Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت

اگر صدر مملکت آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور اپنی بیٹی اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اپنے بیٹے کی شادی میں سادگی کو اپنا لیتیں تو اس میں انہیں کا فائدہ ہوتا،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز مولویوں کا اکٹھ کر کے تقریریں تو خوب کرتیں ہیں۔انہیں نصیحتیں بھی فرماتی ہیں،یہ سب دیکھ کر ہم جیسے صحافت کے طالب علموں کو یہ لگتا ہے کہ جیسے انہیں وزارت اعلیٰ کا منصب سونپا ہی پنجاب کے مولویوں کی اصلاح کے لئے گیا ہو،کاش کہ اپنے بیٹے کی دوسری شادی کے موقع پر وہ ’’مولویوں‘‘کو نصیحت کے طور پر ہی یہ بات یاد رکھ لیتیں کہ اسلام میں سادگی اور خاتم الانبیا ﷺکے فرامین کے مطابق شادی کی کیا عظمت و اہمیت ہے؟پاکستان اس وقت ایک کٹھن معاشی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، بے روزگاری نے نوجوانوں کے خواب چھین لئے ہیں اور متوسط طبقہ روز بروز غربت کی لکیر کے قریب ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں دو وقت کی روٹی کا حصول بھی کسی امتحان سے کم نہیں رہا، جبکہ شادی جیسے بنیادی سماجی فریضے خوف اور دبائو کی علامت بن چکے ہیں۔ یہ وہ دور ہے جہاں عوام صرف حکومتی بیانات نہیں بلکہ عملی مثالوں کی تلاش میں ہیں۔ایسے نازک حالات میں اگر حکمران طبقہ سادگی اختیار کرے تو یہ محض ایک ذاتی طرزِ زندگی نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کے لئے ایک طاقتور پیغام بن جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی شادی کی تقریبات نے اسی تناظر میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔شادی سے قبل جاتی امرا میں منعقد ہونے والی مہندی کی تقریب کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں۔ ان مناظر میں نہ صرف پرتعیش سجاوٹ اور مہنگے ملبوسات نمایاں تھے، بلکہ کھانوں کے مینو نے بھی خاصی توجہ حاصل کی۔
اطلاعات کے مطابق تقریب میں مختلف اقسام کے کھانے پیش کئے گئے، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے نافذ کردہ ون ڈش کی پابندی کی خلاف ورزی کی گئی۔یہ معاملہ کسی ایک خاندان کی شادی تک محدود نہیں، بلکہ یہ قانون کی یکساں عملداری، ریاستی مثال اور سماجی انصاف کا سوال بن چکا ہے۔ پنجاب بھر میں ون ڈش قانون کی خلاف ورزی پر عام شہریوں کے خلاف کارروائیاں ہوتی ہیں، شادی ہال سیل کئے جاتے ہیں، بھاری جرمانے عائد کئے جاتے ہیں، مگر جب یہی قانون حکمران طبقے تک پہنچتا ہے تو اس کی حیثیت محض کاغذی رہ جاتی ہے۔اس تقریب میں شریک افراد کے ملبوسات اور زیورات بھی عوامی بحث کا مرکز بنے۔ فیشن سے وابستہ حلقوں کے مطابق ان لباسوں اور زیورات کی قیمتیں لاکھوں روپے میں تھیں۔ سوشل میڈیا پر یہ سوال شدت سے اٹھایا گیا کہ جب عوام مہنگائی سے نڈھال ہیں تو ان کی منتخب قیادت اس سطح کی نمود و نمائش کی متحمل کیسے ہو سکتی ہے؟یہ حقیقت اپنی جگہ کہ شادی ایک ذاتی خوشی کا موقع ہے اور ہر فرد کو اپنی خوشیاں منانے کا حق حاصل ہے، مگر جب کوئی شخصیت عوامی عہدے پر فائز ہو، خاص طور پر صوبے کی وزیراعلیٰ ہو، تو اس کے ذاتی فیصلے بھی عوامی پیغام بن جاتے ہیں۔ جب وہ خود سادگی، کفایت شعاری اور عوامی ہمدردی کی بات کرے تو اس کے عمل کا معیار بھی اسی دعوے کے مطابق ہونا چاہیے۔پاکستانی معاشرہ پہلے ہی شادیوں کے معاملے میں شدید سماجی دبا کا شکار ہے۔ لوگ اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرتے ہیں، قرض لیتے ہیں، زیورات بیچتے ہیں، یہاں تک کہ زمینیں رہن رکھ دیتے ہیں، صرف اس خوف سے کہ کہیں معاشرہ طعنہ نہ دے۔ لاکھوں روپے کے جوڑے صرف ایک دن کے لئے تیار کروائے جاتے ہیں، سینکڑوں مہمانوں کی ضیافت کی جاتی ہے اور نتیجتاً کئی خاندان برسوں تک ان اخراجات کا بوجھ اٹھاتے رہتے ہیں۔ایسے ماحول میں اگر حکمران طبقہ سادگی اختیار کرے تو یہ معاشرے کے لئے ایک مثبت اور طاقتور مثال بن سکتی ہے۔ اگر وزیراعلیٰ پنجاب اپنے بیٹے کی شادی سادہ انداز میں کرتیں، ون ڈش قانون پر خود عمل کرتیں اور غیر ضروری نمود و نمائش سے گریز کرتیں تو یہ پورے ملک کیلئے ایک حوصلہ افزا پیغام ہوتا۔یہ کہا جاتا کہ اقتدار میں ہونے کے باوجود بھی سادگی ممکن ہے۔ پھر عام آدمی کو بھی یہ اعتماد ملتا کہ وہ معاشرتی دبا کو نظرانداز کر کے سادہ شادی کر سکتا ہے۔
والدین اپنی بیٹیوں کی شادی بغیر قرض کے کرنے کا حوصلہ پاتے، اور نوجوان نسل یہ سمجھتی کہ خوشی کا تعلق اخراجات سے نہیں بلکہ رشتوں کی مضبوطی اور نیت کی سچائی سے ہے۔بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ جو مناظر سامنے آئے، انہوں نے سادگی کے اس بیانیے کو کمزور کر دیا جس کی تلقین عوام کو کی جاتی ہے۔ یہ وہی تضاد ہے جو عوام اور حکمرانوں کے درمیان فاصلے کو بڑھاتا ہے۔ جب قانون اور اخلاقیات کا اطلاق صرف کمزور طبقے پر ہو اور طاقتور خود کو اس سے بالاتر سمجھے تو معاشرے میں مایوسی اور بداعتمادی جنم لیتی ہے۔مریم نواز کے پاس بطور وزیراعلیٰ یہ ایک سنہری موقع تھا کہ وہ محض سیاسی نہیں بلکہ سماجی قیادت کا کردار ادا کرتیں۔ وہ ایسی مثال قائم کر سکتی تھیں جس کا حوالہ برسوں دیا جاتا، مگر یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا۔آج قوم کو تقاریر سے زیادہ عملی مثالوں کی ضرورت ہے۔ عوام کو نعروں نہیں بلکہ ایسے رویوں کی تلاش ہے جو ان کے دکھ درد کا حقیقی عکس ہوں۔ اگر حکمران خود سادگی اختیار کریں گے تو معاشرہ بھی اسی سمت بڑھے گا، ورنہ مہنگے جوڑوں، قیمتی زیورات اور شاہانہ تقریبات کا یہ کلچر مزید مضبوط ہوتا جائے گا، اور اس کا بوجھ ہمیشہ کی طرح عام آدمی ہی اٹھاتا رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں