Search
Close this search box.
اتوار ,28 جون ,2026ء

بارہواں کھلاڑی

ٹی ٹونٹی کرکٹ ورلڈ کپ کی آمد آمد ہے ،کرکٹ کی دنیا میں ایک بھونچال ہے۔ کھیل کے شیدائی میدان کی طرف دیکھ رہے ہیں جہاں کھیل کی بجائے سیاست کے چوکے چھکے لگ رہے ہیں۔ شطرنج کی بساط بچھی ہوئی ہے۔چالیں چلی جا رہی ہیں اور اس سب سے بے تعلق خود کرکٹ ہے جو گرائونڈ کے باہر بارہویں کھلاڑی کی طرح اونگھ رہا ہے اورکسی ایسی گھڑی کے انتظار میں ہے جب اس کو بھی کوئی موقع ملے اور وہ بھی اپنے جوہر دکھا سکے ۔ کرکٹ کبھی اتنابے توقیر اور سیاسی آلودگی کا شکار نہ تھا۔ بنگلہ دیش میں آئی حالیہ سیاسی تبدیلی نے کرکٹ کے میدانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔بھارت کی نیندیں اچاٹ ہیں اور وہ بنگلہ دیش جس کو بھارت اپنے اشاروں پر نچاتا آیا تھا اچانک آزادی سے سانس لینے اور اپنے فیصلے خود کرنے لگ گیا ہے۔ بھارت نواز حکومت کی جابر سربراہ حسینہ واجد جان بچاکر بھارت فرار ہو گئی ۔ حسینہ کو سزائے موت سنائی گئی مگر بھارت نے اس کو گوشہ عافیت میں پناہ دے رکھی ہے ا ور یوں بنگالی عوام کے اندر بھارت کے لئے نفرت کی لہر دوڑ گئی۔ بنگلہ دیش میں کچھ ہندوئوں پر ہوئے حملوں کے جواب میں بھارتی کرکٹ بورڈ نے بنگالی کھلاڑی مستفیض الرحمن کو یہ کہہ کر انڈین لیگ سے بے دخل کر دیا کہ ہم اس کی حفاظت نہیں کر سکتے ۔ بنگلہ دیش نے اس کے ردِعمل میں اپنی ٹیم بجا طور پر بھارت بھیجنے سے انکار کر دیا کہ جو ملک ایک کھلاڑی کی حفاظت نہیں کر سکتا وہ پوری ٹیم کی حفاظت کس طرح کر سکتا ہے۔ بنگلہ دیش کا یہ فیصلہ بھارتی اجارہ داری پر ایک کاری ضرب ثابت ہوا۔
کرکٹ تو امن اور محبت کا سفیر ہوا کرتا تھا۔ جانے کہاں گئے وہ دن جب کشیدگی کے دنوں میں بھی کرکٹ امن اور آشتی کے راستے کھول دیتا تھا۔ اس حوالے سے جنرل ضیاء الحق کی کرکٹ ڈپلومیسی تاریخ کا حصہ ہے ۔ جنگ کے بادل برسنے کو تھے اور کمانیں کھچی ہوئی تھیں جب۱۹۸۷ء میں جنرل ضیاء الحق اچانک کرکٹ میچ دیکھنے بھارت پہنچ گئے اور اجیو گاندھی کے کان میں ایسی سرگوشی کی کہ جس کی گونج نے جنگی ماحول کو امن میں بدل دیا۔ اسی طرح جنرل مشرف کے دور میں بھی بھارت پاکستان کھیلنے آیا۔اس وقت تک نیوٹرل یا ہائبرڈ نظام کا تصور نہیں تھا۔ نہ کھیلنے کی صورت میں میچ یا دو طرفہ سیریز ختم کر دی جاتی تھی۔۱۹۹۶ء میں ہوئے ورلڈ کپ میں آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز نے سری لنکا میں کھیلنے سے انکار کر دیا تھا مگر میچ کسی اور ملک میں منتقل کرنے کی بجائے دوسری ٹیم کو جیت کے پوائنٹس دے دئیے گئے۔مگر پھر رفتہ رفتہ آئی سی سی پر بھارتی تسلط سے کرکٹ کے سنہری دن ماند پڑنے شروع ہو گئے۔
۲۰۰۹ ء کا ذکر ہے جب پہلی بار ممبئی حملوں کو جواز بنا کر بھارت نے پاکستان آکر کھیلنے سے انکار کر دیا اور اس کے بعد پھر کبھی کرکٹ کھیلنے پاکستان قدم نہیں رکھا اور آئی سی سی نے بھارت کی اس مرضی کے آگے بند باندھنے کے بجائے ہمیشہ اس کی سہولت کاری کی۔ پاکستان اس حوالے سے کوشاں رہا کہ ایک دوسرے کے ملک جا کر ہی کرکٹ کھیلی جائے، ۲۰۱۲ میں پاکستان نے بھارت کا دورہ بھی کیا مگر اس کے باوجود بھارت نے پاکستان آکر نہ کھیلنے کی ضد برقرار رکھی اور اس ضد کو آئی سی سی نے جان کی طرح عزیز رکھا اور کرکٹ میں ایک نیا نظام متعارف کروایا جس آج کل ہائبرڈ نظام کہا جاتا ہے یعنی کھیل کو کسی نیوٹرل میدان میں کھیل لیا جائے تاکہ میچز منسوخ نہ ہوں اور آمدنی کا حصول منقطع نہ ہو۔حالیہ چیمپنزٹرافی میں پھر بھارت نے اسی تنگ نظری سے کام لیتے ہوئے پاکستان آنے سے انکار کر دیا اور آئی سی سی نے بھارت کے تمام میچز دبئی منتقل کر دئیے مگر اس بار پاکستان نے سرِتسلیم خم کرنے کے بجائے بھرپور آواز اٹھائی اور اس بات پر بھارت اور آئی سی سی کو منوا لیا کہ پاکستان بھی آئندہ بھارت میں کھیلنے نہیں جائے گا۔انا کا شکار بھارت نے پھر بھی ہار نہ مانی، بھارتی کھلاڑی اب ہاتھ ملانے سے بھی گریزاں ہیں، ایشیاء کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہ کر کے ایک نئی بچگانہ سوچ اور قبیح روایت کو جنم دیا ۔
کرکٹ کی اس بربادی کی جڑ میں ایک ہی عفریت بیٹھا ہے جس کا نام مودی ہے جس نے دھاک بٹھانے کے چکر میں ہر میدان میں بھارت کو اکیلا اور رسوا کر دیا۔ ۱۰ مئی کو پاکستان آرمی کے ہاتھوںاپنی مصنوعی دھاک کو خاک ہوتے دیکھ کر بھی اس کی انا اور ضد ختم نہ ہوئی اور اپنا غصہ اب کرکٹ کے میدانوں تک لے آیا۔ تازہ نقشہ یہ ہے کہ آئی سی سی نے بھی اپنا پلڑا ہمیشہ کی طرح بھارت کی طرف جھکا کر بنگلہ دیش کی سری لنکا میں کھیلنے کی درخواست مسترد کر دی ہے، وہ سہولت جو بھارت کو چیمپنزٹرافی کے میچ دبئی منتقل کر کے دی گئی وہ بنگلہ دیش کو نہ دی گئی۔ حیرت کی بات ہے کہ چیمپنزٹرافی میں تو دبئی میزبان تھا بھی نہیں، مگر یہاں تو سری لنکا ایک میزبان ملک ہے مگر بنگلہ دیش کے میچز سری لنکا منتقل نہ کرتے ہوئے آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے ہی باہر کر دیا۔ آئی سی سی کا یہ دہرا رویہ اس پر بھارتی اجارہ اداری کا ایک واضح ثبوت ہے۔
کرکٹ کے مبصرین و ماہرین اس بحث میں مصروف ہیں کہ پاکستان کوورلڈ کپ کھیلنا چاہئے یا نہیں۔ ایک طبقہ یہ رائے رکھتا ہے کہ پاکستان کو اس معاملے میں اپنی کرکٹ اور اس کی بقاء کو سامنے رکھتے ہوئے ورلڈ کپ میں حصہ لینا چاہیے کیونکہ پاکستان کی بھارت میں نہ کھیلنے کی شرط تو پہلے ہی آئی سی سی قبول کر چکا ہے اور پاکستان کے پاس اس میں حصہ نہ لینے کا کوئی معقول جواز نہیں ہے ۔ اس طبقہ کا یہ بھی کہناہے کہ ورلڈ کپ میں حصہ نہ لے کر پاکستان کو اپنی کرکٹ کے ساتھ ساتھ معاشی نقصان بھی برداشت کرنا پڑے گا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ بہت ہو گیا ، آخر ہم کب تک بھارت اور آئی سی سی کی اس دو رخی پالیسی کا ساتھ دیتے رہیں گے، کب تک اس ہائبرڈ نظام کا حصہ بنے رہیں گے؟ کیوں اور کب تک آئی سی سی ممبرز کی معاشی قدر کو دیکھ کر فیصلے کرے گی؟ اگر کسوٹی یہی ہے کہ بس آمدن اور پیسہ ہی مقدم ہے چاہے کھیل کے ساتھ جو بھی تباہی مچا دی جائے اور جو کچھ ہو رہا ہونے دیا جائے تو یہ سلسلہ کہاں تک جائے گا؟ کیا کرکٹ کے سنہری دن واپس لانے کے لیے تگ و دو کرنے کا وقت نہیں آگیا؟
دنیائے کرکٹ کی نگاہیں پاکستان پر ہیں ، پاکستان اگر کوئی بڑا فیصلہ کرنے جا رہا ہے تو امید ہے کہ بڑے فیصلوں سے بڑے نتائج کی آس لگانے کے ساتھ ساتھ پاکستان اس سے وابستہ بڑی مشکلات، بڑی پابندیوں اوربڑے معاشی نقصانات کو اچھی طرح پرکھ کر ہی کوئی فیصلہ لے گا ۔ کچھ فیصلے سب ممالک کو بھی مل کر کرلینے چاہئے جس کی بدولت کھیل کے وہ اصول طے ہوں جو سب کے لئے یکساں ہوں۔یہ طے کر لیں کہ کوئی ہائبرڈ نظام نہیں ہوگا اور کھیلنا ہے تو میزبان ملک جا کر کھیلنا ہو گا ۔ ہر ملک کے شائقین کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے گرائونڈز میں کرکٹ ہوتے دیکھیں،اور وہ کرکٹ جو بارہویں کھلاڑی کی طرح ٹکٹکی باندھے گم سم بیٹھا اپنی باری کے انتظار میں ہے اس کو پھر سے امن اور محبت کا سفیر بنا کر میدان میں اتاریں۔

یہ بھی پڑھیں