Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

سفید محل کا روسیاہ فرعون

یہ انسانی تمدن کی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ہر دور میں طاقت کا نشہ انسان کو اندھا کرتا رہا ہے اور ہر بار یہ نشہ تباہی پر ہی منتج ہوا ہے۔ آج جب ہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ الفاظ سنتے ہیں جن میں وہ کہتے ہیں کہ میں دنیا کے کسی بھی ملک پر حملے کا حکم دے سکتا ہوں مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔ تو ذہن میں فرعون کی وہ تصویر ابھرتی ہے جو اپنے آپ کو خدا سمجھا کرتا تھا۔وینزویلا کی سرزمین پر جو کچھ ہوا وہ محض ایک فوجی آپریشن نہیں تھا۔ یہ بین الاقوامی قانون، انسانی وقار اور خودمختاری کے تصور کا قتل تھا۔ جب امریکی فورسز صدارتی محل میں دھاوا بول کر صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو بستر سے گھسیٹ کر ہیلی کاپٹر میں ڈال کر امریکا لے گئے تو یہ منظر کسی ہالی ووڈ فلم کا نہیں بلکہ اکیسویں صدی میں طاقت کی سیاست کی بدترین مثال تھا۔ایک سو انسانوں کی لاشیں جن میں پچپن فوجی اہلکار بھی شامل تھے اس آپریشن کی قیمت تھے۔ لیکن اصل قیمت اس سے کہیں زیادہ بھاری ہے۔ یہ قیمت عالمی امن کے نظام کی، چھوٹے ممالک کی خودمختاری کی اور انسانی تہذیب کے ان اصولوں کی ہے جنہیں قائم کرنے میں صدیاں لگی تھیں۔قرآن مجید میں فرعون کی کہانی محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ انسانیت کے لئے ایک ابدی سبق ہے۔ فرعون نے بھی کہا تھا ،میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔ اس کے پاس طاقت تھی فوجیں تھیں خزانے تھے لیکن اس کے پاس جو نہیں تھا وہ تھا عاجزی اور انسانیت کا احساس۔ تاریخ نے اسے کیسے لپیٹا یہ ہم سب جانتے ہیں۔
آج کا فرعون بھی یہی سمجھتا ہے کہ اس کی فوجی طاقت اسے ہر قانون، ہر اخلاق و ہر اصول سے بالاتر بناتی ہے۔ جب صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ کسی ملک پر حملے کا فیصلہ وہ صرف اپنی اخلاقیات اور اپنی سوچ سے کریں گے تو سوال یہ ہے کہ کیا ایک انسان کی سوچ پوری انسانیت کے مقدر کا فیصلہ کر سکتی ہے؟بین الاقوامی قانون کیا ہے؟ یہ محض کاغذی دستاویزات کا مجموعہ نہیں۔ یہ انسانیت کا وہ اجتماعی ضمیر ہے جس نے دوسری جنگ عظیم کی خونریزی کے بعد جنم لیا تھا۔ جب دنیا نے چھ کروڑ انسانوں کی لاشوں کے ڈھیر پر کھڑے ہو کر یہ عہد کیا تھا کہ اب طاقتور کمزور کو نہیں کچلے گا اور اب کوئی قوم دوسری قوم کو غلام نہیں بنائے گی۔اقوام متحدہ کا چارٹر، ویانا کنونشن، جنیوا معاہدے یہ سب اسی عہد کی یادگاریں ہیں۔ لیکن آج جب ایک خودمختار ملک کے صدر کو ان کے اپنے گھر سے اٹھا لیا جاتا ہے، جب سو انسان مارے جاتے ہیں اور پھر یہ سب کچھ انصاف کے نام پر کیا جاتا ہے تو یہ صرف ایک قانون کی خلاف ورزی نہیں بلکہ پورے عالمی نظام کی تذلیل ہے۔صدر مادورو پر منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ فرض کریں کہ یہ الزامات درست ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امریکا عالمی پولیس ہے؟ کیا نیویارک کی عدالت پوری دنیا کی عدالت ہے؟ اگر ہر ملک یہ حق اپنے لئے محفوظ رکھے کہ وہ اپنی عدالت کے فیصلے کی بنیاد پر کسی دوسرے ملک کے صدر کو گرفتار کر سکتا ہے تو پھر دنیا میں فساد ہی باقی رہ جائے گا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی آئین خود صدر کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ اپنی مرضی سے کسی ملک پر جنگ کا اعلان کرے۔ آرٹیکل ون واضح طور پر کہتا ہے کہ جنگ کا اعلان کانگریس کا حق ہے۔ لیکن جب کانگریس کے 52ارکان نے صدر کو وینزویلا میں مزید فوجی اقدامات کے لیے اجازت مانگنے کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تو صدر ٹرمپ نے اپنی ہی جماعت کے سینیٹرز کو دھمکی دے ڈالی کہ وہ دوبارہ منتخب نہیں ہوں گے۔یہ منظر امریکی جمہوریت کی بھی تصویر ہے۔ جہاں منتخب نمائندے صدر سے سوال کرنے کی جرات نہیں رکھتے، جہاں آئین کاغذ پر ہے اور اقتدار کسی ایک شخص کے ہاتھ میں۔وینزویلا کے بعد دنیا بھر کے چھوٹے ممالک کے حکمران رات کو نیند سے اٹھ کر سوچ رہے ہوں گے کہ کیا کل ہماری باری ہے؟
کیا ہماری خودمختاری بھی محض ایک فرضی تصور ہے؟ کیا ہم واقعی آزاد ہیں یا امریکی مہربانی پر زندہ ہیں؟یہ خوف صرف چند حکمرانوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا ہونا چاہیے۔ کیونکہ آج جو وینزویلا کے ساتھ ہوا کل کسی اور کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ آج الزام منشیات کی اسمگلنگ کا ہے کل کوئی اور الزام ہو سکتا ہے۔ آج طریقہ فوجی حملہ ہے کل کوئی اور طریقہ ہو سکتا ہے۔ لیکن نتیجہ ایک ہی ہے طاقتور کی من مانی اور کمزور کی بے بسی۔پاکستان کے لیے یہ واقعہ لمحہ فکریہ سے زیادہ ایک انتباہ ہے۔ ہم ایٹمی طاقت ہیں ہماری افواج طاقتور ہیں لیکن ہماری معیشت کمزور ہے۔ ہم امریکی امداد پر منحصر رہے ہیں۔ ہم عالمی مالیاتی اداروں کے محتاج ہیں۔ اگر کل ہمارے اور امریکا کے مفادات ٹکرا گئے تو کیا ہماری خودمختاری محفوظ رہے گی؟خودمختاری کی حفاظت کا راستہ فوجی طاقت سے زیادہ معاشی خودکفالت، سیاسی استحکام اور اجتماعی قومی ارادے سے گزرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے وسائل کو صحیح استعمال کریں۔ حکمران اور طاقتور طبقے کی کھربوں ڈالرز کی مالی کرپشن کو روک کر اپنی معیشت کو مضبوط بنائیں۔اربوں ڈالر ہر سال اڑا دینے والا اقوام متحدہ محض قراردادوں کا قبرستان بن چکاہے۔ سلامتی کونسل میں امریکا کے ویٹو پاور کی وجہ سے کوئی قرارداد منظور نہیں ہو سکتی۔ یہ ویٹو پاور دراصل طاقتور ممالک کو بے جواب دہ بنا دیتا ہے۔یہ نظام انصاف پر مبنی نہیں۔ جب پانچ ممالک پوری دنیا کے فیصلے اپنی مرضی سے روک سکتے ہوں تو یہ جمہوریت نہیں آمریت ہے۔ عالمی آمریت۔ اقوام متحدہ کی اصلاحات کی ضرورت آج سے نہیں بلکہ عشروں سے محسوس کی جا رہی ہے لیکن طاقتور اپنی طاقت کیوں چھوڑیں؟تاریخ ایک بے لاگ جج ہے۔ اس نے ہر ظالم کو سزا دی ہے، ہر مغرور کو ذلیل کیا ہے۔ نمرود، فرعون، ہٹلر اور مسولینی سب اپنی طاقت پر مغرور تھے لیکن تاریخ نے ان سب کو دھول میں مٹا دیا۔رومن ایمپائر کو لگتا تھا کہ ان کی حکومت ابدی ہے۔ منگول سمجھتے تھے کہ دنیا ان کے گھوڑوں کی ٹاپوں تلے ہمیشہ کانپتی رہے گی۔
برطانیہ کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا۔ لیکن آج یہ سب تاریخ کے اوراق میں محض یادیں ہیں۔صدر ٹرمپ کو سمجھنا چاہیے کہ طاقت عارضی ہے لیکن ظلم کی یادیں ابدی ہوتی ہیں۔ چین، شمالی کوریا اور روس جیسی طاقتیں امریکی بالادستی کو چیلنج کر رہی ہیں۔ دنیا تبدیل ہو رہی ہے۔ اگر آج امریکا نے جو نظیر قائم کی ہے کل وہ خود امریکا کے خلاف بھی استعمال ہو سکتی ہے۔لیکن مایوسی کا وقت نہیں۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ظلم کی رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو صبح ضرور ہوتی ہے۔ فرعون کی طاقت بھی ایک دن ختم ہوئی تھی، نمرود کی آگ بھی بجھ گئی تھی۔آج دنیا کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ چھوٹے ممالک کو اپنے اتحاد مضبوط کرنے ہوں گے۔ عوام کو بیدار ہونا ہوگا اور اپنی آوازیں بلند کرنی ہوں گی۔ دانشوروں، صحافیوں، مفکرین کو قلم اٹھانا ہوگا۔ کیونکہ تبدیلی عوامی شعور سے آتی ہے طاقتور کی مہربانی سے نہیں۔وینزویلا کی سرزمین پر جو خون بہا ہے وہ انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔ سو لاشیں، ایک منتخب صدر کی تذلیل، بین الاقوامی قانون کا مذاق یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ ایک شخص اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے۔سفید محل میں دنیا کا نیا فرعون اپنے تخت پر بیٹھا ہنس رہا ہے۔ لیکن ہر فرعون کا انجام غرق ہونا ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں