Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

چلتی کا نام گاڑی

صبح کی سیر بھی دلکشی کا ایک نمونہ ہے۔ اگر آپ اسلام آباد میں ہیں تو یہ تصویر اور بھی دلپذیر اور پر کیف بن جاتی ہے۔ بل کھاتے راستوں پر قدآور درختوں کے بیچ جب قدم اٹھتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے پتوں کی سرسراہٹ آپ سے چپکے چپکے کوئی بات کہ رہی ہو۔ مارگلہ کی پہاڑیوں سے اترتے ٹھنڈی ہوا کے نرم و نازک جھونکے صرف تن بدن کو نہیں بلکہ روح کو بھی سیراب کرتے ہیں۔ صبح کی ہلکی ہلکی سرخی میں پرندے اپنے گھروندے چھوڑ کر گیت گاتے آپ کے سر کے اوپر اڑتے دور آسمانوں پر کہیں کھو جاتے ہیں۔ کچھ پل کے لئے لگتا ہے جیسے انسان اپنے جھمیلوں اور الجھنوں سے دور کسی ایسے دیس میں آ نکلا ہے جہاں صرف ایک سرور، اطمینان اور شادمانی کا ڈیرہ ہے۔ اس دنیا کی آپ روزانہ سیر کریں تو آپ خود بھی اس کا حصہ بنتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ پیڑ، پودے ،ہوا آپ کے ہمراز بن جاتے ہیں۔ زندگی کی گہما گہمی اور گھٹن سے دور آکر آپ بھی ان سے باتیں کرنے لگ جاتے ہیں، اور دھیرے دھیرے آپ کی ذات سے جڑی فکریں اور تنائو کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
چہل قدمی کو ہم سرعت قدمی کہیں تو زیادہ بہتر محسوس ہو گاماہرین بتاتے ہیں کہ کم از کم تیس سے چالیس منٹ کا روزانہ تیز تیزچلنا صحت کے لئے انتہائی کارآمد ہے، یہ دورانیہ عمر اور صحت کے باقی پہلوئوں کے ساتھ ہر ایک کے لئے کم زیادہ ہو سکتا ہے۔ عموما ًیہ سمجھاجاتا ہے کہ ٹہلنا ، دوڑنا یا تیز رفتاری سے چلنا بس وزن کم کرنے کا ہی ایک نسخہ ہے اور یہ کام بس موٹاپے کے شکار افراد کو ہی کرنا چاہئے اور ان کو بھی تب تک چلتے اور دوڑتے رہنا چاہئے جب تک پسینہ سے شرابور اور جسم تھک کر چور نہ ہو جائے۔ جدید تحقیق آج ہمیں بتاتی ہے کہ سرعت قدمی سے چلنے یا ہولے ہولے بھاگنے ( جا گنگ) کی بھی ایک حد ہے اور ہر انسان اس کا اندازہ خود لگا سکتا ہے۔انسان جب تیز چلتا یا بھاگتا ہے تو ایک وقت آتا ہے کی سانس تیز تیز چلنا یا پھولنا شروع ہو جاتا ہے اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب قدم روک دینے چاہئے۔ قدرت نے انسان کا نظام بھی ایسا بنایا ہے کہ جب سانس پھولتا یا تھکاوٹ کا احساس جاگتا ہے تو جسم کے اس تنائو کو روکنے کے لئے ایک ہارمون( کارٹیسول) پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے جس کو سائنسی اصطلاح میں (Stress Hormone ( بھی کہا جاتا ہے۔اور یہی وہ ہارمون ہے جو جسم اور ذہن کے تنائو کو کم کرتا ہے۔ روزانہ چلنے والے لوگوں کے مزاج میں اسی لئے زیادہ شگفتگی اور ترو تازگی پائی جاتی ہے اور تنائوکی یہ کمی ہماری طبیعت کے علاوہ ہمیں اور بہت سی بیماریوں سے بچا کر رکھتی ہے۔
جہاں یہ ہارمون تنائو کو روکتا ہے وہیں اس کا ایک منفی کردار بھی سامنے آیا ہے کہ یہ جسم کی چربی کو جذب ہونے میں مدد بھی فراہم کرتا ہے اور یوں چربی جس کو زائل کرنے کے لئے انسان چل بھاگ رہا ہے وہ زائل ہونے کے بجائے مزید جذب ہو سکتی ہے۔ ہر روز کی حد سے زیادہ واک یا ورزش سے تنائو کے ہارمون کی مقدار مستقل زیادہ رہنے لگ جاتی ہے اور یہ ہارمون وزن گھٹانے کے بجائے وزن بڑھانے کا سبب بننے لگ جاتا ہے۔بھوک بڑھا دیتا ہے اور نظامِ انہظام کو متاثر کرتا ہے ، پٹھوں اور ہڈیوں کو کمزور کرتا ہے،قوتِ مدافعت کو نقصان پہنچاتا اور نیند کو متاثر کر سکتا ہے۔جسم میں شکر کی مقدار کو بڑھا کر ذیابیطس کے مرض کو پیچیدہ بنا سکتاہے ۔ لہٰذا اس ہارمون کو زیادہ بڑھنے سے روکنے کے لئے ضروری ہے کہ ہماری روزانہ کی واک حد سے تجاوز نہ کرنے پائے۔
چلنا پھرنا صرف وزن کم یا ہاضمے کے لئے ہی مفید نہیں بلکہ اس کے اور بھی فوائد ہیں۔ دل کے امراض سے بچنے کے لئے سرعت قدمی سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ روزانہ چلنے سے فشارِخون قابو میں رہتا ہے، جسم میں خون کا بہائو بہتر ہونے لگتا ہے جس سے پٹھوں میں درد اور سوزش کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ مفید کولیسٹرول (HDL) میں اضافہ اورمضر کولیسٹرول ((LDL میں کمی واقعہ ہوتی ہے۔جس سے دل کی مجموعی استعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ امریکہ کے معروف ماہر امراضِ قلب ڈاکٹر نیکا گولڈ برگ کامشورہ ہے کہ دل کی بہترین صحت کے لئے ہفتہ میں پانچ دن 40 سے 50 منٹ کی سرعت قدمی ضرور کریں۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جو لوگ دل کے کسی سنجیدہ عارضے میں مبتلا ہیں ان کو کسی بھی طرح کی چہل قدمی اپنے معالج سے مشورہ کر کے کرنی چاہئے۔
صبح کی سیر یا سرِشام چہل قدمی اب ایک کارِ متروکہ بنتی جا رہی ہے۔نوجوان نسل کے لئے سحر خیزی کسی ڈراوُنے خواب سے کم نہیں۔کبھی چہل قدمی کے لئے نکلیں تو کمر خمیدہ معمراور ادھیڑ عمر افراد زیادہ اور نوجوان کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ زندگی کی آسائشوں نے حرکت کو محدود کر دیا ہے۔کبھی انسان اپنے کاموں کے لئے دنیا میں گھومتا پھرتا تھا ، آج دنیا گھومتی ہوئی اس کے گھر آپہنچی ہے۔ ٹیکنالوجی کی ریل پیل سے زندگی سہل ہو گئی ہے، سیڑھیوں کی جگہ خود کار برقی زینے آگئے ہیں جو انسان کے اٹھتے قدموں کو بھی تھام لیتے ہیں ، کھیل کود اور ورزش کا بھی رجحان کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔اندھیری راتوں میں سڑکوں پر دندناتے خوراک گھر گھر پہنچاتے رائیڈرز اس بات کی شہادت دیتے نظر آتے ہیں کہ سونے جاگنے اور کھانے پینے کا کوئی وقت مقرر نہیں۔اس جمود نے انسان کو نفسیاتی اور جسمانی طور پر کئی عارضوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ چہل قدمی کے لئے باہر نہ نکلنے کے پیچھے ایک بڑی وجہ احساسِ عدم تحفظ بھی ہے۔ لوگ خود اور اپنے بچوں کو بھی باہر جا کر چلنے پھرنے سے روکتے ہیں کہ کہیں کسی واردات کا حصہ نہ بن بیٹھیں اور کوئی نقصان نہ اٹھالیں۔ خواتین میں یہ احساسِ عدم تحفظ اور بھی زیادہ ہے۔اس کو دور کرنے کی ذمہ داری جہاں متعلقہ اداروں کی ہے وہاں خود معاشرہ بھی اس میں حصہ ڈال سکتا ہے۔ ہم بازاروں اور تفریح گاہوں میں بھی تو گھومتے ہیں۔ اگر معاشرے کی بڑی تعداد چہل قدمی کو ایک لازمی ضرورت سمجھ لے اور واکنگ ٹریکس لوگوں سے بھرنے لگیں تو نہ صرف احساسِ عدم تحفظ ختم گا بلکہ نئے اور بہتر واکنگ ٹریکس بھی خود بخود بننے لگ جائیں گے۔
آج کل کا نوجوان جس کو ہم ذی نسل بھی کہتے ہیں بلا شبہ کئی حوالوں سے بہت باصلاحیت، قابل اور مستعد ذہن کا حامل ہے۔ اس کے سیکھنے اور آگے بڑھنے کی رفتار بھی حیران کن ہے لیکن ٹیکنالوجی کی دنیا میں نشوو نما پاتی یہ نسل جسمانی طور پر سست اور کاہل سی ہوتی جا ر ہی ہے ۔نوجوان اب کم عمری ہی سے بے حرکت ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ طرزِ زندگی نوجوانوں میں موٹاپا، بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دل کے امراض بڑھنے کا سب سے بڑا سبب بن رہا ہے۔ زندگی متحرک بنانے کے ساتھ ساتھ صحت مند غذا کا صحیح استعمال ہی ہمیں تندرست رکھ سکتا ہے۔
آیئے چلنے کی عادت ڈالیںاور خود کو متحرک رکھیں کہ حرکت ہی زندگی ہے اور چلتی کا نام ہی گاڑی ہے۔صبح ہو چکی ہے ۔ افق سے ابھرتی خوش رنگ کرنیں ہمیں بلا رہی ہیں، ہوا ہولے ہولے تھپتھپا رہی ہے اورپرندے اپنی کلکاریوں سے ہمیں جگا رہے ہیں، آئیے چلیں اور اپنے قدم اس یقین سے اٹھائیں کہ یہ قدم ہمیںذہنی و جسمانی آسودگی کی منزلوں سے ضرور ہمکنار کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں