برطانیہ متحدہ عرب امارات کی سرزمین سے بصیرت، تخلیق اور انسان دوستی کے ایسے منصوبوں کی امین ہے جو نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی رہنمائی اور فائدے کا سبب بنتے ہیں۔ انہی روشن اور متاثر کن کاوشوں میں ایک نمایاں نام حتا شہد مکھیوں کا گارڈن کا ہے ایک ایسا منفرد اور بصیرت افروز منصوبہ جس نے فطرت، صحت، علم اور شعور کو ایک خوبصورت ربط میں پرو دیا ہے۔ یہ شاندار اقدام شیخ سالم القاسمی کی دور اندیش قیادت اور فکری وسعت کا عملی مظہر ہے۔حتا شہد کی مکھیوں کا گارڈن محض ایک زرعی یا تجارتی منصوبہ نہیں، بلکہ یہ قدرت کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزارنے کے ایک مکمل فلسفے کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ باغ خالص اور قدرتی شہد کی پیداوار کے لئے وقف ہے وہ شہد جسے قرآنِ کریم نے انسانیت کے لئے شفا کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اس قرآنی تصور کو عملی صورت دیتے ہوئے یہ منصوبہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جدید ترقی اور روحانی اقدار ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ باہم تکمیل کا ذریعہ ہیں۔
اس باغ میں شہد کی مکھیوں کی افزائش، قدرتی ماحول کی حفاظت، اور سائنسی اصولوں کی روشنی میں شہد کی پیداوار، سب کچھ نہایت ذمہ داری، تحقیق اور محبت کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے۔ یہاں فطرت کو نقصان پہنچائے بغیر اس سے فائدہ اٹھانے کا وہ ماڈل پیش کیا گیا ہے جس کی آج کی دنیا کو اشد ضرورت ہے۔ ماحولیات کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع کی بقا، اور قدرتی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کا یہ عملی نمونہ واقعی قابلِ تقلید ہے۔حتا شہدگارڈن کی ایک بڑی خصوصیت اس کا تعلیمی پہلو بھی ہے۔ یہ جگہ بچوں، نوجوانوں، طلبہ، محققین اور عام افراد سب کے لئے یکساں طور پر علم و آگاہی کا خزانہ ہے۔ یہاں آنے والا ہر شخص شہد کی مکھیوں کی زندگی، ان کے سماجی نظام، فطرت میں ان کے کردار، اور انسانی صحت سے ان کے گہرے تعلق کو قریب سے سمجھ سکتا ہے۔
اس طرح یہ باغ نہ صرف تفریح بلکہ شعور بیداری کا ایک موثر ذریعہ بھی بن چکا ہے۔یہ منصوبہ اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ پائیدار ترقی (Sustainability) محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک طرزِ فکر ہے ایسا طرزِ فکر جو قدرت کے احترام، علم کے فروغ اور انسان کی فلاح کو یکجا کرتا ہے۔ اسی وجہ سے حتا ہنی بی گارڈن تخلیقی سوچ، ماحولیاتی ذمہ داری اور Divineنعمتوں کے شکرانے کی ایک روشن مثال بن کر سامنے آتا ہے۔ شیخ سالم القاسمی کی شخصیت خود بھی علم، قیادت اور خدمتِ خلق کا حسین امتزاج ہے۔ وہ امارات کے معزز حکمران خاندان کے ایک اہم اور متحرک فرد ہونے کے ساتھ ساتھ راس الخیمہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ، جدید دنیا کے تقاضوں سے مکمل طور پر باخبر، اور قومی و بین الاقوامی سطح پر ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے والی یہ شخصیت اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ قیادت جب علم اور اخلاق کے ساتھ جڑ جائے تو اس کے ثمرات دیرپا اور ہمہ گیر ہوتے ہیں۔ان کی سرپرستی میں قائم یہ منصوبہ نہ صرف صحتِ عامہ کے فروغ میں معاون ہے بلکہ قدرتی طرزِ زندگی کی طرف واپسی کی ایک خاموش مگر موثر دعوت بھی ہے۔
آج کے تیز رفتار اور مصنوعی دور میں، جہاں انسان فطرت سے دور ہوتا جا رہا ہے، ایسے منصوبے انسان کو اس کی اصل کی طرف لوٹنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔حتا ہنی بی گارڈن کی زیارت بلاشبہ ایک ایسا تجربہ ہے جو تعلیمی بھی ہے، روح افزا بھی اور ہر عمر کے افراد کے لئے فائدہ مند بھی۔ یہاں سے انسان صرف شہد ہی نہیں، بلکہ فطرت سے محبت، توازن، صبر اور ہم آہنگی کا پیغام بھی لے کر لوٹتا ہے۔میں دل کی گہرائیوں سے حضورِ جناب شیخ سالم القاسمی کے لئے اپنے خلوص بھرے جذباتِ تشکر اور احترام کا اظہار کرتا ہوں۔ صحت، فطرت اور شعور کے فروغ کے لئے شہد کے ذریعے اٹھایا گیا یہ منفرد اور دور اندیش قدم یقینا قابلِ ستائش ہے اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک روشن مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔
