Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

کرپٹو کرنسی، کاغذی کرنسی، دینار و درہم

پیسہ محض لین دین کا ایک ذریعہ نہیں، بلکہ اس بات کا آئینہ ہوتا ہے کہ کوئی معاشرہ قدر، اعتماد اور اخلاقی ذمہ داری کو کس طرح سمجھتا ہے۔ اسی لیے اسلام میں مال کو کبھی غیر جانبدار شے نہیں سمجھا گیا، بلکہ اسے امانت، آزمائش اور ذمہ داری قرار دیا گیا ہے تاکہ انسان کو ہر اس نظام سے بچایا جا سکے جو استحصال اور ناانصافی پر قائم ہو۔
انسانی تاریخ میں ہم نے بارٹر سسٹم سے دھاتوں (سونا اور چاندی: دینار و درہم)، پھر کاغذی کرنسی، اور اب ڈیجیٹل اقدار تک کا سفر طے کیا ہے۔ آج عالمی سطح پر تین نمایاں مالی نظام موجود ہیں: سونا، کاغذی(سرکاری)کرنسی، اور کرپٹو کرنسیاں۔
اسلامی نقط نظر سے بنیادی سوال یہ نہیں کہ کون سا نظام زیادہ جدید یا زیادہ منافع بخش ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے: کون سا نظام عدل کو فروغ دیتا ہے، استحصال کو روکتا ہے، اور دولت کو چند ہاتھوں میں مرتکز ہونے سے بچاتا ہے؟
قرآن اسی اصول کو یوں بیان کرتا ہے: تاکہ مال تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔(سورۃ الحشر: 7)
1۔ دینار و درہم حقیقی قدر کا معیار‘ اسلامی معاشی فکر میں سونا اور چاندی محض دھاتیں نہیں بلکہ ثمنِ حقیقی (Real Money) ہیں۔ ان کی قدر کسی ریاستی اعلان یا سیاسی طاقت کی محتاج نہیں، بلکہ ان کی اندرونی قدر فطری اور آفاقی ہے۔ اسی وجہ سے کلاسیکی فقہِ اسلامی میں زکوٰۃ، ربا (سود) اور مالی معاملات کے واضح احکام دینار و درہم کے ساتھ وابستہ ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:سونے کے بدلے سونا، اور چاندی کے بدلے چاندی برابری اور فوری تبادلہ کے ساتھ ہوگی۔(صحیح مسلم)
یہ اصول واضح کرتا ہے کہ اسلام مالی معاملات میں انصاف، شفافیت اور استحصال سے بچائو کو بنیاد بناتا ہے۔سونے کی اسلامی خصوصیات‘اپنی ذاتی اور حقیقی قدر رکھتا ہے۔بے تحاشا پیدا نہیں کیا جا سکتا، اس لیے افراطِ زر محدود رہتی ہے عوام کے لیے قابلِ فہم اور شفاف دولت کے غیر فطری ارتکاز کو روکتا ہے۔
اسی بنا پر امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک سونا اور چاندی اصل معیارِ زر ہیں۔ تاہم عملی مشکلات‘ ذخیرہ، نقل و حمل اور سیکیورٹی کے مسائل جدید، تیز رفتار اور عالمی لین دین کے لیے غیر موزوں ڈیجیٹل معیشت سے مکمل ہم آہنگی نہیں یوں دینار و درہم اخلاقی طور پر مضبوط ہیں، مگر موجودہ دور میں عملی استعمال مشکل ہے۔
2۔ کاغذی کرنسی ضرورت کی معیشت‘ جدید کاغذی کرنسی (جیسے ڈالر، پائونڈ، یورو) کی کوئی اندرونی قدر نہیں۔ اس کی قیمت ریاستی ضمانت، قانون اور عوامی اعتماد پر قائم ہوتی ہے، اور یہ مکمل طور پر سرکاری کنٹرول سے جڑی ہوتی ہے۔
اسلامی زاویے سے اس نظام میں کئی سنجیدہ خدشات موجود ہیں: بلاحد کرنسی چھاپنے کی صلاحیت‘ افراطِ زر، جس کا سب سے زیادہ بوجھ غریب پر پڑتا ہے۔ سودی بینکاری سے گہرا تعلق قرض پر مبنی معیشت کا فروغ قرآن سود کے بارے میں نہایت سخت تنبیہ کرتا ہے اور سودی نظام کے خلاف اعلانِ جنگ کی وعید سناتا ہے:(البقرہ: )
اسی لیے بہت سے علماء کے نزدیک کاغذی کرنسی بذاتِ خود مثالی نظام نہیں، مگر یہ ایک مجبوری ہے۔ اسلام اسے مکمل طور پر رد کیوں نہیں کرتا؟ کیونکہ اسلام نظری ضرورت (Darura) کو تسلیم کرتا ہے۔ آج عالمی تجارت اسی پر قائم ہے ‘تنخواہیں اور روزمرہ لین دین اسی سے ممکن ہیں ‘ریاستی نظام اسی کے ذریعے چلتا ہے۔
اسی بنیاد پر مجمع الفقہ الاسلامی (OIC) اور دیگر فقہی اداروں نے اسے حالتِ ضرورت میں قابلِ استعمال قرار دیا، مگر سودی نظام پر تنقید برقرار رکھی۔ یوں کاغذی کرنسی عملی تو ہے، مگر اخلاقی طور پر کمزور۔
3۔ کرپٹو کرنسی امکان اور آزمائش‘ کرپٹو کرنسیاں حکومتوں کے بجائے ڈیجیٹل کوڈ، خفیہ کاری اور تقسیم شدہ نظام پر قائم ہیں۔ مرکزی بینکوں سے آزادی اور محدود رسد نے اسے ان افراد کے لیے پرکشش بنایا جو سودی مالی نظام کا متبادل تلاش کر رہے ہیں۔
ممکنہ مثبت پہلو‘بذاتِ خود سود پر مبنی نہیں‘ کئی کرپٹو کرنسیوں میں محدود رسد‘مرکزیت سے آزادی‘تکنیکی شفافیت‘یہ پہلو کسی حد تک سونے سے مشابہت رکھتے ہیں۔
لیکن بڑے شرعی خدشات‘شدید اتار چڑھائو‘ قیاس آرائی اور سٹہ بازی‘غرر(غیر یقینی)، کیونکہ اکثر صارفین نظام کو پوری طرح نہیں سمجھتے‘ میسر (جوا) جیسا عمومی رویہ اسی لیے معاصر علماء اور ادارے (جیسے دارالافتا مصر، دارالعلوم دیوبند وغیرہ) اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ: کرپٹو کرنسی بذاتِ خود حرام نہیں، مگر اس کا موجودہ عمومی استعمال اکثر شرعی اصولوں سے متصادم ہے۔
ایک جامع اسلامی اصول‘اسلام کسی نظام کو نہ محض قدامت کی بنیاد پر قبول کرتا ہے، نہ محض جدت کی بنیاد پر رد۔ وہ یہ بنیادی سوالات اٹھاتا ہے:کیا یہ عدل قائم کرتا ہے؟کیا کمزور کا تحفظ کرتا ہے؟کیا لالچ، جوا اور استحصال کو روکتا ہے؟
اس معیار پر:دینار و درہم اخلاقی معیار‘ کاغذی کرنسی عملی ضرورت‘کرپٹوکرنسی انفرادی کنٹرول کا امکان، مگر اخلاقی و عملی آزمائش‘حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ پیسہ نہیں، بلکہ انسان کی نیت، رویہ اور اخلاقی انتخاب ہے۔
اسلام ہمیں نظام بدلنے سے پہلے انسان سنوارنے کی دعوت دیتا ہے، اور پھر انسان کو ہر اس استحصالی نظام سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے جو عدل اور امانت کے خلاف ہو۔

یہ بھی پڑھیں