جنوبی ایشیا ء کی سیاست میں الفاظ محض جملے نہیں ہوتے، یہ اکثر بارود بن جاتے ہیں۔ خاص طور پر جب بات ایٹمی صلاحیت رکھنے والے دو ہمسایہ ممالک کی ہو تو ہر بیان، ہر اشارہ اور ہر طنز غیر معمولی وزن رکھتا ہے۔ ایسے میں انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جس انداز میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو پاکستان سے مولانا محمد مسعود ازہر کو اٹھا کر انڈیا لانے کا طنزیہ مشورہ دیا، اس نے نہ صرف پاکستان بلکہ خود بھارت میں بھی شدید ردعمل کو جنم دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ وینزویلا کے صدر کو گرفتار کر کے لے جا سکتا ہے تو بھارت کیوں نہیں پاکستان میں جا کر مولانا مسعود ازہر اور لشکر طیبہ والے کو اٹھا کر لا سکتا۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے اویسی کے اندر نریندر مودی کی بدروح داخل ہو چکی ہو،اسد الدین اویسی نے غالباً اس مولانا محمد مسعود ازہر کو اٹھا لانے کی بات کی جس مولانا مسعود ازہر کو دسمبر 1999ء میں ان کے بھارتی مجاہد ساتھیوں نے انڈین طیارہ ہائی جیکنگ کے ذریعے رہا کروایا تھا اور اس وقت کے بھارتی وزیر خارجہ ’’جسونت سنگھ‘‘جنہیں پورے پروٹوکول اور اہتمام کے ساتھ بغیر کسی شناختی کارڈ ،پاسپورٹ ، ،ویزے کے قندھار چھوڑ گئے تھے ،میری اطلاع کے مطابق انڈین سرکاری خزانے کے ساتھ ظلم تو یہ ہوا کہ پوری بھارتی سرکار اور اس کی ساری فوجیں مل کر مولانا محمد مسعود ازہر سے قندھار تک کا کرایہ بھی وصول نہ کر سکیں۔
اسد الدین اویسی، نریندر مودی سے پوچھ کر بتائیں کہ بھارتی 78سالہ تاریخ میں مولانا محمد مسعود ازہر کی طرح کے اور کتنے قیدی ہیں کہ جنہیں پورے سرکاری پروٹوکول میں،بغیر پاسپورٹ ویزے اور کرائے کے وزیر خارجہ خود ان کے مقام پر پہنچا کے آیا ہو؟ کچھ عرصہ قبل مئی کے مہینے میں ’’جنگ بنیان مرصوص‘‘میں پاک فوج بھارت کے ایسے دانت کھٹے کر چکی ہے کہ جسے وہ مدتوں بھلا نہ سکے گا،اسد الدین اویسی جیسے ’’بے چاروں‘‘کو بھارت کے مسلمانوں کی اکثریت مسترد کر چکی ہے،جبکہ مولانا ازہر کو پسند کرنے والے مقبوضہ کشمیر سمیت پورے بھارت میں لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں ،اویسی نے اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مثال دیتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ عالمی طاقتیں جب چاہیں فوجی قوت استعمال کر سکتی ہیں، تو بھارت کیوں پیچھے رہے۔ اس موقع پر انہوں نے یمن میں سعودی عرب کی کارروائیوں کا حوالہ بھی دیا۔ سوال یہ نہیں کہ اویسی نے کیا کہا، سوال یہ ہے کہ ایسے بیانات کس ماحول میں دئیے جا رہے ہیں اور ان کے ممکنہ اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔پاکستان اور بھارت پہلے ہی ماضی قریب میں شدید کشیدگی اور محدود فوجی جھڑپوں کا سامنا کر چکے ہیں۔ مئی 2025 ء کے واقعات نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی وقت صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ ایسے میں کسی بڑے سیاسی رہنما کی جانب سے سرحد پار کارروائیوں کو ہلکے یا طنزیہ انداز میں پیش کرنا غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے سوا کچھ نہیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ اویسی کو بھارت میں عمومی طور پر وزیر اعظم مودی کا سخت ناقد سمجھا جاتا ہے، مگر ناقدین کا ایک حلقہ یہ سوال بھی اٹھا رہا ہے کہ آیا وہ واقعی مودی کی پالیسیوں کے مخالف ہیں یا غیر ارادی طور پر انہی کے بیانیے کو تقویت دے رہے ہیں۔ ماضی میں پہلگام واقعے کے بعد بھارتی حکومت نے جو پارلیمانی وفود بیرون ملک بھیجے، ان میں اویسی کی شمولیت بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ ان وفود کا مقصد دنیا کے سامنے بھارتی موقف کو پیش کرنا تھا اور اپوزیشن کے بعض رہنمائوں نے بھی اسی سرکاری بیانیے کی نمائندگی کی۔دوسری جانب، امریکہ اور چین کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی میں کردار کے دعوے بھارتی حکومت کے لئے ایک مستقل سیاسی چیلنج بن چکے ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے بارہا یہ کہنا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ رکوانے میں کردار ادا کیا، نئی دہلی کے لیے ناگوار حقیقت رہی ہے۔ اب چین کی جانب سے بھی اسی نوعیت کے بیانات سامنے آنے کے بعد بھارتی اپوزیشن کو حکومت پر تنقید کا نیا موقع مل گیا ہے۔چینی وزیر خارجہ کے اس بیان کے بعد کہ بیجنگ نے مئی کے تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کیا، بھارت میں ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر حکومت اس معاملے پر کھل کر وضاحت کیوں نہیں کر رہی۔ اپوزیشن جماعت کانگریس نے واضح طور پر مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم اس حساس معاملے پر پارلیمان اور عوام کو اعتماد میں لیں۔ اس موقع پر اویسی نے بھی سوشل میڈیا پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ کسی تیسرے فریق کی مداخلت قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔
بھارتی وزارت خارجہ کا موقف اس کے برعکس رہا ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی کا فیصلہ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان براہ راست رابطے سے ہوا اور اس میں کسی تیسرے ملک کا کوئی کردار نہیں تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر عالمی طاقتوں کے دعوے کیوں سامنے آ رہے ہیں، اور نئی دہلی ان کی سختی سے تردید کیوں نہیں کر پاتی؟اس تمام پس منظر میں اویسی کا تازہ بیان محض ایک سیاسی جملہ نہیں رہتا بلکہ ایک بڑے فکری تضاد کی علامت بن جاتا ہے۔ ایک طرف وہ چین کی ثالثی پر سوال اٹھاتے ہیں اور دوسری طرف خود ایسے بیانات دیتے ہیں جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف متضاد ہے بلکہ خطرناک بھی۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نہ وینزویلا ہے اور نہ ہی بھارت امریکہ۔ جنوبی ایشیاء کی زمینی، سیاسی اور عسکری حقیقتیں بالکل مختلف ہیں۔ یہاں کسی بھی قسم کی مہم جوئی پورے خطے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ممالک کے درمیان جنگ محض سرحدی تنازع نہیں رہتی بلکہ عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔سیاسی رہنماں، خواہ وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے الفاظ کو تول کر استعمال کریں۔ وقتی شہ سرخی یا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے دیے گئے بیانات آنے والی نسلوں کے لیے سنگین نتائج چھوڑ سکتے ہیں۔ اویسی ہوں یا مودی، دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگی نعروں اور طنزیہ مشوروں سے نہ تو مسائل حل ہوتے ہیں اور نہ ہی قومیں مضبوط ہوتی ہیں۔آخرکار، جنوبی ایشیاء کو اس وقت جذباتی خطابت نہیں، بلکہ سنجیدہ قیادت، بالغ نظری اور سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ اگر سیاست دان واقعی اپنے عوام کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں تو انہیں بیانات کی نہیں، ذمہ داری کی سیاست کرنی ہوگی۔ یہی وہ راستہ ہے جو خطے کو ایک اور تباہ کن تصادم سے بچا سکتا ہے۔