Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

پاکستان کے پانچ بڑے

نئے سال کے آغاز پر جب پوری قوم امیدوں اور عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کی آرزو کرتی ہے تو پاکستانی سیاست میں بھی ایک اہم تبدیلی کی جھلک نظر آ رہی ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے حال ہی میں ایک بیان دیتے ہوئے ملک کی سیاسی صورتحال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے پانچ بڑے لیڈروں کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات اور رابطوں کے بغیر کوئی بریک تھرو ممکن نہیں۔ یہ بیان اس لیے اہم ہے کہ اس میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو بھی ملک کی بڑی سیاسی شخصیات میں شامل کیا گیا ہے۔ رانا ثنا اللہ نے واضح طور پر نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور عمران خان کا نام لیا جبکہ پانچویں شخصیت کا نام کھل کر نہیں بتایا لیکن سیاسی حلقوں میں یہ بات واضح ہے کہ اس سے مراد فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر ہیں۔اور اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو ان پانچ بڑوں میں سے پہلے با اثر ترین بڑے تو جنرل عاصم منیر ہی ہیں کیونکہ اب تک وہ ہی ملکی معیشت کی بحالی کے لئے کوشاں رہے ہیں اور موجودہ حکومت تو ڈیڑھ سال میں کوئی خاطر خواہ سرمایہ کاری ملک میں نہیں لا سکی۔
رانا صاحب کا بیان محض ایک اتفاقی گفتگو نہیں بلکہ موجودہ حکومت کی طرف سے ایک اہم پالیسی شفٹ کی عکاسی کرتا ہے۔ ماضی میں مسلم لیگ(ن) اور خاص طور پر رانا ثنا اللہ عمران خان کے خلاف سخت بیانات دیتے رہے ہیں۔ کبھی انہیں سیاسی میدان سے ختم کرنے کی باتیں ہوتی تھیں کبھی ان کی جماعت کو اداروں کے خلاف مہم چلانے کا الزام لگایا جاتا تھا۔ لیکن اب یہ تسلیم کر لیا گیا کہ عمران خان کی عوامی مقبولیت اور پی ٹی آئی کی سیاسی طاقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ رانا ثنا اللہ کے الفاظ میں کہ اگر ان پانچ بڑوں کے درمیان اعتماد سازی نہیں ہوگی تو صورتحال بہتر نہیں ہو سکتی۔ یہ بات اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حکومت کو اب یہ احساس ہو گیا ہے کہ زبردستی اور جبر کے سہارے سیاست نہیں چل سکتی۔ عوام کے دلوں میں عمران خان کی جگہ کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستانی سیاست کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ملک بحرانوں سے گزرا ہے تو بات چیت اور مکالمے نے ہی راستہ نکالا ہے۔ 2006 میں چارٹر آف ڈیموکریسی پر نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے دستخط ایک مثال ہیں کہ کس طرح بد ترین مخالف جماعتیں مل بیٹھ کر جمہوریت کو مضبوط کر سکتی ہیں۔ آج بھی ملک معاشی چیلنجز، سیاسی عدم استحکام اور اداروں کے درمیان تنا کا شکار ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور بیرونی قرضوں کا بوجھ عوام پر بھاری پڑ رہا ہے۔ ایسے میں اگر ملک کے بڑے لیڈر مل بیٹھ کر اعتماد بحال کریں تو نہ صرف سیاسی ماحول بہتر ہو گا بلکہ معاشی استحکام بھی ممکن ہو سکے گا۔ رانا ثنا اللہ نے درست کہا کہ نچلی سطح پر رابطے یا غیر رسمی ملاقاتیں بریک تھرو نہیں لا سکتیں۔ اصل تبدیلی تب آئے گی جب اعلی قیادت براہ راست بات کرے گی۔
یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ پانچویں شخصیت کا ذکر کیوں چھپایا گیا؟ پاکستانی سیاست میں اداروں کا کردار ہمیشہ سے حساس رہا ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو اس فہرست میں شامل کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت سمجھتی ہے کہ سیاسی استحکام کے لیے فوجی قیادت کا اعتماد بھی ضروری ہے۔ ماضی میں پی ٹی آئی اور اداروں کے درمیان تنا ئونے ملک کو کئی بحرانوں میں دھکیلا۔ اب اگر یہ رابطے ہوں تو شاید وہ تلخیاں ختم ہو سکتی ہیں۔ رانا ثنا اللہ نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف مہمات بند ہونی چاہئیں، جو ایک طرف سے پی ٹی آئی کی طرف اشارہ ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کے رہنما عامر ڈوگر نے کہا کہ عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت دی جائیں تو بات آگے بڑھ سکتی ہے۔ یہ دونوں باتیں اعتماد سازی کی طرف پہلا قدم ہو سکتی ہیں۔
عمران خان کی شخصیت اور ان کی جماعت کی طاقت کو تسلیم کرنا مسلم لیگ(ن) کے لیے آسان نہیں رہا ہو گا۔ ماضی میں شہباز شریف سمیت کئی لیڈروں نے پی ٹی آئی کو اداروں کے خلاف استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔ 2024 اور 2025 میں پی ٹی آئی نے کئی احتجاج کیے لیکن حکومت مستحکم رہی۔ اب 2026 کے آغاز پر یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حکومت مذاکرات کی طرف گامزن ہے۔ اگر یہ رابطے ہوئے تو عمران خان کی رہائی کا راستہ بھی نکل سکتا ہے کیونکہ اعتماد سازی سے صورتحال بہتر سمت میں جا سکتی ہے۔ یہ محض قیاس آرائیاں نہیں بلکہ سیاسی حقیقت ہے کہ جیل میں بند لیڈر کے بغیر ان کی جماعت مکمل طور پر مذاکرات نہیں کر سکتی۔
پاکستان کی سیاست میں مکالمہ ہمیشہ سے ضروری رہا ہے۔ عمران خان نے بھی کئی مواقع پر کہا کہ وہ ملک کے لیے مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن ذاتی مفادات کے لیے نہیں۔ اب اگر نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری، عمران خان اور آرمی چیف کے درمیان کوئی پلیٹ فارم بنے تو ملک کو کئی مسائل سے نجات مل سکتی ہے۔ معیشت کی بحالی، دہشت گردی کا خاتمہ، صوبوں کے حقوق اور جمہوری اداروں کی مضبوطی جیسے ایشوز پر اتفاق رائے ممکن ہے۔ رانا ثنا اللہ کا بیان ایک مثبت اشارہ ہے کہ حکومت اب ون مین شو نہیں چلانا چاہتی۔ پی ٹی آئی کو بھی چاہیے کہ وہ سخت گیر موقف چھوڑ کر بات چیت کی میز پر آئے۔
رانا ثنا اللہ نے یہ بھی واضح کیا کہ جب تک سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف نفرت انگیز مہمات بند نہیں ہوتیں، اعتماد سازی ممکن نہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے مطالبہ کیا کہ وہ ان اکانٹس سے خود کو علیحدہ کرے۔ دوسری جانبپی ٹی آئی کے عامر ڈوگر نے امید ظاہر کی کہ 2026 میں سیاسی انتقام کا سلسلہ ختم ہو گا اور عمران خان سے ملاقاتیں ممکن بنائی جائیں گی۔ یہ بات چیت کا آغاز ہے لیکن اسے کامیاب بنانے کے لیے دونوں طرف سے لچک ضروری ہے۔ اگر پی ٹی آئی احتجاجی سیاست سے ہٹ کر مکالمے کی طرف آئے اور حکومت جیل ملاقاتوں کی پابندیاں نرم کرے تو سیاسی ماحول میں بہتری آ سکتی ہے۔
اس بیان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اب پی ٹی آئی کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے کی پالیسی ترک کر رہی ہے۔ سال 2026 پاکستان کے لیے نئی امیدوں کا سال ہو سکتا ہے۔ اگر یہ پانچ بڑی شخصیات مل بیٹھیں تو نہ صرف سیاسی ڈیڈ لاک ختم ہو گا بلکہ عوام کو بھی ریلیف ملے گا۔ رانا ثنا اللہ کے بیان نے دروازہ کھول دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا مخالف دھڑے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا پھر ماضی کی تلخیاں ایک بار پھر حائل ہو جاتی ہیں۔ قوم کی نظریں اسی طرف لگی ہیں کہ کیا یہ اعتماد سازی کا عمل آگے بڑھے گا یا پھر سیاست ایک بار پھر تنا کی لپیٹ میں آ جائے گی۔ امید ہے کہ لیڈر ملک اور قوم کے مفاد کو ترجیح دیں گے۔ کیونکہ پاکستان کی تقدیر اب مکالمے اور اتفاق سے جڑی ہوئی ہے۔بہت ہو گیا انتقام، اب ملکی تعمیرو ترقی اور عوامی فلاح و بہبود پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں