دنیا ایک ایسے موڑ پرکھڑی ہےجہاں پرانی لکیردھندلارہی ہےاور نئی لکیر ابھی واضح نہیں ہوئی۔ یہی خلا نیوورلڈآرڈر کہلاتا ہے۔ڈیووس میں ہونے والی ورلڈ اکنامک فورم کی کانفرنس دراصل اس عالمی اضطراب کی نمائندہ تھی۔ یہ محض سرمایہ داروں اور سیاست دانوں کا اجتماع نہیں تھا بلکہ یہ اس خوف کی اجتماعی تصویر تھی جو ہر ریاست کے ایوانوں میں سرایت کر چکا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب یہاں ترقی اور شراکت داری کی بات ہوتی تھی مگر اب یہاں تحفظ اور بقا کاذکرغالب ہے۔ ریاستیں اب یہ سوال نہیں کر رہیں کہ دنیا کو کیسے بہتر بنایاجائے بلکہ یہ سوچ رہی ہیں کہ خودکوکیسے بچایاجائے۔امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر اسی ذہنیت کی علامت تھی۔ وہ ایک ایسی طاقت کی نمائندگی کر رہے تھے جو خود کو دنیا کا بوجھ اٹھانے سے آزاد کرناچاہتی ہے۔ امریکہ فرسٹ کا نعرہ دراصل عالمی ذمہ داریوں سے دستبرداری کا اعلان ہے۔ ٹرمپ نےنیٹوکو ایک بوجھ قرار دیا اور یورپ کو باور کرایا کہ اب امریکہ مفت کی حفاظت فراہم نہیں کرےگا۔ یہ الفاظ یورپی دارالحکومتوں میں خطرےکی گھنٹی بن کر بجےکیونکہ پچھلے ستربرسوں سےیورپ امریکی چھتری کے سائے میں کھڑا تھا۔گرین لینڈ کامعاملہ اس نئی سوچ کاسب سے عریاں اظہار تھا۔ ایک جزیرہ جو برف سے ڈھکا ہوا تھا اب طاقت کی سیاست کا مرکز بن چکا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی نے برف کو پگھلایا تو ساتھ ہی عالمی لالچ بھی ظاہر ہو گیا۔ ٹرمپ کا گرین لینڈ کو خریدنے کا تصور دراصل جغرافیہ کو منڈی میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ یورپ نے اسے اپنی توہین سمجھا اور بجا طور پر سمجھا کیونکہ یہ صرف ایک زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ خودمختاری کےتصور پرحملہ تھا۔ یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ گرین لینڈ کس کے پاس ہو گابلکہ یہ ہےکہ کیاطاقتور ریاستیں کمزورعلاقوں کوخریدنےاوربیچنے کاحق رکھتی ہیں۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کی تقریر اس کانفرنس کا سب سے گہرا لمحہ تھی۔ وہ ایک ماہر معاشیات کے ساتھ ساتھ ایک حساس انسان کے طور پر بولے۔ انہوں نے کھلے لفظوں میں کہاکہ پرانا عالمی نظام دفن ہو چکا ہے۔ یہ وہ نظام تھا جس میں اصولوں کی بات کی جاتی تھی مگر عمل طاقت کے مطابق ہوتا تھا۔ کارنی نے واضح کیا کہ اب تجارت ہتھیار بن چکی ہے۔ سپلائی چینز دبائو کا ذریعہ ہیں اور مالیاتی نظام سیاسی فیصلوں کے تابع ہو چکا ہے۔ ان کے الفاظ دراصل چھوٹے اوردرمیانے ممالک کےلئے ایک وارننگ تھی۔ ایک درمیانے درجے کے ملک کا شہری اب دو بڑی طاقتوں کی لڑائی کا ایندھن بن رہا ہے۔ اس کی نوکری ٹیرفس کی نذر ہوجاتی ہے۔ اس کی کرنسی کسی اور دارالحکومت کے فیصلے سے گرجاتی ہے۔ اس کا مستقبل اس کے اپنے ہاتھ میں نہیں رہتا۔ یہی وہ کرب ہےجسےکارنی نےآواز دی۔یورپ اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج صرف سیاسی نہیں بلکہ تہذیبی بھی ہے۔ یورپ خود کو اصولوں کا محافظ سمجھتا ہےجبکہ امریکہ مفادات کو ترجیح دےرہا ہے۔ یوکرین جنگ نے اس فرق کو مزیدواضح کر دیا ہے۔ امریکہ کی دلچسپی کم ہو رہی ہے اور یورپ کو احساس ہو رہا ہے کہ اسے اپنی حفاظت خود کرنی ہو گی۔ اسی لیے یورپی فوج کا تصور اب ایک خیال نہیں رہا بلکہ ایک مجبوری بنتاجا رہا ہے۔ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ بورڈ آف پیس بھی اسی یکطرفہ سوچ کا تسلسل ہے۔ یہ تصور بظاہر امن کے لیے ہےمگر اس کے پیچھے اقوام متحدہ کو غیرموثر کرنے کی خواہش چھپی ہوئی ہے۔فرانسیسی صدرمیکرون نےاس پرجو اعتراضات اٹھائے وہ دراصل کثیرالجہتی نظام کےدفاع کی کوشش تھے۔میکرون جانتے ہیں کہ اگر عالمی فیصلےچند طاقتورہاتھوں میں چلےگئےتوچھوٹی قومیں ہمیشہ کےلئےخاموش ہو جائیں گی۔ یہ خاموشی سب سے زیادہ مسلمان دنیا میں نظر آتی ہے۔
غزہ جل رہا ہےمگر مسلم دارالحکومتوں میں صرف رسمی بیانات جاری ہورہے ہیں۔ ڈیووس جیسے فورمز پرجہاں فیصلوں کی بنیاد رکھی جاتی ہے وہاں مسلمان قیادت کی غیر موجودگی یاکمزور موجودگی ایک المیہ ہے۔ یہ وہ انسانی پہلو ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ فلسطینی بچہ صرف بم سے نہیں مرتا بلکہ عالمی بےحسی سے بھی مرتا ہے۔پولینڈ کے صدر کی تقریر نے ایک اور زاویہ اجاگر کیا۔ تاریخی یادداشت کو سیاسی ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔ روس کےخلاف خوف کو تازہ کیاجارہاہے۔یہ خوف یورپ کودوبارہ عسکریت کی طرف دھکیل رہا ہے۔ سردجنگ کی یادیں پھر زندہ ہو رہی ہیں۔ اس بار میدان شاید مختلف ہوں مگر ذہنیت وہی ہے۔دنیا کے مختلف حصوں میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک بڑی تصویر کا حصہ ہے۔ چین اورامریکہ کی تجارتی جنگ محض معاشی نہیں بلکہ نظریاتی ہے۔ روس کی یوکرین میں موجودگی صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی پیغام ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتا ہوا تنائو انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہے۔ افریقہ اور ایشیا میں وسائل کی لڑائیاں مستقبل کی جنگوں کا پیش خیمہ ہیں۔اس سب کے بیچ عام انسان پس رہا ہے۔ اس کی تنخواہ اور آمدن کم ہو رہی ہے۔ اس کے خواب غیر یقینی کا شکار ہیں۔ اس کے بچے ایک ایسی دنیا میں آنکھ کھول رہے ہیں جہاں امن ایک کمزور لفظ بن چکا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نیو ورلڈ آرڈر محض سفارتی اصطلاح نہیں رہتا بلکہ انسانی دکھ کا نام بن جاتا ہےلیکن ہر دورمیں امید نے بھی جنم لیا ہے۔ کارنی اور میکرون جیسے رہنما یہ بتاتے ہیں کہ درمیانی طاقتیں مل کر توازن پیدا کرسکتی ہیں۔ ایک ایسانظام ممکن ہےجو مکمل انصاف تو نہ دے سکے مگر مکمل جنگ سے بچا لے۔ ماحولیاتی تحفظ اقتصادی تعاون اورانسانی وقارکو بنیاد بناکر ایک نیا راستہ نکالاجاسکتا ہے۔پاکستان جیسے ممالک کے لئے یہ لمحہ سوچنے کا ہے۔ ہمیں صرف تماشائی بن کر نہیں بیٹھناچاہیے۔ اسٹریٹجک خودمختاری کا مطلب صرف دفاع نہیں بلکہ معاشی اور فکری آزادی بھی ہے۔ ہمیں نئے اتحادوں میں اپنی جگہ بنانی ہو گی اور اپنی انسانی آواز کو بلند کرنا ہوگا۔نیو ورلڈ آرڈرابھی مکمل نہیں ہوا۔ یہ ایک زیر تعمیر عمارت ہےجس کی اینٹیں فیصلوں سے جڑرہی ہیں۔ یہ عمارت امن کی ہو گی یاجنگ کی اس کا انحصار ان انسانوں پر ہے جو آج اقتدار میں ہیں۔ ڈیووس نے دنیا کو آئینہ دکھا دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا اس آئینے میں خود کو پہچاننے کی ہمت رکھتی ہے یا نہیں۔