Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

بلوچستان میں فتنہ ہندوستان کی عبرتناک شکست

یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ بھارتی ریاستی عناصر دہشت گردی اور لسانی تعصب کے ہتھیاروں سے پاکستان کے وجود کو پارہ پارہ کرنے کے درپے ہیں۔ بلوچستان اور کے پی صوبوں میں جاری دہشت گردی کی لہر کی جڑیں افغانستان کے راستے ہندوستان تک جاتی ہیں۔ گزشتہ جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب کالعدم دہشت گرد تنظیم بی ایل اے نے پورے صوبے میں بیک وقت حملے کر کے ریاست کی گرفت اور وجود کو متزلزل کرنے کی ناپاک جسارت کی۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ ریاست دشمن عناصر کو صفحہ ہستی سے مٹا کر دفاعی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنا مقدس فریضہ کامیابی سے انجام دیا۔ یہ معرکہ حق کے بعد بھارت کی ایک اور تاریخی شکست ہے۔ بلوچستان بھر میںبی ایل اے کے دہشت گرد حملے ناکام ہوجانے اور سیکورٹی فورسز کا موثر کنٹرول برقرار ہونے کے بعد بھارت اور اس کے پروردہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں میں صف ماتم بچھی ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کی جانب سے کئے گئے کمزور اور ناقص منصوبہ بندی پر مبنی حملوں کی بڑی لہر کو سیکورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا۔ حملہ آوروں نے اس مہم کو ہیروف 2.0 کا نام دیا تھا، تاہم پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے ہر مقام پر فوری ردِعمل دیتے ہوئے دہشت گردوں کو ہلاک یا پسپا کر دیا اور چند گھنٹوں میں صورتحال مکمل طور پر قابو میں لے لی۔
یہ حملے فتنہ الہندوستان (FAH) کی جانب سے کئے گئے، جو بی ایل اے کا ایک غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک ہے۔ FAHسے منسلک پروپیگنڈہ پلیٹ فارمز اور بھارتی میڈیا کی جانب سے کئے گئے دعوئوں کے برعکس، یہ حملے کوئی بھی منفی اثر ڈالنے میں ناکام رہے۔کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ میں دہشت گردوں نے پولیس وین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ پولیس اہلکاروں نے فوری جوابی فائرنگ کی جبکہ فرنٹیئر کور کے دستوں نے بروقت کمک پہنچائی۔ کارروائی کے نتیجے میں چار دہشت گرد ہلاک ہوئے اور علاقہ مکمل طور پر کلیئر کر لیا گیا۔نوشکی میں دہشت گردوں نے ایف سی ہیڈکوارٹر پر فائرنگ کی، تاہم مستعد اہلکاروں نے بھرپور جوابی کارروائی کی جس کے باعث حملہ آور بغیر کوئی نقصان پینچائے فرار ہو گئے۔ دالبندین میں ایف سی ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی جہاں کم از کم دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ سیکورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع کی، جبکہ کلیئرنس آپریشن کے دوران صورتحال قابو میں رہی۔ قلات میں دہشت گردوں نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر اور پولیس لائنز کو نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کی، جس کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ سیکورٹی فورسز نے موثر جواب دیتے ہوئے حملہ آوروں کو نقصان پہنچایا اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روک دیا۔پسنی میں پاکستان کوسٹ گارڈز کی تنصیب پر دور سے فائرنگ کی کوشش کی گئی جبکہ گوادر میں ایک مزدور بستی کو نشانہ بنایا گیا۔ دونوں مقامات پر پولیس اور ایف سی کی بروقت کارروائی سے حملے ناکام بنا دئیے گئے۔اسی طرح بالیچہ، تمپ، مستونگ اور خاران میں سیکورٹی چوکیوں پر گرنیڈ اور دور سے فائرنگ کے حملے کئے گئے، جنہیں مکمل طور پر پسپا کر دیا گیا۔سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ بلوچستان بھر میں مجموعی صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔ کسی بھی اسٹریٹجک تنصیب کو نقصان نہیں پہنچا۔یہ حملے حالیہ انسدادِ دہشت گردی کی ان کارروائیوں کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں بلوچستان بھر میں 50 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے گئے تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ حملے دہشت گرد گروہ کی جانب سے بھاری نقصانات کا ازالہ کرنے کی ایک ناکام اور مایوس کن کوشش تھی، جو ایک بار پھر بری طرح ناکام ہو گئی۔ان حملوں کی ذمہ داری بشیر زیب بلوچ، اللہ نذر اور جلا وطن ہر بیار مری پر عائد کی جا رہی ہے، جو پاکستان سے باہر، بالخصوص افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں سے سرگرم ہیں۔
بی ایل اے اور بی ایل اے ایف پاکستان میں کالعدم دہشت گرد تنظیمیں ہیں، جبکہ بی ایل اے کو امریکا نے بھی غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ سیکورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق بی ایل اے کی قیادت بیرونِ ملک محفوظ ہے، جبکہ بلوچ نوجوانوں کو خودکش حملوں اور براہِ راست جھڑپوں جیسے انتہائی خطرناک مشنز میں دھکیلتی رہتی ہے، جس کے نتیجے میں ان کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ ناکام حملوں، اندرونی اختلافات اور دھڑوں کی لڑائیوں میں مارے جانے والوں کو بعد ازاں بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک پروپیگنڈہ نیٹ ورکس )BYC اور BNM (کی جانب سے گمشدہ افراد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ تنظیم کی جانب سے مزدور بستیوں اور مخلوط آبادی والے علاقوں جیسے نرم اہداف کو نشانہ بنانا اس کے مجرمانہ چہرے کو مزید بے نقاب کرتا ہے اور بلوچ عوام کی نمائندگی کے دعوں کو جھوٹا ثابت کرتا ہے۔بڑھ چڑھ کر کئے گئے دعوئوں کے برعکس، ہیروف 2.0 کا انجام ناقص منصوبہ بندی، کمزور عملدرآمد اور سیکورٹی فورسز کے پیشہ ورانہ ردِعمل کی بدولت فوری شکست کی صورت میں سامنے آیا۔ حکام کے مطابق یہ مہم مسلح تشدد کے غیر موثر اور بلوچستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کی بڑھتی ہوئی مایوسی کو مزید نمایاں کررہی ہے۔
پاکستان کے ریاستی اداروں نے بلوچستان میں تمام شہریوں، بالخصوص کمزور طبقات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے بار بار یہ بیان کیا ہے کہ غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے ضروری اہداف کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔یہ پہلو قابل غور ہے کہ اصل ذمہ داری بی ایل اے اور بی ایل اے ایف کی بیرونِ ملک مقیم دہشت گرد قیادت اور ان کے غیر ملکی سرپرستوں پر عائد ہوتی ہے، جن کی کارروائیاں بلوچ نوجوانوں کی جانیں لے رہی ہیں اور بلوچستان کے عوام کے لئے نہ کوئی بہتری لا رہی ہیں اور نہ ہی کوئی ریلیف۔ پاکستان دہشت گردی کے عفریت خلاف متحد ہے ۔

یہ بھی پڑھیں