انصاف کسی بھی معاشرے میں توازن، مساوات، اخلاقیات اور عدل کا بنیادی تصور ہے۔ جس کا مطلب ہر ایک کو اس کا حق دینا،ظلم سے پرہیز اور عدل قائم کرنا ہے۔یہ صرف عدالت یا عدالتی فیصلوں تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے تمام شعبوں میں اس کا اطلاق ضروری ہے۔ انصاف کا سب سے احسن عمل ہے جبکہ ظلم کی ضد ناانصافی ہے اسے زندگی کے ہر شعبے میں ناپسندیدہ سمجھا گیا ہے اور اسلام اس سے منع کرتا ہے۔اسلام کا حکم ہے جو اپنے لئے پسند ہے،وہ دوسروں کے لیے بھی پسند کرو‘ ہر معاشرے میں ہر فرد کے لیے انصاف کی بڑی اہمیت ہے۔یہ تب ہی ممکن ہے جب معاشرے میں امن اور توازن قائم رکھا جائے۔اسلام سمیت دیگر مذاہب میں بھی انصاف اور انصاف کے عمل کو انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے۔جبکہ ہمارے دین میں اس کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔انصاف کسی ایک گروہ کی نہیں بلکہ انسانیت کی فطری اور تاریخی ضرورت ہے۔افعال،اقوال،اقتصادی اور خاندانی امور میں بھی عدل و انصاف کی بڑی اہمیت ہے۔لازم ہے کہ عدل کے وقت کسی کمی یا زیادتی سے بچتے ہوئے اعتدال کا درمیانی راستہ اختیار کیا جائے۔انصاف نہیں ہو گا تو اس کا متبادل ظلم ہے جبکہ دین اسلام سمیت کوئی بھی معاشرہ اس کی اجازت نہیں دیتا۔ انصاف دنیا کے تمام معاشروں کا ہمہ جہت اصول ہے۔جو اخلاق،فلسفیانہ بحثوں، قانون، دین، سیاست اور روز مرہ کے سماجی تعلقات میں کارفرما ہے۔ انصاف کو عدل کا مترادف سمجھا جاتا ہے اور انسانی تہذیب و تمدن میں اس کی ضرورت ہمیشہ سے تسلیم شدہ رہی ہے۔افلاطون نے اپنی کتاب جمہوریہ میں انصاف کو ہر فرد کے لئے اپنے منصب اور فطری صلاحیت کے مطابق کردار ادا کرنے کا نام دیا- ارسطو نے انصاف کو برابری اور تناسب پر مبنی رویہ قرار دیا جبکہ جدید دور میں جان روالز نے اپنی مشہور تصنیف انصاف کا ایک نظریہ میں انصاف کو رواداری یعنی منصفانہ طرز عمل کے اصولوں پر استوار کرنے کا کہا۔ اس کے برعکس فریڈرک جیسے مفکرین نے انصاف کو طاقت اور قوت کے اصولوں کو جوڑ کر دیکھا،جبکہ دنیا کے بڑے مذاہب میں انصاف کو الٰہی حکم قرار دیا گیا ہے۔عیسائیت میں بھی انصاف خدا کی صفت اور انسانی ذمہ داری ہے۔جس کے ذریعے معاشرتی محبت اور خدمت کو بڑھایا جاتا ہے۔قانونی اعتبار سے انصاف کا مقصد یہ ہے کہ ہر فرد کو اس کے حقوق ملیں اور ہر جرم کی مناسب سزا دی جائے۔ عدالتیں انصاف کا ادارہ جاتی اظہار ہیں جو جائیداد کی تقسیم،خاندانی تنازعات،تجارتی معاملات سے متعلق جھگڑوں اور فوجداری مقدمات میں فیصلہ کرتی ہیں۔انصاف کے اس پہلو میں غیر جانبداری اور ثبوت پر مبنی فیصلے کی سب سے زیادہ اہمیت ہے۔جب معاشرے میں انصاف قائم نہ ہو۔تو ظلم، ناانصافی،تعصب اور استحصال فروغ پاتے ہیں۔ خاندانوں،اداروں اور ریاستوں میں انصاف کی کمی سے اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔بدعنوانی،بے امنی اور خانہ جنگی جنم لیتی ہے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق عدل سے ہی زمین و آسمان قائم ہیں۔سماجی انصاف ایک ایسا تصور ہے جو معاشرے کے بے حد کمزور،پسماندہ طبقات کو مساوی مواقع فراہم کرنے سے متعلق ہے۔اس میں تعلیم، صحت، روزگار اور وسائل کی منصفانہ تقسیم شامل ہے۔ جدید ریاستوں اور اداروں میں سماجی انصاف کو پالیسی سازی اور فلاحی اقدامات کے ذریعے یقینی بنایا جاتا ہے۔عالمی سطح پر اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے انصاف کو پائیدار امن،انسانی حقوق اور دنیا کی ترقی سے جوڑتے ہیں۔عدالت انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت جیسے ادارے بین الاقوامی تنازعات کو انصاف کے اصولوں پر حل کرنے کے لیئے قائم کئے گئے ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انصاف کی ضرورت دنیا بھر میں ہے۔مفتیان کا کہنا ہے کسی بھی سلطنت اور کسی بھی حکمران کی بقا کے لئے جو چیز سب سے ضروری ہے۔وہ عدل و انصاف ہے۔کسی مملکت یا ریاست سے یہ اٹھ جائے تو نہ حکمرانی رہتی ہے،نہ معاشرہ ہی باقی بچتا ہے۔لازم ہے حاکم اپنی رعایا کے ساتھ انصاف کرے جبکہ رعایا کے لئے بھی ضروری ہے کہ آپس میں عدل و انصاف قائم رکھے۔گویا انفرادی سطح پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی۔خود نبی کریم ﷺبھی تمام عمر عدل و انصاف کی بالادستی کے لیئے کوشاں رہے۔عرب میں معمولی معمولی باتوں پر سالہا سال جھگڑے ہوتے اور قبیلوں میں جنگیں رہتی تھیں۔لوٹ مار عام تھی۔سیرت کی کتابوں میں لکھا ہے بعثت نبوی سے قبل اہل مکہ نے باہمی طور پر معاہدہ کیا کہ عدل و انصاف کے قیام کی کوشش کریں گے تاکہ ظلم نہ ہو۔نبی کریمﷺ جب اس معاہدے کا حصہ بنے اس وقت ان کی عمر مبارک پندرہ برس تھی۔قرآن کریم کی تعلیم ہے کسی قوم سے دشمنی بھی ہو تو اس حال میں بھی عدل و انصاف سے کام لیا جانا چاہئے اور دشمنی میں بھی تمہارے قدم نہیں ڈگمگانے چاہئیں۔اندازہ لگائیے اسلام کی کیسی تعلیمات ہیں،بہت ہی برا دشمن بھی آپ کے سامنے موجود ہو لیکن اسلام کہتا ہے اس موقع پر بھی عدل کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھو۔دشمنی کے باعث انصاف کو ہرگز نہ چھوڑو۔عدل و انصاف پر بہت سی احادیث موجود ہیں۔جن میں سے چند یہ ہیں کہ انصاف کرنے والے قیامت کے دن نور کے منبروں پر ہوں گے اور یہ کہ حکمرانوں کو عوام کے ساتھ اور عام لوگوں کو اپنے اہل خانہ اور ماتحتوں کے ساتھ عدل کرنا چاہیئے۔ظلم کرنے سے بچنا اور ہر معاملے میں برابر کا سلوک کرنالازم اور بے حد ضروری ہے۔جیسا کہ بخاری اور مسلم میں درج ہے کہ انصاف کرنے والے اللہ کے ہاں رحمان کے دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے۔بے شک عدل و انصاف کی بڑی فضیلت ہے۔ہمیں ناانصافی اور ظلم سے بچنا چاہیے۔کیونکہ ظلم اور ناانصافی محشر کے روز ہمارے لیے تکلیف،اذیت اور مصیبت کا سامان ہوں گے۔بلا شبہ ناانصافی اور ظلم کرنے والے دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔لہٰذا چاہئے کہ معاشرے میں ہر سطح پر عدل و انصاف قائم کریں۔سب سے بھاری ذمہ داری حکمران اشرافیہ اور ججوں پر عائد ہوتی ہے کہ عدل و انصاف کے لیئے قرآن میں دیئے گئے احکامات کی پابندی کریں۔