Search
Close this search box.
اتوار ,28 جون ,2026ء

بحران سے استحکام تک کا سفر

پاکستان کی سیاسی، معاشی اور سماجی تاریخ میں استحکام کی جستجو ایک ایسا سفر رہا ہے جو کبھی آسان نہیں رہا جہاں ہر دور میں قیادت کو نہ صرف داخلی چیلنجز بلکہ بیرونی دباؤ کا بھی سامنا رہا ہے ۔ آج جب وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت ملکی استحکام کی راہ پر گامزن ہے تو یہ سفر اپنے اندر تاریخ کے کئی اہم اسباق اور تجربات سمیٹے ہوئے ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے لے کر اب تک ملک کو معاشی بحرانوں، سیاسی عدم استحکام، دہشت گردی اور بین الاقوامی تعلقات میں پیچیدگیوں کا سامنا رہا ہے لیکن ہر دور میں قوم نے ہمت سے کام لیا اور مشکلات کا مقابلہ کیا۔ آج بھی جب ملک کئی محاذوں پر چیلنجز کا شکار ہے تو شہباز شریف کی حکومت نے ایک واضح حکمت عملی کے تحت استحکام کے لیے اقدامات کا آغاز کیا ہے جو نہ صرف فوری بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ہیں بلکہ طویل المیعاد ترقی کی بنیاد بھی فراہم کرتے ہیں۔ان کی قیادت میں حکومت نے سب سے پہلے معاشی استحکام کو ترجیح دی کیونکہ یہ بات واضح تھی کہ بغیر معاشی مضبوطی کے کوئی بھی ملک ترقی نہیں سکتا۔
افراط زر کی شرح پر قابو پانے کے لیے اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی میں سختی برتی اور حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنایا۔ زرمبادلہ کے ذخائر جو تشویش ناک حد تک کم ہو گئے تھے، ان میں بھی بتدریج اضافہ ہوا اور یہ دوستانہ ممالک کی جانب سے امداد، ترسیلات زر میں اضافے اور برآمدات کو فروغ دینے کی کوششوں کا نتیجہ تھا۔ خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا اور ان سے مالی معاونت حاصل کرنا شہباز شریف کی حکومت کی سفارتی کامیابیوں میں شامل ہے۔ اسی طرح چین کے ساتھ سی پیک کے دوسرے مرحلے کو فعال کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں جو معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ توانائی کے شعبے میں، جو پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا چیلنج رہا ہے، حکومت نے بجلی کی چوری پر قابو پانے اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو فروغ دینے کی طرف توجہ دی ہے ۔زراعت کے شعبے میں جو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، حکومت نے کسانوں کو بہتر بیج، کھاداور آبپاشی کی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ زرعی مصنوعات کی منڈیوں تک رسائی کو آسان بنانے کے اقدامات کیے ہیں اور برآمدات میں اضافے کے لیے زرعی شعبے کی جدید کاری پر زور دیا جا رہا ہے۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے بھی مراعات کا اعلان کیا گیا اور یورپی یونین اور امریکہ کی منڈیوں تک بہتر رسائی کے لیے سفارتی کوششیں کی گئیںتاکہ برآمدات میں اضافہ ہو اور ڈالر کی آمد بڑھے۔ ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی حکومت نے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
غربت میں کمی اور سماجی تحفظ کے لئے احساس پروگرام اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے اقدامات کو جاری رکھا گیا ہے تاکہ معاشرے کے کمزور طبقات کو بنیادی ضروریات تک رسائی مل سکے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات جو پاکستان میں سیلاب، خشک سالی اور موسمی تغیرات کی شکل میں نظر آ رہے ہیں، ان سے نمٹنے کے لیے بھی طویل المیعاد منصوبہ بندی کرتے ہوئے حکومت نے گرین پاکستان جیسے منصوبوں کو آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پربھی پاکستان کی ساکھ کو بحال کرنا اور دنیا کو یہ یقین دلانا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے جو اپنے عزائم میں پرامن ہے اور علاقائی استحکام میں کردار ادا کرنا چاہتا ہے، یہ بھی شہباز شریف کی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس حوالے سے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے، ہندوستان کے ساتھ تجارتی امکانات کو تلاش کرنے اور مغربی ممالک سے تعلقات کو مثبت بنیادوں پر استوار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ شہباز شریف کی انتظامی مہارت اور ان کی ٹیم کا تجربہ ملکی استحکام میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ مشکلات ابھی بھی بہت زیادہ ہیں، عوام میں مہنگائی کی وجہ سے بے چینی ہے، بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے اور سیاسی تقسیم معاشرے میں موجود ہے، لیکن حکومت کا یہ مؤقف ہے کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لئے صبر اور مسلسل محنت کی ضرورت ہے اور جلد بازی میں لئے گئے فیصلے طویل المیعاد نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔ میڈیا کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ۔ نوجوانوں کو جو ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں اور جو مستقبل کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کریں گے، ان کو روزگار، تعلیم اور ہنر سیکھنے کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی ایک اہم ترجیح ہے۔ اس مقصد کے لیے تکنیکی تعلیم، ووکیشنل ٹریننگ اور اسٹارٹ اپ کلچر کو فروغ دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ خواتین کی معاشی اور سماجی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے مختلف پروگرام شروع کیے ہیں تاکہ وہ قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کے لئے جو اقدامات کیے جا رہے ہیں وہ ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ ہیں جو معاشی استحکام، سیاسی ہم آہنگی، سماجی ترقی اور بین الاقوامی ساکھ کو بہتر بنانے پر مبنی ہیں ۔حکومت کے اقدامات نے پاکستان کو صحیح سمت دکھائی ہے۔چیلنجزابھی باقی ہیں لیکن بنیادیں مجبوط ہو رہی ہیں ۔آنے والا وقت بتائے گا کہ یہ کوششیں کس حد تک عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں