Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

خود سے ملاقات کا سال

زندگی، وقت، فرض، غفلت اور انجام سب ایک ہی لڑی میں پرو دیے گئے ہیں۔ وقت کی رفتار تیز تر ہوتی جا رہی ہے۔ دن مہینے اور سال یوں ہاتھ سے پھسلتے ہیں جیسے ریت۔ ہم سمجھتے ہیں ابھی بہت وقت ہے مگر اصل سچ یہ ہے کہ وقت ہمیں مہلت نہیں دیتا وہ صرف گواہی دیتا ہے۔وقت کی اس بے رحم دوڑ میں ہم نے صرف کیلنڈر کے اوراق ہی پلٹے ہیں یا اپنی ذات کے صفحے بھی بدلے ہیں؟ ہم نے دن گنے ہیں یا دنوں نے ہمیں گنا ہے؟
کیا کچھ کھویا، کیا کچھ پایا
عمر کی پونجی کہاں گنوائی
جو کچھ سیکھا ان سالوں میں
علم، عمل میں کتنا آیا
نیا سال آتے ہی ہم مبارک بادوں، خواہشوں اور قراردادوں کا انبار لگا دیتے ہیں۔ مگر کم ہی لوگ ہیں جو خود سے یہ سوال کرنے کی جرات کرتے ہیں کہ پچھلے سال میں ہم نے اپنی سوچ میں کیا بدلا؟ اپنے رویوں میں کیا سدھار لائے؟ یا ہم بھی وقت کے ساتھ صرف عمر میں بڑے ہوتے گئے کردار میں نہیں؟دھن دولت کو کہاں لٹایا:
کتنے احکامات کو سن کر
سر کو اپنے نہیں جھکایا
یہ سطور ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہم نے زندگی کے اصل مقاصد کو کہاں پس پشت ڈالا۔ ہم نے رزق تو کمایا مگر شکر کہاں کیا؟ ہم نے اختیار تو پایا مگر انکساری کہاں گئی؟ ہم نے دعوے بہت کییمگر سجدے کم ہو گئے۔یہ سوال صرف مذہبی نہیں اخلاقی بھی ہے۔ کیا ہم نے اپنے رویوں سے کسی کا بوجھ ہلکا کیا؟ کسی کے دکھ میں شریک ہوئے؟ یا ہم نے ہر چیز کو صرف اپنے فائدے کی عینک سے دیکھا؟نیا سال ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی محض کامیابیوں کی فہرست نہیں بلکہ رشتوں کی امانت بھی ہے۔
بچے رخصت کر کے گھر سے
بڑے یہ سمجھے ہم نے فرض نبھایا
مگر کیا واقعی فرض صرف روٹی کپڑا اور تعلیم تک محدود تھا؟ یا کردار، سچائی، برداشت اور محبت بھی ہماری ذمہ داری تھی؟ ہم نے نئی نسل کو کیا دیا؟ دلیل یا نفرت؟ شعور یا تعصب؟ سوال کرنے کا حوصلہ یا اندھی تقلید؟ یہی تو اصل جوڑ توڑ ہے۔ دنیا اور آخرت کے درمیان توازن۔ ہم یا تو دنیا میں اس قدر الجھ گئے کہ آخرت بھول گئے یا نعرے اتنے لگا دیے کہ عمل کہیں کھو گیا۔ماں کی خدمت فرض تھی جن پر:
انہوں نے کتنا اجر کمایا؟
والد سے کیا دعا کو پایا
نہ کہ ان کا دل دکھایا
یہ سوالات کسی اور کے لیے نہیں ہمارے اپنے لیے ہیں۔ ہر نیا سال ہمیں یہ یاد دلانے آتا ہے کہ جنت کے راستے ہمارے ہی گھر سے ہو کر گزرتے ہیں مگر ہم اکثر باہر دروازے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔آج کا پاکستان نفرت، تقسیم اور شخصیت پرستی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ہم سچ کو نہیں اپنے پسندیدہ چہروں کو مانتے ہیں۔ دلیل نہیں نعرہ سنتے ہیں۔ اختلاف کو دشمنی سمجھتے ہیں اور سوال کرنے والے کو غدار۔ یہ رویے ہمیں کہاں لے جا رہے ہیں؟نیا سال ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم نفرت کے اس دائرے کو توڑیں۔ شخصیتوں سے اوپر اصول رکھیں۔ اختلاف کو برداشت کرنا سیکھیں۔ کیونکہ قومیں نعروں سے نہیں کردار سے بنتی ہیں۔
اب جو عمر ہے باقی یارب
اس میں اتنی رضا و قربت
اس عاصی کے نام یوں لکھ دے
علم، عمل میں ڈھلتا جائے
یہ دعا نئے سال کی سب سے خوبصورت قرارداد ہے۔ اگر ہمارے علم میں عمل شامل ہو جائے، ہمارے عمل میں اخلاص آ جائے اور ہمارے دل میں نرمی اتر آئے تو شاید یہی سال ہماری زندگی کا سب سے بامعنی سال بن جائے۔
سچا ہو کردار ہمارا
ماہ و سال کا تانا بانا
سانسوں کا ہے آنا جانا
نیا سال کسی دستک کی طرح نہیں آتا یہ تو وقت کی دبیز چادر میں لپٹا ہوا آہستہ سے ہماری زندگی میں سرک آتا ہے۔ نہ اس کے قدموں کی آواز سنائی دیتی ہے نہ اس کی آمد پر کوئی چراغ خود بخود جلتا ہے۔ چراغ ہمیں خود جلانے پڑتے ہیں۔ روشنی ہمیں خود پیدا کرنی ہوتی ہے۔ماہ و سال دراصل دریا کی طرح بہتے ہیں۔ کچھ لمحے کناروں سے ٹکرا کر شور پیدا کرتے ہیں کچھ گہرائی میں خاموشی سے گزر جاتے ہیں۔ عقل مند وہی ہے جو شور کے فریب میں نہ آئے اور گہرائی کو پہچان لے۔ زندگی کی اصل کہانی انہی لمحوں میں لکھی جاتی ہے جو دکھائی نہیں دیتے مگر انسان کو بدل دیتے ہیں۔ہر سال اپنے ساتھ کچھ یادیں چھوڑ جاتا ہے، کچھ زخم، کچھ مسکراہٹیں، کچھ ادھورے خواب۔ یہ سب وقت کے کاغذ پر ثبت ہو جاتے ہیں۔ مگر اصل سوال نہیں، اصل حقیقت یہ ہے کہ ان یادوں نے ہمیں نرم کیا یا سخت، جھکایا یا اکڑا دیا۔سانسوں کا آنا جانا ہمیں مسلسل یہ بتاتا رہتا ہے کہ مہلت محدود ہے۔ جو لمحہ ہاتھ سے نکل گیا وہ لوٹ کر نہیں آتا۔ اس لیے لفظ ناپ تول کر بولنے چاہئیں، فیصلے ذمہ داری سے کرنے چاہئیں اور رشتے سنبھال کر رکھنے چاہئیں۔اگر سال بدلنے کے ساتھ ساتھ دل کا موسم بھی بدل جائے، اگر لہجے میں تلخی کے بجائے ٹھہرا آ جائے، اگر اختلاف کے باوجود احترام باقی رہے تو یہی نئے سال کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہی وہ خاموش فتح ہے جو کسی سرخی میں نہیں آتی مگر انسان کو اندر سے آباد کر دیتی ہے۔آخرکار ماہ و سال کا تانا بانا ہمیں کسی انجام کی طرف نہیں کسی شعور کی طرف لے جاتا ہے۔ جہاں انسان خود کو بھی پڑھتا ہے دوسروں کو بھی سمجھتا ہے اور وقت کے ساتھ لڑنے کے بجائے اس کے ساتھ چلنا سیکھ لیتا ہے۔اور یوں نیا سال کسی اعلان کے بغیر، کسی شور کے بغیر دل کے دریچوں میں اتر جاتا ہے ۔
ایک خاموش دعا کی طرح
ایک نرم روشنی کی طرح
اور ایک ایسی امید کی طرح
جو لفظوں سے نہیں، عمل سے زندہ رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں