سائنس اور وحی کی روشنی میں ایک علمی مطالعہ۔ زندگی اور موت انسان کے وہ ازلی سوالات ہیں جنہوں نے ہر دور میں فکر، فلسفہ، سائنس اور مذہب کو اپنی طرف متوجہ رکھا ہے۔ انسان ہمیشہ یہ جاننا چاہتا رہا ہے کہ وہ کہاں سے آیا، کیوں زندہ ہے، اور موت کے بعد اس کے ساتھ کیا پیش آتا ہے۔ جدید سائنس ان سوالات کو مادی قوانین، تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر دیکھتی ہے، جبکہ وحی ان کی باطنی، اخلاقی اور غائی حقیقت کو واضح کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سائنس اور وحی ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو مختلف مگر تکمیلی زاویے ہیں۔
سائنس کے مطابق زندگی ایک نہایت منظم حیاتیاتی نظام ہے۔ انسانی جسم کھربوں خلیات پر مشتمل ہے، ہر خلیہ مخصوص کیمیائی اور برقی تعاملات کے ذریعے اپنا کام انجام دیتا ہے۔ ڈی این اے معلومات کا ذخیرہ ہے، دماغ اعصابی نظام کے ذریعے شعور، یادداشت اور حرکات کو منظم کرتا ہے، اور دل زندگی کی روانی کو برقرار رکھتا ہے۔ اس زاویے سے زندگی نظم، توازن اور قوانینِ فطرت کی پابندی کا نام ہے۔ مگر سائنس یہاں آ کر رک جاتی ہے۔ وہ زندگی کے کیسے کو بیان کر دیتی ہے، مگر کیوں کا جواب نہیں دے پاتی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں وحی زندگی کی تصویر کو مکمل کرتی ہے۔ اسلام کے مطابق زندگی محض حیاتیاتی عمل نہیں بلکہ Divine امانت ہے۔ انسان کا جسم مٹی سے بنا ہے، مگر اس میں جو اصل زندگی ودیعت کی گئی وہ روح ہے، اور روح اللہ کے حکم سے ہے۔ جسم آلہ ہے، روح حقیقت۔ شعور، اخلاق، ذمہ داری اور ارادہall اسی روح کے مظاہر ہیں۔ اس طرح اسلام زندگی کو جسم اور روح کے باہمی ربط کے طور پر دیکھتا ہے، جہاں مادہ خدمت میں ہے اور روح قیادت میں۔
مولانا جلال الدین رومی اسی حقیقت کو اپنی مخصوص روحانی زبان میں بیان کرتے ہیں۔ رومی کے نزدیک انسان اصل میں جسم نہیں بلکہ روح ہے، اور جسم محض ایک عارضی لباس۔ وہ انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ اگر تم نے خود کو صرف جسم سمجھ لیا تو زندگی کا راز تم سے اوجھل رہے گا، اور اگر خود کو روح پہچان لیا تو زندگی بھی معنی پا لے گی اور موت بھی خوف سے آزاد ہو جائے گی۔ رومی کے ہاں زندگی کا اصل مقصد روح کا بیدار ہونا اور اپنے اصل سے آشنا ہونا ہے۔
جب ہم موت کی حقیقت پر غور کرتے ہیں تو سائنس اسے حیاتیاتی نظام کے خاتمے کے طور پر بیان کرتی ہے۔ دل کی دھڑکن رک جاتی ہے، دماغی سرگرمیاں ختم ہو جاتی ہیں اور جسم تحلیل کے عمل میں داخل ہو جاتا ہے۔ مگر فزکس کا بنیادی اصول ہمیں بتاتا ہے کہ توانائی نہ پیدا ہوتی ہے نہ فنا، بلکہ صرف اپنی شکل بدلتی ہے۔ ایٹمز ختم نہیں ہوتے، بلکہ کائنات کے دوسرے نظاموں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اس لحاظ سے موت عدم نہیں بلکہ تبدیلی ہے۔
وحی اس تبدیلی کو ایک بلند تر معنی عطا کرتی ہے۔ اسلام کے مطابق موت فنا نہیں بلکہ انتقال ہے ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہونا۔ جسم زمین کی طرف لوٹتا ہے اور روح اپنے خالق کی طرف۔ یہی وہ مقام ہے جہاں رومی کی فکر انتہائی وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ رومی موت کو اندھیرا یا اختتام نہیں کہتے بلکہ واپسی کہتے ہیں۔ ان کے نزدیک زندگی ہجرت ہے اور موت گھر لوٹنا۔ اسی لیے وہ موت کو شبِ عروس وصال کی رات کہتے ہیں، وہ رات جب روح اپنے محبوبِ حقیقی سے ملتی ہے۔
یہ تصور مغربی فکر میں کارل یونگ کے آخری خیالات سے بھی ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے۔ یونگ اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں اس نتیجے پر پہنچا کہ موت محض حیاتیاتی انجام نہیں بلکہ انسانی شعور کی تکمیل ہے۔ اس کے نزدیک موت کا خوف دراصل نامکمل زندگی کا خوف ہے۔ جو انسان اپنی ذات کے اندرونی معنی کو پا لیتا ہے، وہ موت سے نہیں گھبراتا۔ یونگ یہ تسلیم کرتا ہے کہ شعور محض دماغی کیمیا تک محدود نہیں بلکہ اس میں ایک ایسی گہرائی ہے جو مادی تشریح سے ماورا محسوس ہوتی ہے۔ یہاں یونگ کی فکر، اگرچہ وحی کی زبان استعمال نہیں کرتی، مگر اسی سچائی کی طرف اشارہ کرتی ہے جسے دین روح کہتا ہے۔
سائنس، یونگ اور رومی تینوں اپنے اپنے دائرے میں ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں: انسان محض جسم نہیں۔ فرق صرف زبان اور زاویے کا ہے۔ سائنس جسم کے قوانین بیان کرتی ہے، یونگ نفسیاتی معنی تلاش کرتا ہے، اور رومی روح کی اصل منزل دکھاتے ہیں۔
شعور کے باب میں بھی یہی فرق نمایاں ہوتا ہے۔ نیورو سائنس دماغ کے افعال بیان کر سکتی ہے، مگر محبت، دعا، ضمیر، قربانی اور حق و باطل کے شعور کی اصل حقیقت آج بھی مادی تشریح سے آگے ہے۔ اسلام شعور کو روح سے وابستہ قرار دیتا ہے، اور رومی اسی شعور کو عشق کا نام دیتے ہیںوہ عشق جو انسان کو خودی سے نکال کر حقیقت کی طرف لے جاتا ہے۔
اسلام کے مطابق زندگی اتفاقیہ نہیں بلکہ مقصد کے تحت ہے۔ انسان کو پہچان، آزمائش، اخلاقی ارتقا اور بالآخر ملاقاتِ الہی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ سائنس زندگی کے وسائل اور قوانین بتاتی ہے، مگر سمت وحی متعین کرتی ہے، اور رومی اس سفر کو محبت کے ساتھ طے کرنے کا طریقہ سکھاتے ہیں۔
اگر زندگی اور موت کو سائنس، وحی اور روحانی بصیرت تینوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو ایک متوازن تصویر سامنے آتی ہے۔ سائنس کہتی ہے کہ کچھ بھی ضائع نہیں ہوتا۔ وحی کہتی ہے کہ کچھ بھی بے معنی نہیں۔ رومی کہتے ہیں کہ کچھ بھی جدا نہیں ہوتاسب اپنے اصل کی طرف لوٹتا ہے۔زندگی ایک امانت ہے۔موت ایک دروازہ ہے اور اصل حقیقت وہ ہے جو اس دروازے کے بعد منکشف ہوتی ہے۔یوں سائنس قوانین سمجھاتی ہے، وحی ان قوانین کے معنی، اور رومی انسان کو اس معنی کے ساتھ جینے اور مرنے کا ہنر سکھاتے ہیں۔
بندہ مومن یہ حقیقت جاننے کے بعد موت سے گھبراتا نہیں جیسے مولانا روم نے اپنے وصال و شب عروس یعنی ملاقات خدا کو بطور تسلیم و رضا کے تہوار کے طور منانے کی وصیت جو آج تک قائم ہے۔ دسمبر مین اس دفعہ تقریب وصال شب عروس گزشتہ سال بنائی گئی جو 753سالہ تقریب تھی۔ جس میں لاکھوں لوگ دنیا بھر سے شرکت کرتے ہیں۔
