھے۔ اس وقت ان کی توجہ زیادہ تر تصنیف و تالیف پر مرکوز تھی، اور اللہ کے فضل سے انہوں نے نہایت جاندار، شاندار اور وقت کی ضرورت کے مطابق کتابیں تحریر کیں۔یہی وہ خاموش محنت تھی جس نے رفتہ رفتہ انہیں عوام و خواص دونوں میں مقبول بنا دیا۔ لوگ خود ان کی طرف کھنچتے چلے آئے۔ بڑے بڑے اہلِ علم نے ان سے تعلق جوڑا، اور ان کی خانقاہ محض ایک جگہ نہیں بلکہ قلوب کی آبادی کا مرکز بن گئی۔ ’’کربوغہ شریف‘‘کی خانقاہ دلوں کو آباد کرتے کرتے خود بھی آباد ہو گئی، اور یہ سب کچھ کسی ظاہری تشہیر یا دنیاوی تدبیر کے بغیر ہوا، یہ اس اخلاص کا ثمر تھا جو ان کی زندگی کا جوہر تھا۔کامیاب زندگی بظاہر جتنی پرکشش نظر آتی ہے، درحقیقت اتنی ہی کٹھن ہوتی ہے۔ آزمائش، مجاہدہ، درد، مسلسل مشغولیت اور فکری بوجھ اس کے لازمی اجزا ہوتے ہیں، ویسے بھی یہ دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے، اور جو لوگ دین کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں ان کی آزمائشیں اور بھی بڑھ جاتی ہیں، پیر مختیار الدین شاہ اس راہ میں نہ تھکن کو خاطر میں لائیے ، نہ مشکلات سے گھبرائے، انہوں نے دین اور امت کے لیے بے لوث محنت کی اور اپنے عمل کو خالصتا اللہ تعالی کے لیے رکھا۔ان کی سب سے نمایاں خوبی یہی تھی کہ انہوں نے دنیوی اغراض کو دینی امور کے قریب بھی نہ پھٹکنے دیا، نہ شہرت کی خواہش، نہ مال و منصب کی طلب۔ اگر شہرت ملی بھی تو وہ خود چل کر ان کے دروازے تک آئی، انہوں نے کبھی اس کے پیچھے دوڑ نہیں لگائی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کی جدائی کا غم اتنا شدید ہے۔ دلوں اور کلیجوں کو چیر دینے والا یہ درد دراصل اس خلوص کے بچھڑنے کا درد ہے جو اب نایاب ہوتا جا رہا ہے۔
عجب قیامت کا حادثہ ہے کہ اشک ہے آستیں نہیں ہے
زمین کی رونق چلی گئی ہے، افق پہ مہرِ مبیں نہیں
واقعی، ان کے جانے سے زمین کی ایک رونق کم ہو گئی ہے۔ وہ ہستی جس کی موجودگی دلوں کے لئے باعثِ اطمینان تھی، آج ہمارے درمیان نہیں رہی۔ ان کی جدائی سے تڑپنے والے کون لوگ ہیں؟ شائد ہر وہ شخص جو دین، علم اور اخلاص سے محبت رکھتا ہے، اس غم میں برابر کا شریک ہے۔
تری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے
مگر تری مرگِ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے
یہ ناگہانی جدائی ابھی تک دل ماننے کو تیار نہیں۔ مگر یہ اللہ کا فیصلہ ہے، اور اسی پر ایمان ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ پیر مختیار الدین شاہ کو اپنی بے پایاں مغفرت، محبت اور اکرام کا اعلی مقام عطا فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ اللہ تعالی ان کے اہلِ خانہ، متعلقین اور تمام اہلِ صدمہ کو صبرِ جمیل اور اجر عظیم عطا فرمائے۔ایسے لوگ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں مگر اپنے پیچھے روشن نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ حضرت پیر مختیار الدین شاہ بھی انہی خوش نصیب ہستیوں میں سے تھے، ان کی یاد، ان کی تعلیمات اور ان کا اخلاص ہمیشہ زندہ رہے گا، اور اہلِ دل کے لیے مشعلِ راہ بنتا رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں