پاکستان میں ریاست اور شہری کے تعلق کی کہانی صرف قوانین سے نہیں بلکہ زبان سے بھی لکھی گئی ہے۔ وہ زبان جو تھانے کی دہلیز پر داخل ہوتے ہی شہری کے لہجے میں لرزش پیدا کر دیتی ہے۔ برسوں سے ایک عام پاکستانی جب پولیس کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے آپ کو حق مانگنے والا شہری نہیں بلکہ رحم کا طلبگار سمجھنے لگتا ہے۔ اسی ذہنیت کا پہلا مظہر درخواست کا وہ جملہ ہے جو برسوں سے بغیر سوچے سمجھے لکھا جاتا رہا۔ بخدمت جناب ایس ایچ او۔ یہ الفاظ بظاہر احترام کے ہیں مگر درحقیقت غلامی کی ایک مکمل داستان اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اب اسی ذہنیت کو للکارا ہے۔ جسٹس صلاح الدین پنہور کا تحریر کردہ فیصلہ محض الفاظ کی اصلاح نہیں بلکہ ریاستی رویے کی اصلاح کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ یہ فیصلہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پولیس کا افسر حاکم نہیں بلکہ خادم ہے اور شہری رعایا نہیں بلکہ ریاست کا اصل فریق ہے۔عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ پولیس کو درخواستوں میں بخدمت جناب ایس ایچ او لکھنے پر پابندی ہوگی۔ اب صرف جناب ایس ایچ او لکھا جائے گا۔ یہ بظاہر ایک معمولی تبدیلی لگتی ہے مگر حقیقت میں یہ نوآبادیاتی سوچ کے خلاف ایک علامتی بغاوت ہے۔ برطانوی دور میں افسر کو بالا دست اور عوام کو محکوم رکھنے کے لیے جو زبان تخلیق کی گئی تھی وہ آج بھی ہمارے اداروں میں زندہ ہے۔ عدالت نے اسی زندہ لاش کو دفنانے کی کوشش کی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ایس ایچ او عوام کا خادم ہے عوام اس کے نوکر نہیں۔ یہ ایک جملہ نہیں بلکہ ایک آئینی اصول کی یاد دہانی ہے۔ آئین شہری کو ریاست کا مالک قرار دیتا ہے مگر عملی طور پر یہی شہری تھانے میں داخل ہوتے وقت خود کو کمتر محسوس کرتا ہے۔ اس احساسِ کمتری کو سب سے پہلے زبان کے ذریعے ختم کرنا ضروری تھا اور سپریم کورٹ نے یہی کیا ہے۔
عدالت نے ایک اور نہایت اہم نکتہ اٹھایا کہ ایف آئی آر درج کروانے والا شہری فریادی نہیں بلکہ اطلاع دہندہ ہوگا۔ لفظ فریادی اپنے اندر رحم مانگنے کا تصور رکھتا ہے۔ جیسے کوئی مظلوم کسی طاقتور کے سامنے فریاد کر رہا ہو۔ جبکہ جرم کی اطلاع دینا شہری کا بنیادی حق اور ریاست پر ایک ذمہ داری ہے۔ شہری کسی سے بھیک نہیں مانگ رہا بلکہ قانون کو حرکت میں لا رہا ہے۔
اسی طرح عدالت نے واضح کیا کہ کمپلیننٹ کی اصطلاح صرف نجی فوجداری شکایات تک محدود ہے۔ پولیس کارروائی میں نہ کمپلیننٹ ہوگا اور نہ فریادی۔ یہ الفاظ شہری اور ریاست کے تعلق کو غیر متوازن کرتے ہیں۔ عدالت نے ان الفاظ کو مسترد کر کے شہری کو نفسیاتی طور پر بااختیار بنانے کی کوشش کی ہے۔
فیصلے کا سب سے سخت اور عملی پہلو ایف آئی آر میں تاخیر سے متعلق ہے۔ سپریم کورٹ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر ناقابلِ قبول ہے۔ پولیس افسران کو سخت وارننگ دی گئی ہے کہ اگر بلاجواز تاخیر ہوئی تو ان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 201 کے تحت مقدمہ بن سکتا ہے۔
یہ ایک غیر معمولی بات ہے کیونکہ پاکستان میں ایف آئی آر میں تاخیر کو ہمیشہ ایک معمول سمجھا گیا۔ کبھی کہا گیا کہ تفتیش ہو رہی ہے کبھی کہا گیا کہ افسر موجود نہیں اور کبھی معاملہ صلح کی طرف دھکیل دیا گیا۔ اس تاخیر کا سب سے بڑا نقصان شواہد کو ہوتا ہے اور پھر انصاف صرف کاغذوں میں رہ جاتا ہے۔
عدالت نے نشاندہی کی ہے کہ ایف آئی آر میں تاخیر سے شواہد ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے اور ریاستی نظام پر اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ یہ جملے دراصل پورے نظامِ انصاف پر ایک فردِ جرم ہیں۔ ایک ایسا نظام جو شہری کو انصاف دینے کے بجائے اسے انتظار کی اذیت میں مبتلا رکھتا ہے۔
یہ فیصلہ ہمیں یہ بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ مسئلہ صرف پولیس کا نہیں بلکہ پورے ریاستی رویے کا ہے۔ جب تک افسر خود کو حاکم اور شہری کو محکوم سمجھے گا انصاف ایک خواب ہی رہے گا۔ زبان اس رویے کی سب سے پہلی علامت ہوتی ہے۔ عدالت نے زبان بدل کر رویہ بدلنے کی بنیاد رکھ دی ہے۔
تاہم اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ فیصلہ کتنا خوبصورت ہے سوال یہ ہے کہ کیا تھانوں کا ماحول بدلے گا۔ کیا ایس ایچ او خود کو واقعی عوام کا خادم سمجھے گا۔ کیا شہری بغیر خوف کے ایف آئی آر درج کروا سکے گا۔ کیا محرر کے رویے میں وہی تکبر رہے گا یا اس میں بھی کوئی تبدیلی آئے گی۔
پاکستان کی عدالتی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اچھے فیصلے اکثر کمزور عملدرآمد کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اگر اس فیصلے کو پولیس ٹریننگ، سرکاری فارمز اور عملی رویوں کا حصہ نہ بنایا گیا تو یہ بھی ایک حوالہ بن کر رہ جائے گا۔اس کے باوجود یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سپریم کورٹ نے کم از کم سمت درست کر دی ہے۔ اس نے واضح کر دیا ہے کہ ریاست کا مزاج بدلنا ہوگا۔ شہری کو فریادی نہیں بلکہ حق دار ماننا ہوگا۔ پولیس کو طاقت کی علامت نہیں بلکہ خدمت کی علامت بننا ہوگا۔
بعض اوقات بڑی تبدیلیاں نعروں سے نہیں بلکہ الفاظ سے شروع ہوتی ہیں۔ بخدمت جناب سے جناب تک کا سفر دراصل غلامی سے شہریت تک کا سفر ہے۔ اگر یہ سفر طے ہو گیا تو شاید ہم ایک دن یہ کہہ سکیں کہ پاکستان میں ریاست واقعی عوام کے لیے ہے اور عوام واقعی اس ریاست کے مالک ہیں۔
یہ فیصلہ اگر فائلوں سے نکل کر تھانوں کی دہلیز تک پہنچ گیا تو یہ محض پولیس اصلاح نہیں ہوگی بلکہ ریاست کے مزاج میں ایک خاموش انقلاب ہوگا۔ وہ دن واقعی تاریخ کا حصہ بنے گا جب شہری تھانے میں داخل ہو کر سر جھکا کر فریاد نہیں کرے گا بلکہ سر اٹھا کر قانون کو متحرک کرے گا۔ جب ایس ایچ او کرسی پر بیٹھا ہوا حاکم نہیں بلکہ کھڑا ہوا خادم ہوگا۔ جب ایف آئی آر کسی احسان کے طور پر نہیں بلکہ حق کے طور پر درج ہوگی۔ اگر ایسا ہو گیا تو سمجھ لیجیے کہ پاکستان نے نوآبادیاتی غلامی کے آخری سائے بھی جھاڑ دیے۔ اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو یہ فیصلہ بھی ہماری عدالتی تاریخ کے ان خوبصورت مگر بے اثر فیصلوں میں شامل ہو جائے گا جنہیں پڑھ کر داد تو دی جاتی ہے مگر عمل کے وقت فراموش کر دیا جاتا ہے۔ اصل سوال یہی ہے کہ ریاست فیصلہ مانتی ہے یا صرف سن لیتی ہے۔
