مصنوعی ذہانت انسان کی تخلیق کا ایک آلہ ہے جو کبھی علمِ الٰہی کا تقابل نہیں کرسکتا۔ کوئی مشین اللہ کے علم سے برتر کبھی نہیں ہو سکتی۔
مصنوعی ذہانت (AI) ہمارے دور کا ایک اہم اور متنازع موضوع بن چکی ہے۔ کچھ لوگ اسے انسانی ترقی کی معراج سمجھتے ہیں، جبکہ بعض اسے انسانیت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ اسلامی نقطہ نظر سے اس بحث کو ایک بلند اور واضح فریم میں رکھنا ضروری ہے۔
اللہ کے مطلق اور کامل علم کا فریم۔قرآن ایک بنیادی حقیقت واضح کرتا ہے:اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔(النعام: 59)
یہ آیت خالق اور مخلوق کے درمیان حد متعین کر دیتی ہے۔ اللہ کا علم لامحدود، ازلی اور مستقل ہے، جبکہ انسان اور مشین کا علم محدود، حاصل شدہ اور محتاج ہے۔ کوئی بھی مصنوعی یا فوق الذہانت علمِ الٰہی سے برتر نہیں ہو سکتا۔مصنوعی ذہانت نہ شعور رکھتی ہے، نہ ارادہ، نہ اخلاقی احساس۔ یہ انسانی دماغ کی طرح سوچتی نہیں بلکہ ڈیٹا اور الگورتھمز کے ذریعے نتائج پیدا کرتی ہے۔ انسان کا شعور محض معلومات نہیں بلکہ روح، اختیار، اخلاق اور جواب دہی سے جڑا ہوا ہے۔
قرآن کہتا ہے:اور تم سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دو روح میرے رب کے حکم سے ہے، اور تمہیں علم بہت ہی تھوڑا دیا گیا ہے۔(السرا: 85 )
AIکے پاس روح نہیں۔جدید AI کی بنیادیں صدیوں پرانے علمی کام پر قائم ہیں۔ عظیم مسلم عالم محمد بن موسی الخوارزمی نے الجبرا اور حساب کے اصول وضع کیے، جن پر آج کی کمپیوٹنگ کھڑی ہے۔ لفظ Algorithm بھی انہی کے نام سے نکلا ہے۔قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے:اس نے انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔(العلق: 5)
تمام علم بالآخر اللہ کی عطا ہے۔AI ایک مددگار ہے، حاکم نہیں۔ جیسے کمپیوٹر، گاڑیاں، ہوائی جہاز اور دیگر ایجادات انسان کی خدمت کے لیے ہیں، ویسے ہی AI بھی ہے۔ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، انسان کا اخلاقی رویہ ہے۔اللہ فرماتا ہے:وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں نائب بنایا۔(فاطر: 39)
اگر کبھی کوئی ٹیکنالوجی آزمائش بنے، تو وہ اللہ کے اذن سے ہوگی انسانی سرکشی کے نتیجے میں۔ قرآن سابقہ قوموں کا ذکر کرتا ہے:اور ہم نے ان بستیوں کو ہلاک کیا جب انہوں نے ظلم کیا۔(الکہف: 59)
قومِ لوط، فرعون اور نمرود کی تباہی ٹیکنالوجی کی وجہ سے نہیں بلکہ سرکشی، ظلم اور انکارِ حق کی وجہ سے ہوئی۔میری رائے ہے کہ AI ایک بڑی سہولت ہے، اگر اسے مثبت، اخلاقی اور ذمہ دارانہ طور پر استعمال کیا جائے۔ خوف تب پیدا ہوتا ہے جب انسان اللہ کو نظر انداز کر دیتا ہے۔قرآن فرماتا ہے:اللہ ہر چیز کو اپنے علم میں گھیرے ہوئے ہے۔(الطلاق: 12 )
AI ہرگز ایسا نہیں کر سکتی۔اختتامیہ مصنوعی ذہانت ایک اعلیٰ درجے کا انسانی آلہ ہے، مگر علمِ الٰہی کا مقابل نہیں۔ یہ اللہ کی عطا کردہ انسانی عقل کا نتیجہ ہے اور اسی کی مقرر کردہ حدود میں کام کرتی ہے۔ AI ہماری خدمت کر سکتی ہے، مگر کبھی ہمارا یا اللہ کا متبادل نہیں بن سکتی۔ جب تک انسان عاجزی، اخلاق اور ایمان کے ساتھ جڑا رہے گا، AI ہمیشہ خادم رہے گی، حاکم نہیں۔
