اسلامی علمِ اشراطِ ساعت کی روشنی میں ایک اخلاقی تجزیہ۔
ایپسٹین کےجزیرے سے جڑی فضا نے جدید دنیا کو گہرے صدمے سے دوچار کیا ہے صرف جرم کی نوعیت کی وجہ سے نہیں بلکہ ان ناموں کی سطح اور طاقت کے سبب جو اس کے گرد گردش کرتے نظر آتے ہیں: سیاسی، مالی اور ثقافتی اشرافیہ، وہ افراد جو طویل عرصے تک خود کو احتساب سے بالاتر سمجھتے رہے۔
کچھ لوگوں کے لیے یہ ایک قانونی اور سیاسی اسکینڈل ہے۔کچھ کے لیے تہذیبی ضمیر کے انکشاف کا لمحہ۔اور اسلامی علمِ اشراطِ ساعت کے زاویے سے یہ ایک گہری فکری دعوت ہے۔
آخری ادوار سے پہلے فتنہ کا انداز‘اسلامی روایت تاریخ کے آخری مراحل کو اچانک قیامت نہیں بلکہ اخلاقی زوال کے تدریجی عمل کے طور پر بیان کرتی ہے ایسا زمانہ جب فساد معمول بن جاتا ہے، طاقت گناہ کی حفاظت کرتی ہے، اور سچ اثر و رسوخ کے نیچے دفن ہو جاتا ہے۔
ان روایات میں سب سےنمایاں ذکر المسیح الدجال کا ہے۔ صحیح احادیث کے مطابق وہ ایک طویل عرصہ پوشیدہ رہے گا۔جزیرے اورقید کے تصور سے جڑا ہوگا۔تلوار سے نہیں بلکہ فریب سے غالب آئے گا۔لوگوں کو شہوات کے ذریعے پھنسائےگا۔پہلے اشرافیہ اس کے ساتھ ہوگی، پھر عوام۔غیر معمولی رفتار،کنٹرول اوردھوکےکےساتھ ظاہر ہوگا۔ یہاں نکتہ واضح ہے: دجال تلوار سے نہیں، اخلاقی سمجھوتوں اور سرابوں سے فتح حاصل کرتا ہے۔
جزیرہ: راز داری کی علامت‘نبی ﷺ کی ایک معروف روایت (صحیح مسلم)میں ایک دور افتادہ جزیرے پر ایک مقید شخص کا ذکر آتا ہے، جسے بعد میں دجال کہا گیا۔ صدیوں سے علماء نے اس جزیرے کو احتساب سے کٹی ہوئی جگہ کی علامت سمجھاجہاں نہ قانون پہنچتا ہے، نہ عوامی نظر۔
ایساجزیرہ جو دور، محفوظ اور عام نگرانی سے باہر ہو یہ سب، راز داری کے اسی علامتی نمونےکی یاددلاتا ہے۔ مقصد فیصلہ سنانا نہیں، بلکہ غور و فکر کی دعوت دینا ہے۔ آخرالزمانی روایات میں جزیرہ محض جغرافیہ نہیں، بلکہ اخلاقی تنہائی ہے جہاں طاقت خود کو بے خوف سمجھتی ہے۔
شرکا طریق کار: پہلے طاقت ور، پھر باقی‘اسلام ہمیں بتاتا ہےکہ شیطان کمزوروں سے نہیں، بلکہ بااثر لوگوں سے آغاز کرتا ہے: (الاعراف: 17 )
اس اسکینڈل سے فساد کا ایک جانا پہچانا طریقہ سامنے آتا ہے:غیر اخلاقی خفیہ نیٹ ورک کی تشکیل‘اختیار رکھنے والوں کو ہدف بنانا‘ مشترکہ گناہ کے ذریعے بندھن‘باہمی بلیک میلنگ سے خاموشی‘طاقت کو انصاف کےخلاف ڈھال بنانا‘ یہ نیا نہیں؛ نیا یہ ہے کہ پردہ اٹھ رہا ہے۔
ظہور سے پہلے انکشاف: قرآنی سنت‘علمِ اشراط میں ایک نظرانداز شدہ حقیقت یہ ہے کہ بڑی فتنہ انگیزی سے پہلے انکشاف ہوتا ہے۔
فرعون سے پہلے اس کی درباری اشرافیہ بےنقاب ہوئی، جھوٹے مدعیوں سے پہلے ان کے جھوٹ ظاہر ہوئے،اور دجال کے حتمی ظہور سے پہلے نظام اندر سے سڑتا ہے کھلے عام۔
قرآن کہتا ہے:(الانفال: 37 )
اس زاویے سے عالمی اسکینڈلز شر کی طاقت نہیں بلکہ اس کے بکھرا کی علامت ہیں۔
رفتار،کنٹرول اور ٹیکنالوجی کا کردار، احادیث دجال کو غیرمعمولی رفتار،وسائل پر اختیار، ادراک میں خلل اورحقیقت و فریب کےامتزاج سےجوڑتی ہیں۔
آج کےدورمیں مصنوعی ذہانت،ڈیجیٹل نگرانی،ڈیپ فیکس اورنفسیاتی اثراندازی کی الگور تھمز ایسےاوزار مہیا کرتےہیں جو سچ اورجھوٹ گھڑ سکتے ہیں،بیانیہ لمحوں میں بدل سکتے ہیں‘خوف اورخواہش کو وسیع پیمانے پرپھیلا سکتے ہیں،حقیقت اوروہم کی حدمٹا سکتے ہیں۔
آج کےزمانے میں ہماری تصاویر بنائی جاسکتی ہیں،ہماری آوازیں استعمال ہو سکتی ہیں بغیر ہمارےعلم یا رضامندی کے یہ فتنہ کی ایک نئی جہت ہےجس سے پہلے زمانے ناواقف تھے۔ اسلام اوزاروں کی مذمت نہیں کرتا مگر خبردار کرتا ہے: جب اوزارحق کے بجائے فریب کے لیے استعمال ہوں، تو وہ فتنہ بن جاتے ہیں۔
کیایہ دجال کا قطعی ثبوت ہے؟ اسلامی منہج محتاط ہے:کوئی ایک واقعہ قطعی دلیل نہیں بنتا۔اہم بات دعوی نہیں بلکہ نمونوں کی پہچان ہے:اخلاقی نسبیت،خواہشات کی پرستش، اشرافیہ کی حصانت،حیا کا زوال،حق و باطل کی آمیزش،جب یہ غالب ہوں، زمین ہموار ہوتی ہے۔
اصل سوال:کون محفوظ رہےگا؟سبق یہ نہیں کہ دجال کب آئے گابلکہ یہ کہ کون محفوظ رہےگا۔
نبی ﷺ نےحفاظت کے اسباب بتائے: اخلاقی بصیرت، تواضع،علم،ظاہر و باطن میں امانت، طاقت کے بدلے ضمیر نہ بیچنا، سورۃ کہف کی سمجھ اور تلاوت،احادیث کے مطابق دجال کے پیروکاراکثرجاہل نہیں ہوں گے؛ وہ تعلیم یافتہ، بااثر اورخود کو روشن خیال سمجھنے والے بھی ہونگے۔
آخری تمل،ایپسٹین کے انکشافات محض جرم نہیں بلکہ شر کے نیٹ ورکس کے طریق کار، طاقت کےذریعے گناہ کے تحفظ، اور غرور کے ناگزیر انہدام کی کہانی ہیں۔ چاہے اسے آخری زمانے کی علامت سمجھا جائے یا اخلاقی انتباہ نتیجہ ایک ہے:جب فساد ادارہ جاتی ہو جائے، تو انکشاف ناگزیر ہو جاتا ہے۔طاقتوروں کے چھپے گناہوں کا دور ختم ہو رہا ہے۔آگے آنے والا امتحان ٹیکنالوجی کا نہیں،بلکہ انسانی ضمیر کا ہوگا۔
